Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اِنْ تَرَكَ تَرَكَ خَیْرَاﰳۚۖ الْوَصِیَّةُ  (پ ۲،البقرہ ،۱۸۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے۔

میں اسے خیر کے نام سے موسوم کیا ہے اور اس کے ذریعے اپنے بندوں پر احسان فرمایا۔

{76}…ایک اور روایت میں ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قریب ہے کہ فقر کفر ہو جائے۔ ‘‘       (شعب الایمان، باب فی الحث علی ترک الغلالخ،الحدیث:  ۶۶۱۲،ج۵،ص۲۶۷)

دنیوی اور دینی فوائد:

                اس کے دنیوی فوائد تو ظاہر ہیں اور دینی فوائد میں سے سب سے اہم ترین عبادت کا حصول مال کے بغیر ممکن نہیں جیسے حج و عمرہ ا ور مال ہی کے ذریعے عبادات پر قوت حاصل ہوتی ہے مثلاً کھانے، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا حصول وغیرہ کیونکہ دین کی خدمت کے لئے وہی شخص فراغت پا سکتا ہے جو ان امور میں باکفایت ہو حالانکہ  (یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ)

 عبادت کا حصول جن چیزوں پر موقوف ہو وہ بھی عبادت ہی ہوتی ہیں جبکہ جو مال ضرورت سے زائد ہو وہ دنیا کا حصہ ہے۔

 (۲) …دینی فوائد میں سے ایک فائدہ صدقہ کرنا بھی ہے، اس کے فضائل مشہور ہیں اور میں نے اس کے بارے میں ایک کتاب بھی تالیف کی ہے۔

 (۳) …اسی طرح اغنیاء کے لئے تحائف اور مہمان نوازی باعثِ فضیلت ہے۔ ان دونوں کے بھی بہت سے فضائل ہیں ، نیز ان سے دوستیاں بڑھتی ہیں ، سخاوت کی صفت حاصل ہوتی ہے یا شاعر یا بے دین سے عزت کی حفاظت ہوتی ہے۔

{77}…ایک اور روایت میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس مال کے ذریعے عزت بچائی جا ئے وہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘                  (سنن دار قطنی،کتاب البیوع،الحدیث:  ۲۸۷۲،ج۳،ص۳۳)

 (۴) …جو شخص تمہارے کام وغیرہ نپٹاتا ہو اس کی اجرت بھی مال ہی سے ادا ہو سکتی ہے کیونکہ اگر تم خود وہ کام سرانجام دیتے تو تمہارے اخروی مصالح فوت ہو جاتے اس وجہ سے کہ تم پر جو علم و عمل اور ذکر و فکر لازم ہے وہ دوسرے کسی شخص سے پورا ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا تمہارا دوسرے کاموں میں وقت صرف کرنا فساد ہی ہے۔

 (۵) …عام خیرکے کام مثلاً مسجد بنانا، قلعے یا پل بنانا، راستوں پر پانی کی سبیل بنانا، بیماروں کے لئے اسپتال قائم کرنا وغیرہ اور دیگر خیر کے کام مال ہی کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں ، یہ نیکی کے وہ کام ہیں جو موت کے بعد بھی ہمیشہ رہنے والے اور ضرورت کے وقت صالحین کی دعاؤں کو سمیٹنے والے ہیں اور تمہارے لئے اس کی اتنی ہی بھلائی کافی ہے کہ یہ سب مال کے دینی فوائد ہیں جبکہ اس سے جلد حاصل ہونے والے فوائد مزید برآں ہیں مثلاً عزت، خدمتگاروں اور دوستوں کی کثرت، لوگوں کا تعظیم کرنااور اس کے علا وہ وہ دنیوی فوائد جن کا مال و دولت تقاضاکرتا ہے۔

مال کی آفات:

                مال کی دینی و دنیوی آفتیں بھی بہت سی ہیں ۔

دینی آفتیں :

 (۱) …دینی آفتیں مثلاًمال انسان کو گناہ پر ابھارتا ہے کیونکہ کسی کا گناہ پر قدرت نہ پانا عصمت میں سے ہے، نفس جب کسی گناہ پر قدرت کا شعور پا لیتا ہے تو اس کے دواعی بھی اس کی جانب مائل ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد وہ اس وقت تک قرار نہیں پاتا جب تک اس گناہ کا ارتکاب نہ کر لے۔

(۲) …مال انسان کو مباح لذتوں کی طرف لے جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ انہیں چھوڑنے پر قدرت نہیں پاتا یہاں تک کہ اگر وہ کوشش یا حلال کمائی کے ذریعے انہیں حاصل نہ کرسکے تو حرام کام بھی کرنے لگتا ہے کیونکہ جس کے پاس مال کثرت سے ہو وہ لوگوں سے میل جول اور تعلقات بڑھانے کازیادہ محتاج ہو جاتا ہے اور جواس چیز میں مبتلا ہوگیا وہ یقینا لوگوں سے منافقت سے پیش آئے گا اور انہیں راضی یا ناراض کرنے کی خاطراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا تو اس کے نتیجے میں وہ عداوت، کینہ، حسد، ریاکاری، تکبر، جھوٹ، غیبت، چغلی اور ان کے علاوہ لعنت و ناراضگی کے موجب کئی برے اخلاق میں مبتلا ہوگا۔

 (۳) …مال ان اُمور میں مبتلا ہونے کا سبب بھی بن جاتا ہے جن سے کوئی مال دار نہیں بچ سکتا یعنی مال کی اصلاح اور اس میں اضافے کی فکر کے سبب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی رضا کے کام سے غافل ہو جانا اور ہر وہ شئے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے غافل کر دے وہ نحوست اور کھلا خسارہ ہے اور یہ ایک نہایت سخت بیماری ہے کیونکہ عبادت کی اصل اور اس کا راز اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر اور اس کی جلالت میں تفکر کرنا ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دل ہر قسم کے تفکرات سے خالی ہو جبکہ مال کی اصلاح اور اس کے حصول میں کوشش کرنے اور اس سے نقصانات دور کرنے کی فکر کی موجودگی میں دل کا فارغ ہونا محال ہے کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں ۔

دنیوی آفتیں :

                آخرت سے پہلے دنیا میں مال داروں کو لاحق ہونے والی دنیوی آفتیں مثلاً مسلسل خوف و غم، پریشانی، اندیشہ، نقصان دور کرنے کی مشقت، مصائب کا سامنا، مال کمانا اور اس کی حفاظت کرنا وغیرہ مزید برآں ہیں ۔

علاج:

                مال کا اکسیر اور علاج یہ ہے کہ بقدرِ حاجت اپنے پاس رکھا جائے باقی بھلائی کے کاموں میں صرف کر دیا جائے کیونکہ ضرورت سے زائد مال زہرِ قاتل اور سببِ آفت ہے۔

مال خیر اور شر دونوں کا سبب ہے:

                جب یہ باتیں ثابت ہو گئیں تو معلوم ہوا کہ مال نہ تو محض خیر ہے اور نہ ہی محض شر، بلکہ وہ ان دونوں باتوں کا سبب ہے یہ بعض اوقات قابلِ تعریف ہو تا ہے اور بعض اوقات قابلِ مذمت،لہذا جس شخص نے دنیا سے کفایت سے زائد حصہ لیا گویا اس نے بے خبری میں اپنی موت کا سامان کر لیا اور چونکہ طبیعتیں ہدایت سے روکنے والی ہیں ،شہوات و خواہشات کی طرف مائل رہتی ہیں اور مال ان میں آلے کا کام دیتا ہے تو ایسی صورت میں کفایت سے زائد مال میں شدید خطرات ہیں ، اسی سبب سے انبیاء کرامعلَیھمُ السّلام نے مال کے شرسے پناہ مانگی یہاں تک کہ،

{78}… سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا فرمائی :  ’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ قُوْتَ اٰلِ مُحَمَّدٍ کِفَافًا یعنی اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! آل محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رزق کو بقدرِ کفایت کر دے۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To