Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرنا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر قلیل میں اسے سہولت دی گئی تو وہ اسے کثیر زکوٰۃ روک لینے کا ذریعہ بنا لے گا، لہٰذا واضح ہو گیا کہ یہاں قلیل و کثیر زکوٰۃ روک لینے میں کوئی فرق نہیں جبکہ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اس میں بلاعذر تاخیر کرنے کو کبیرہ گناہ میں شمار کرنا حضرت سیدنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی اس روایت سے واضح ہے کہ ’’ صدقہ کو مؤخر کرنے والے ان بد بختوں میں سے ہیں جن پراللّٰہ کے رسول عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔ ‘‘

                اسی لئے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر جزم فرمایا ہے۔

تنبیہ2:      عورتوں کے سونے کے زیورات پہننے پرگذشتہ شدید وعیدوں کے جوابات

                بہت سی احادیثِ مبارکہ میں عورتوں کے سونے کے زیورات پہننے پرشدید وعیدیں گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں جن کے چند جوابات درج ذیل ہیں :

 (۱) …عورتوں کے لئے سونے کے زیورات کاجوازثابت ہونے سے یہ احادیثِ مبارکہ منسوخ ہوگئیں ۔

 (۲) …یہ حکم ان کے لئے ہے جو ان زیورات کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتیں مگر جو ان کی واجب زکوٰۃ ادا کرتی ہیں ۔ ان کے لئے یہ حکم نہیں اور صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  و تابعین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کی ایک جماعت کا اسی پر عمل ہے اورحضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور ان کے اصحاب رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس سلسلے میں ان کی پیروی کی اور ابن منذر نے بھی اسی مؤقف کو اختیار کیا جبکہ دیگر صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان ، تابعین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ اور ان کے بعد کے ائمہ مثلاًحضرت سیدناامام مالک ،حضرت سیدناامام شافعی علیہ رحمۃاللہ  الکافی  اورحضرت سیدنا امام احمد رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیزیورات میں زکوٰۃ کے واجب نہ ہونے کے قائل ہیں ۔

                 علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ آیات کا ظاہری معنی اس پہلی جماعت کے مؤقف پردلیل ہے کہ جس نے زیورات میں زکوٰۃ کو واجب قرار دیا اور احادیثِ مبارکہ بھی اسی مؤقف کی تائید کر رہی ہیں جبکہ جن حضرات نے زکوٰۃ کو ساقط قرار دیا ہے انہوں نے قیاس اور غور و فکرکو ا ختیار کیا اور ان کے پاس ایک حدیثِ پاک بھی ہے جبکہ احتیاط زکوٰۃ کی ادائیگی میں ہے۔ ‘‘

 (۳) …یہ حکم ان عورتوں کے لئے ہے جو زیورات سے زینت حاصل کریں اور اسے غیر مردوں پر ظاہر کریں اس کی دلیل ابو داؤد و نسائی شریف کی حدیثِ پاک ہے :

{74}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے جو عورت سونے کا زیور پہنے اور اسے ظاہر کرے اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الخاتم ، باب ماجاء فی الذھب للنسائ،الحدیث: ۴۲۳۷،ص۱۵۳۱)

                البتہ یہ بات بھی درجہ صحت تک پہنچ چکی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماپنے عیال کو زیورات اور ریشم پہننے سے منع فرماتے اور ارشاد فرماتے :

{75}… ’’ اگر تم جنت کے زیورات اور ریشم پسند کرتی ہو تو دنیا میں یہ دونوں چیزیں ہر گز نہ پہنو۔ ‘‘

 (شرح معانی الآثار، کتاب الکراہۃ،باب لبس الحریر،الحدیث:  ۶۵۷۲،ج۴،ص۵۶)

 (۴) …ممانعت کا سبب اس سلسلہ میں وارد ہونے والی شدید وعید ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ اسراف میں ڈال دینے والی چیز سونے چاندی کو حرام کر دیتی ہے۔

تنبیہ3:                         

بُخل کی تعریف اور اس کی مثالیں

                گذشتہ احادیثِ مبارکہ میں بُخْل کی مذمت اور اس کی آفات و نقصانات کی طرف اشارہ ہو چکا ہے، اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ شرع میں بُخْل زکوٰۃ ادا نہ کرنے کو کہتے ہیں اور پھر ہر واجب کو بھی زکوٰۃ کے ساتھ ملا دیا گیا یعنی واجب کی عدم ادائیگی بُخْل ہے، لہٰذا جو زکوٰۃ روک لے وہ بخیل ہے اور اسے وہی سزاملے گی جواحادیثِ مبارکہ میں گزر چکی ہے۔

بخیل کی مختلف تعریفات:

                سیدنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ فرماتے ہیں :  ’’ ایک قوم نے بُخْل کی تعریف واجب کی عدم ادائیگی سے کی ہے۔لہٰذا ان کے نزدیک جو شخص خود پر واجب حقوق ادا کر دے وہ بخیل نہ کہلائے گا مگر یہ تعریف کافی نہیں کیونکہ جو شخص گوشت یا روٹی قصاب یا نانبائی کو رتی بھر کمی کی بناء پر لوٹا دے اسے بالاتفاق بخیل شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح قاضی نے کسی شخص کے مال میں سے اس کے اہل و عیال کے لئے نفقہ مقرر کیا پھر ا گر اہلِ خانہ اس کے مال میں سے ایک لقمہ یا کھجور کھا لیں اور یہ شخص ان پر اس سلسلہ میں تنگی کرے تو یہ بھی بخیل کہلائے گا اور کسی شخص کے پاس روٹی رکھی ہو پھر کوئی شخص اس سے ملنے آئے اوراسے گمان ہو کہ وہ بھی کھانے میں شریک ہو جائے گاتو اس خوف سے وہ اس سے روٹی چھپا لے تووہ بھی بخیل کہلائے گا۔ ‘‘

                دیگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ بخیل وہ شخص ہے جس پر ہر قسم کا عطیہ دینا گراں گزرتا ہے مگر یہ بات قاصر ہے کیونکہ اگر بُخْل سے ہر عطیہ کا گراں گزرنا مراد لے لیا جائے تو اس پریہ اعتراض ہو گا کہ بہت سے بخیلوں پر رتی بھر یا اس سے زیادہ عطیہ دینا گراں نہیں گزرتا تو یہ بات بُخْل میں رخنہ نہیں ڈالتی۔ ‘‘

جُوْدکی تعریف میں مختلف اقوال:

                اسی طرح حضرات علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا جودو سخاوت کی تعریف میں بھی اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے :  ’’ جُوْد احسان کر کے نہ جتلانے اور دیکھے بغیر مدد کرنے کو کہتے ہیں ۔ ‘‘  ایک قول یہ ہے :  ’’ سوال کے بغیر عطا کرنا جُوْد کہلاتا ہے۔ ‘‘  ایک قول یہ ہے :  ’’ سائل سے خوش ہونا اورممکنہ حد تک عطا کرنا جُوْد کہلاتا ہے۔ ‘‘  جبکہ ایک قول یہ بھی ہے :  ’’ اس خیال سے عطا کرنا کہ میں اور میرا مال اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کا ہے جُوْد کہلاتا ہے۔ ‘‘  یہ تمام تعریفیں بُخْل اور جُوْد کی حقیقت کا احاطہ نہیں کرتیں ۔

                لہٰذا حق یہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بُخْل ہے اور جہاں خرچ نہ کرنا واجب ہو وہاں خرچ کرنا فضول خرچی اور اسراف ہے اور ان دونوں کی درمیانی صورت قابلِ تعریف ہے اور یہی وہ صورت ہے جسے جُوْد سے تعبیر کرنا چاہئے، کیونکہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سخاوت ہی کاحکم دیا گیا ہے۔چنانچہ،

{۱} اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (۲۹)   (پ۱۵، الاسراء: ۲۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا۔

{۲}

 



Total Pages: 320

Go To