Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الواؤ،الحدیث: ۷۴۶۵،ج۲،ص۴۰۸)

{59}…نبی کریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن میں دو خصلتیں جمع نہیں ہو سکتیں :   (۱) بخل اور  (۲) جھوٹ۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث: ۷۳۸۸،ج۳،ص۱۸۱)

{60}…حضور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ سردار بخیل نہیں ہو سکتا۔ ‘‘    (المرجع السابق،الحدیث: ۷۳۸۹،ج۳،ص ۱۸۱)

بخل سے نجات کاذریعہ :

{61}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے زکوٰۃ ادا کی اور مہمان کی ضیافت کی اور ناگہانی آفت میں عطیہ دیا وہ بُخْل سے آزاد ہے۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۴۰۹۶،ج۴،ص۱۸۸)

{62}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خصلتیں جوان رہتی ہیں :   (۱) مال کی حرص اور  (۲) لمبی عمر کی حرص۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب کراہۃ الحرص علی الخ،الحدیث:  ۲۴۱۲،ص۸۴۲)

{63}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بوڑھے کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہی رہتا ہے  (۱)  زندگی اور  (۲) مال کی محبت۔ ‘‘                (المرجع السابق،الحدیث: ۲۴۱۰،ص۸۴۲)

{64}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِ جُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ نفسانی خواہشات اور لمبی امیدوں کا خوف ہے۔ ‘‘    (الکامل فی ضعفاء الرجال، احادیث علی بن ابی علی اللہ بی۳۷۶ ،ج۶، ص ۶ ۳۱)

{65}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سچے حاجت مند سائل کی خاطر ا سی طرح ناراض ہوتا ہے جیسے اپنی ذات کے لئے ناراض ہوتا ہے۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث: ۷۳۹۸،ج۳،ص۱۸۲)

{66}…خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بُخْل سے بچتے رہو کیونکہ بُخْل نے جب ایک قوم کو اُکسایا تو انہوں نے اپنی زکوٰۃ روک لی اور جب مزید اُکسایا تو انہوں نے رشتہ داریاں توڑ ڈالیں اور جب مزید اُکسایا تو وہ خونریزی کرنے لگے۔ ‘‘                     (المرجع السابق،الحدیث: ۷۴۰۱،ج۳،ص۱۸۲)

{67}…سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پچھلی قوموں کو لالچ ہی نے ہلاکت میں ڈالا، لالچ نے انہیں جھوٹ پر اُبھارا تو وہ جھوٹ بولنے لگے اور جب لالچ نے ظلم پر اُبھارا تو ظلم کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خیال دلایا تو قطع رحمی کرنے لگے۔ ‘‘      (المرجع السابق،الحدیث: ۷۴۰۲،ج۳،ص۱۸۲)

{68}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بُخْل کے 10حصے ہیں ، ان میں سے 9حصے فارس (یعنی ایران)  میں جبکہ ایک حصہ دیگر لوگوں میں ہے۔ ‘‘

 (جامع الاحادیث للسیوطی،حرف البا، الحدیث:  ۱۰۱۱۹،ج۴،ص۵۲)

{69}… حضورنبی ٔپاک،صاحبِ لولاک،سیَّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے :  ’’ لوگ کہتے ہیں یا تم میں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے :  ’’ لالچی انسان ظالم سے زیادہ دھوکے باز ہوتا ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک لالچ سے بڑا ظلم کون سا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنی عزت وجلال اور عظمت کی قسم اس بات پر فرماتا ہے کہ جنت میں کوئی بخیل یا لالچی داخل نہیں ہو گا۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث: ۷۴۰۴،ج۳،ص۱۸۲)

{70}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ملامت کو پیدا فرمایا تو اسے بخل اور مال سے ڈھانپ دیا۔ ‘‘                  (المرجع السابق،الحدیث: ۷۴۰۷،ج۳،ص۱۸۳)

{71}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندے کے دل میں لالچ اور ایمان کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ‘‘   (سنن النسائی،کتاب الجھاد،باب فضل من عمل فیالخ،الحدیث: ۳۱۱۲،ص۲۲۸۷)

{72}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کسی مؤمن بندے کے دل میں لالچ اور ایمان کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ ‘‘   (الکامل فی ضعفاء الرجال،عبدالغفور بن عبدالعزیزابو الصباح الواسطی،الحدیث:  ۱۴۸۱،ج۷،ص