Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ  نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا ۔

جبکہ تمہارے بھائی کو اس کی قبر ہی میں قیامت تک کے لئے عذاب شروع ہو گیا۔ ‘‘  پھر ہم اس کے پاس سے لوٹ کررسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے صحابی حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس حاضر ہوئے اور اس شخص کا قصہ سناکر عرض کی :  ’’ یہودی یا نصرانی مرتا ہے توہمیں اس پر کوئی عذاب نظر کیوں نہیں آتا؟ ‘‘  انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ ان لوگوں کے جہنمی ہونے میں تو کوئی شک نہیں جبکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّمؤمنین کا عذاب تمہیں اس لئے دکھاتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:

فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَاؕ-وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ (۱۰۴)   (پ۷،انعام:  ۱۰۴)

ترجمۂ کنز الایمان  : تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے بُر ے کو اور میں تم پر نگہبان نہیں ۔

 (کتاب الکبائرللامام الذہبی،الکبیرۃ الخامسۃ،باب منع الزکاۃ،ص۳۹)

{46}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ زندگی میں بُخْل اور موت کے وقت سخاوت کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘   (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف الھمزۃ،الحدیث: ۱۸۵۷،ص۱۱۵)

{47}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی قومیں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ، لالچ نے انہیں بُخْل پر آمادہ کیا تو وہ بُخْل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خیال دلایا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور جب گناہ کا حکم دیا تو وہ گناہ میں پڑ گئے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الزکاۃ،باب فی الشح،الحدیث: ۱۶۹۸،ص۱۳۴۹)

{48}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دو خصلتیں مؤمن میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں وہ بخل اور بد اخلاقی ہیں ۔ ‘‘    (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ،باب ماجاء فی البخل من الاکمال،الحدیث: ۱۹۶۲،ص۱۸۴۹)

{49}…نبی مکرم،نورمجسّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ سب سے بد ترین ہیں وہ لوگ جن سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دیں ۔ ‘‘                  (التاریخ الکبیرللبخاری،باب الالف،الحدیث: ۱۱۴۹،ج۱،ص۳۴۰)

{50}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی کی سب سے بد تر خامی شدید بخل اور اِنتہائی بزدلی ہے۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد،کتاب اول،کتاب الجھاد،باب فی الجرأۃ والجبن،الحدیث: ۲۵۱۱،ص۱۴۰۹)

{51}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لالچی آدمی جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘‘

 (معجم الاوسط،الحدیث: ۴۰۶۶،ج۳،ص۱۲۵)

{52}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اس اُمت کے پہلے لوگ دنیا سے بے رغبتی اور یقین کے سبب بھلائی پرہیں جبکہ اس اُمت کے آخری لوگ بخل اور خواہشات کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۷۶۵۰،ج۵،ص۳۷۲)

{53}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ سخی کا کھانا دوا اور لالچی کا کھانا بیماری ہے۔ ‘‘                             (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف الطائ،الحدیث: ۵۲۵۸،ج۲،ص۳۲۵)

{54}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس بات پر قسم یادفرمائی ہے کہ جنت میں کوئی بخیل داخل نہ ہو گا۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال البخل من الاکمال،الحدیث: ۷۳۸۲،ج۳،ص۱۸۱)

{55}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اسلام نے کسی چیز کو اتنا نہیں مٹایا جتنا بُخْل کومٹایا ہے۔ ‘‘                 (مسند ابی یعلٰی الموصلی ، مسند انس بن مالک، الحدیث:  ۳۴۷۵،ج۳،ص۲۳۷)

{56}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بخیل اورصدقہ کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہے جنہوں نے سینے سے لے کرپنڈلیوں تک لوہے کی زرہ پہن رکھی ہو، صدقہ کرنے والا جب  صدقہ کرتا ہے تو وہ زِرہ اس کے جسم پر پھیل جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے پوروں کوبھی ڈھانپ دیتی ہے اور اس کے تابع رہتی ہے، جبکہ بخیل جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس زِرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ شخص اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ ‘‘                     (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب مثل البخیل والمتصدق،الحدیث: ۱۴۴۳،ص۱۱۳)

حدیثِ پاک کی شرح:

          یعنی وہ زرہ خرچ کرنے سے بڑی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو چھپا لیتی ہے بصورت دیگر ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے تو وہ اسے کشادہ کر نا چاہتا ہے مگر نہیں کر پاتا زرہ یا پھر ایک اور روایت کے مطابق لباس سے رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مراد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں اور رزق ہے، لہٰذا خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو اس کی نعمتوں میں وسعت آجاتی ہے اور فراخی حاصل ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ نعمتوں میں پوری طرح چھپ جاتا ہے اور بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا حرص، لالچ اور مال میں کمی کا خوف اسے روک دیتا ہے لہٰذا اس رکاوٹ کے باوجود نعمتوں اور مال میں اضافے کی تمنا سے صرف اس کی تنگی ہی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی کوئی ایسی چیز نہیں چھپائی جاتی جسے چھپانے کی وہ خواہش کرتا ہے۔

{57}…نبی ٔ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’ اس اُمت کے پہلے لوگ یقین اور زہد کے ذریعے نجات پائیں گے جبکہ آخری لوگ بخل اور خواہشات کے سبب ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ‘‘

 (فردوس الاخبارللدیلمی،باب النون،الحدیث: ۷۱۰۶،ج۲،ص۳۷۴)

ہلاکت میں مبتلاہونے والاشخص:

{58}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہلاکت وبربادی ہے، مکمل بربادی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے عیال کو بھلائی میں چھوڑے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے پاس برائی سے حاضر ہو۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To