Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اس سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے پھر جب فقیر اس کے قریب آتا ہے تو وہ اس سے پیٹھ پھیر لیتا ہے لہٰذاان اعضاء کو داغ کر سزا دی جائے گی تاکہ عمل کی سزا اسی کی جنس سے ہو۔ ‘‘  

{29}…حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ جس نے مالِ حلال کمایا اور زکوٰۃ روک لی تو یہ (روکاہوا) مال حلال مال کوبھی گندا کر دے گا اور جس نے مالِ حرام کمایا توزکوٰۃ کی ادائیگی بھی اسے پاک وحلال نہ کرے گی۔ ‘‘

   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۹۵۹۶،ج۹،ص۳۱۹)

{30}…حضرت سیدناا حنف بن قیسرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میں قریش کے کچھ لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سخت بالوں ، کُھردرے لباس اوربارُعب صورت والے ایک شخص نے ان کے قریب آکرسلام کیا پھر کہا:  ’’ خزانے جمع کر کے رکھنے والوں کو جہنم میں دہکائے ہوئے پتھر کی بشارت دے دو، جسے ان میں سے کسی کی چھاتی کی نوک پر رکھا جائے گا تووہ اس کی پیٹھ سے نکل جائے گا اور اس کی پیٹھ پر رکھا جائے گا تو وہ اس کے چھاتی کی نوک سے نکلے گا۔ ‘‘  یہ کہہ کر وہ شخص کانپنے لگا پھر پلٹ کر ایک ستون کے پاس بیٹھ گیا، میں بھی اس کے پیچھے چل دیا اور اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا حالانکہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے، پھر میں نے کہا:   ’’ میرا خیال ہے کہ لوگوں نے آپ کی بات کا برا منایا ہے۔ ‘‘  اس نے کہا :  ’’ میرے خلیل نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا:  ’’ یہ لوگ کچھ عقل نہیں رکھتے۔ ‘‘   (راوی فرماتے ہیں کہ)  میں نے پوچھا:   ’’ آپ کے خلیل کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے بتایا :  ’’  نبی ٔ کریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ ‘‘  (پھر مجھ سے پوچھا)  ’’ کیا تمہیں اُحدپہاڑ نظر آرہا ہے؟ ‘‘ میں نے سورج کی طرف دیکھا کہ کتنا دن باقی رہ گیا  ہے، میرا خیال تھا کہ حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے اپنے کسی کام بھیجیں گے، (یہ سوچ کر) میں نے جواب دیا:   ’’ جی ہاں ۔ ‘‘  تو اس نے کہا:   ’’ میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہوتومیں تین دیناروں کے علاوہ سب کچھ خرچ کردوں اور بے شک یہ لوگ کچھ عقل نہیں رکھتے،یہ دنیا جمع کرنے میں مصروف ہیں ،خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم! میں ان سے دنیا نہیں مانگوں گا اور نہ کوئی دینی مسئلہ پوچھوں گا یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کر لوں ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب ماادِّی زکاتہ فلیس الخ،الحدیث: ۱۴۰۷ / ۱۴۰۸،ص۱۱۰)

{31}…جبکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے :  ’’ خزانے جمع کر کے رکھنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کی پیٹھ پر داغے جانے سے وہ خزانہ ان کے پہلوؤں سے نکلے گا اور کنپٹیوں پر داغے جانے سے ان کی پیشانیوں سے نکلے گا۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں :    ’’ پھر وہ جھک کر بیٹھ گئے تو میں نے پوچھا :  ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘  لوگوں نے مجھے بتایا:  ’’ یہ حضرت سیدناابوذررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ہیں ۔ ‘‘  میں نے ان کے پاس جا کر پوچھا :  ’’ ابھی میں نے آپ کو جو بات کہتے سنا وہ کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے تو وہی بات کہی ہے جسے میں نے ان کے رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا تھا۔ ‘‘  میں نے پوچھا :  ’’ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ عطیہ ( یعنی تحفہ)  کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’ لے لو کیونکہ آج یہ معونت  (یعنی امداد)  ہے، پھر جب یہ تمہارے دِین کی قیمت بننے لگے تو اسے چھوڑ دینا۔ ‘‘       

 (صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب فی الکنازین للاموال الخ،الحدیث:  ۲۳۰۷،ص۸۳۵)

زکوٰۃ اسلام کا پل ہے:

{32}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ زکوٰۃ اِسلام کا پل ہے۔ ‘‘

 (شعب الایمان،باب فی الزکاۃ،فصل التشدید علی من منع الزکاۃ،الحدیث: ۳۳۱۰،ج۳،ص۱۹۵)

صدقہ مریضوں کی دوا ہے:

{33}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ زکوٰۃ کے ذریعے اپنے اموال کی حفاظت کرو، صدقے کے ذریعے اپنے مریضوں کی دوا کرو اور مصیبت کے لئے دعا کو تیار رکھو۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۱۹۶،ج۱۰،ص۱۲۸)

{34}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو بے شک اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ ‘‘      (جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ،باب ماجاء اذا ادیت الزکاۃالخ،الحدیث: ۶۱۸،ص۱۷۰۶)

مال کا شر دور ہو جاتا ہے:

{35}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو بے شک اس کے شر کو خود سے دور کر دیا۔ ‘‘  (المستدرک،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فیالخ،الحدیث: ۱۴۷۹،ج۲،ص۸)

صدقہ مال میں اضافہ کرتا ہے:

{36}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صدقہ مال میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ ‘‘

 (الکامل فی ضعفاء الرجال،الحسن بن عبدالرحمنالخ،الحدیث: ۴۷۰،ج۳،ص۱۹۰)

 زکوٰۃاورکنز:

{37}…خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر و ہ مال جس کی زکوٰۃ ادا کر دی گئی وہ کنز  (یعنی خزانہ)  نہیں اگرچہ زمین کے نیچے دفن ہو اور ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی وہ کنز ہے اگرچہ دفن نہ ہو۔ ‘‘

 (السنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب الزکاۃ،باب تفسیر الکنزالذی وردالخ،الحدیث: ۷۲۳۳،ج۴،ص۱۴۰)

صدقہ، مال میں کمی نہیں کرتا:

{38}…سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ درگزر کرنے والے بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ ‘‘     (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ،باب استحباب العفووالخ،الحدیث: ۶۵۹۲،ص۱۱۳۰)

آگ کے کنگن:

{39}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں دو عورتیں حاضر ہوئیں ، انہوں نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے دریافت فرمایا :  ’’ کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فر



Total Pages: 320

Go To