Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

چیز  (یعنی موت)  آئے تو اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز ناپسند نہیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس کی ملاقات کو اسی طرح ناپسند فرمائے گا۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث:  ۱۲۰۴۷،ج۴،ص۲۱۵،بتغیرٍقلیلٍ)

{4}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا فرمائی :  ’’  یااللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے  اور یقین رکھے کہ میں جو دین اس کے پاس لے کر آیا ہوں وہ تیری جانب سے حق ہے تو تُو اس کے مال اور اولاد میں کمی فرما کر اپنی ملاقات کو اس کے نزدیک محبوب بنا دے اوراسے جلدی قوت عطا فرما، لیکن جو مجھ پر ایمان لائے نہ میری تصدیق کرے اورنہ ہی اس بات پر یقین کرے کہ میں جو دین لے کر آیا ہوں وہ تیری جانب سے ہے تو اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما اور اس کی عمر کو طویل فرما۔ ‘‘       (سنن ابن ماجہ،ابواب الزھد، باب فی المکثرین،الحدیث: ۴۱۳۳،ص۲۷۲۸)

{5}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی :  ’’ اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! جو مجھ پر ایمان لائے اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرار سول ہوں تو تُو اُسے اپنی ملاقات کامشتاق بنا دے اور اس کی موت اس پر آسان فرما دے اور اس کے لئے سامانِ دنیا میں کمی فرما دے، لیکن جو مجھ پر ایمان نہ لایا اور نہ اس بات کی گواہی دی کہ میں تیرا رسول ہوں تو تُونہ اسے اپنی ملاقات کی محبت عطا فرما اور نہ اس پر نزع کی تکلیف کو آسان فرما اور اس پر سامانِ دنیا کی زیادتی فرما۔ ‘‘   (المعجم الکبیر ،الحدیث: ۸۰۸،ج۱۸،ص۳۱۳)  

تنبیہ:

                احادیثِ مبارکہ میں بیان شدہ وعیدوں کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، اگرچہ میں نے کسی کو اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا کسی بندے سے ملاقات کو ناپسند کرنا سخت وعیدا وردھمکی کااشارہ ہے اور فقط موت کو ناپسند کرنا ایسا نہیں کیونکہ یہ تو نفس کے لئے طبعی اَمر ہے لہٰذا اسے مکروہ جاننا گناہ نہ ہو گا جبکہ اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کی بناء پر ناپسند کرنا رحمت سے مایوسی کا پتا دیتا ہے جیسا کہ دوسری حدیثِ پاک میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ہم یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ رحمت سے مایوسی کبیرہ گناہ ہے، اسی طرح جو چیز اسے لازم ہو وہ بھی کبیرہ گناہ ہے پھر میں نے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو دیکھا کہ انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے بدگمانی کرنے کو بھی کبیرہ گناہ قرار دیا ہے اور یہ ہمارے اس بیان پر دلیل ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے بدگمانی دراصل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو ناپسند کرنا ہی ہے۔

{6}…حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے اچھا گمان رکھتا ہے تو اسے اچھائی ملتی ہے اور اگر برا گمان رکھے تو برائی پہنچتی ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب الرقائق،باب حسن الظن باللہ ، الحدیث: ۶۳۸،ج۲،ص۱۶)

٭٭٭٭٭٭

کتاب الزکوۃ

زکوٰۃ کا بیان

کبیرہ نمبر127:         

زکوٰۃ ادا نہ کرنا

کبیرہ نمبر128:         

وجوبِ زکوٰۃ کے بعد ادائیگی میں تاخیر کرنا

یعنی زکوٰۃ اداہی نہ کرنا یاواجب ہونے کے بعدبلاعذرِ شرعی ادائیگی میں تاخیر کرنا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

{1}

وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ (۶)  الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ  (پ۲۴، حم سجدہ: ۶،۷)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور خرابی ہے شرک والوں کو وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے ۔

{2}

وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ  مَا  بَخِلُوْا  بِهٖ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-وَ  لِلّٰهِ  مِیْرَاثُ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِؕ-وَ  اللّٰهُ  بِمَا  تَعْمَلُوْنَ  خَبِیْرٌ۠ (۱۸۰)   (پ ۴، آل عمران: ۱۸۰)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ  نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ  ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ  تمہارے کاموں سے خبر دار ہے۔

{3}

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ (۳۵)   (پ۱۰، التوبہ: ۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھاتھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان  ہے کہ  ’’ سونے چاندی کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی چٹانیں نصب کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپا کر اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغا جائے گا۔ ‘‘  (مطلب یہ کہ ان کے جسموں کو چٹانوں کے برابر پھیلا دیا جائے گا)

     (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲۹۰،ص۸۳۳)

{2}…حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسول اکرم، شفیع معظَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ  ’’ جب بھی وہ آگ کی چٹانیں ٹھنڈی ہو ں گی تو انہیں دوبارہ اسی طرح گرم کر لیا جائے گا یہ عمل اس دن ہو گا جس کی مقدارپچاس ہزار  (50,000) سال ہے یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ ہو جائے اور یہ اپنا ٹھکانا جنت یاجہنم میں دیکھ لے۔ ‘‘  عرض کی گئی کہ  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اوراگر اونٹ ہوں تو (کیاحکم ہے) ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ  ’’ اسی طرح اگر اونٹوں کا مالک بھی ان کا حق (یعنی زکوٰۃ)  ادا نہ کرے اور اونٹوں کا حق یہ ہے کہ جس



Total Pages: 320

Go To