Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{3}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کے بازو پر پٹی دیکھی، راوی کہتے ہیں :  ’’ شاید

وہ پٹی زرد رنگ کی تھی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تم پر افسوس! یہ کیا ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کی،  ’’ بازو کے درد کا تعویذ ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ تمہاری سستی میں اضافہ کرے گا اسے پھینک دو کیونکہ تم اسی حالت میں مر گئے تو کبھی فلاح نہ پاسکو گے۔ ‘‘         (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث:  ۲۰۰۲۰،ج۷،ص۲۲۸)

{4}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لائے، انہوں نے کوئی چیز تعویذکے طور پر گلے میں لٹکا رکھی تھی، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اسے کھینچ کر توڑ دیا اور ارشاد فرمایا :  ’’ جب تک کوئی حکم نازل نہ ہو عبد اللہ   (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  کے گھر والے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانے سے بے نیاز ہو چکے ہیں ۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ منتر، تعویذ اور جادو ٹونہ شرک ہیں ۔ ‘‘  گھر والوں نے پوچھا:   ’’ اے ابو عبد الرحمٰن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ! منتر اور تعویذات کو تو ہم پہچانتے ہیں  ’’ یہ جادو ٹونہ سے کیا مراد ہے؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ وہ ٹوٹکے جو عورتیں شوہروں کو گرویدہ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں ۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب الطب، باب نھی عن الرقی والتمائمالخ،الحدیث: ۸۰ / ۷۵۷۹،ج۵ص۳۰۶)

                بعض نے کہا ہے: ـٹونہ جادو سے مشابہ یا اس کی ایک قسم ہے اور عورتیں اسے اپنے شوہر کو گرویدہ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں ۔

{5}…ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سیدناابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی زوجہ محترمہ نے کہا :  ’’ میں ایک دن باہر نکلی تو فلاں شخص کی مجھ پر نظر پڑی اور میری اس پرپڑنے والی آنکھ سے آنسوجاری ہوگئے جب میں نے یہ تعویذ پہنا تو آنکھ بہنا رک گئی اور جب تعویذ اُتارا تو آنکھ پھربہنے لگی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا  ’’ وہ شیطان ہے تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تمہیں چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی نافرمانی کرتی ہو تو تمہاری آنکھ میں انگلی مارتا ہے، لیکن تم شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے طریقے پر عمل کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر اور حصولِ شفاء کے لئے تیز تر ثابت ہو گا ،اپنی آنکھ میں  پانی ڈالو اور کہو: اَذْھِبِ البَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَآء اِلَّا شِفَآؤُکَ شِفَآء لَّا یُغَادِرُ سُقْمًا ترجمہ:  اے لوگوں کے رب ! تنگ دستی دور فرما اور شفا عطا فرما کہ تُو ہی شفا عطافرمانے والا ہے سوائے تیری شفاء کے کوئی شفا ء نہیں ، وہ ایسی شفاء ہے جو کوئی بیماری نہیں چھوڑتی۔ ‘‘                     (سنن ابن ماجۃ ، ابواب الطب،باب تعلیق التمائم،الحدیث:  ۳۵۳۰،ص۲۶۸۹)

{6}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تعویذ وہ نہیں جو مصیبت کے بعد پہنا جائے بلکہ تعویذ تو وہ ہے جو مصیبت سے پہلے لٹکایا جائے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب الطب، باب تمیمۃ ماتعلق بہالخ،الحدیث:  ۷۵۸۲،ج۵ص۳۰۷)

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی سخت وعید خصوصاً اسے شرک کے نام سے پکارے جانے کی وجہ سے ان دونوں گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اگرچہ میں نے کسی کو خاص طور پر اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے کچھ ایسی صراحتیں ضرور کی ہیں کہ جن سے ان کے بدرجہ اَوْلیٰ کبیرہ گناہ ہونے کا تاثر ملتا ہے، البتہ تعویذ نما دھاگاوغیرہ لٹکانے کو اس صورت پر محمول کرنا متعین ہے جب یہ اعتقاد ہو کہ یہ تعویذ بذاتِ خود آفات دور کرنے کا ذریعہ ہے اور بلاشبہ یہ اعتقاد جہالت و گمراہی اور کبیرہ ترین گناہ ہے کیونکہ اگر یہ شرک نہ بھی ہو تب بھی شرک کی طرف لے جانے والا ضرور ہے کیونکہ حقیقی نافع و ضار اور مانع و دافع اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کی ذاتِ پاک ہے۔

                وہ منتر جو اسی معنی پر محمول ہوں یا غیر عربی اور ایسے الفاظ پر محمول ہوں جن کا معنی معلوم نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کا استعمال حرام ہے جیسا کہ سیدنا خطابی اور سیدنا بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما وغیرہ نے صراحت کی ہے۔

                علامہ ابن سلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کے مؤقف کی دلیل کے طور پر یہ حدیثِ پاک پیش کی :

{7}…جب سرکارِعالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اپنے تعویذات میرے پاس لاؤ۔ ‘‘                   (صحیح مسلم،کتاب السلام،باب لابأس بالرقیالخ،الحدیث: ۵۷۳۲، ص۱۰۶۸)

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کا سبب یہ بیان فرمایا ہے کہ نامعلوم الفاظ پر مشتمل جملے کبھی جادو کے منتر ہوتے ہیں یا کفریات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔سیدنا خطابیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ بات ذکر کر کے فرمایا :  ’’ جب ان کا معنی معلوم ہو اور اس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر ہو تو اس کا استعمال مستحب ہے اور اس سے برکت حاصل کی جاسکتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر126:                         

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو ناپسند کرنا

{1}…اُم المؤمنین حضرتسیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے کہ شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اورجس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کونا پسند کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند فرمائے گا۔ ‘‘  میں نے عرض کی،  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اگر اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے تو ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ مراد نہیں بلکہ مؤمن کو جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت، رضا اور جنت کی خوشخبری دی جائے اوروہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کو پسند کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور کافر کوجب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کے بارے میں بتایا جائے تو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو ناپسند کرتاہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ملاقات کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘                (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعائالخ،باب من احب لقائالخ،الحدیث: ۶۸۲۲،ص۱۱۴۵)

{2}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :   ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات پسند کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ملاقات پسند فرمائے گا اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو ناپسند کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ملاقات کو ناپسند فرمائے گا۔ ‘‘  ہم نے عرض کی،  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا نہیں ، بلکہ جب مؤمن نزع کے عالم میں ہو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اس کے پاس کوئی خوشخبری آئے تو اس کے نزدیک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات سے محبوب چیز کوئی نہ ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور کافر جب نزع کے عالم میں ہو پھر اسے کوئی شر پہنچے یا عذاب کے بارے میں بتایا جائے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘