Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

القبور لنسائ،الحدیث:  ۱۰۵۶،ص۱۷۵۳)

{3}…حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں کہ ہم نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیت میں ایک میت کو دفنایا، جب ہم فارغ ہو گئے تو رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس تشریف لے آئے اور ہم بھی لوٹ آئے، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر پہنچے تو ٹھہر گئے، اچانک ہم نے ایک عورت کو آتے ہوئے دیکھا، راوی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے پہچان لیا تھا، جب وہ چلی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  تھیں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے پوچھا کہ  ’’ اے فاطمہ (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا ) !  تمہیں کس چیز نے گھر سے نکلنے پر آمادہ کیا؟ ‘‘  تو انہوں نے عرض کی  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں اس میت کے لواحقین سے ہمدردی کرنے آئی تھی۔ ‘‘  یا پھر کہا،  ’’ تعزیت کرنے آئی تھی۔ ‘‘  توتاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا، ’’ شاید تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچ گئی تھی۔ ‘‘  انہوں نے عرض کی،  ’’ معاذاللہ !  میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں ، حالانکہ میں نے عورتوں کے قبرستان  جانے کے بارے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشادات سن رکھے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اگر تم ان کے ساتھ قبرستان چلی جاتی تو میں تمہیں اس بات پرجھڑکتا۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز ،باب التعزیۃ ، الحدیث: ۳۱۲۳،ص۱۴۵۸)

{4}…جبکہ نسائی شریف کی روایت کے الفاظ یوں ہیں :  ’’ اگر تم ان کے ساتھ قبرستان چلی جاتی تواس وقت تک جنت نہ دیکھ

سکتی جب تک عبد المطلب اسے نہ دیکھ لیں   ([1]  ) ۔ ‘‘       (سنن النسائی، کتاب الجنائز،باب النعی،الحدیث: ۱۸۸۱،ص۲۲۱۱)

{5}…حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں کچھ عورتوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا :  ’’ تمہیں کس چیز نے بٹھایا ہے؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی  ’’ ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا  ’’ کیا تم اسے غسل دو گی؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی  ’’ جی نہیں ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا  ’’ کیا اسے کندھا دو گی؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی ،  ’’ جی نہیں ۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:   ’’ کیا جو پریشان حال ہے اس کے قریب جاؤ گی؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی، ’’ جی نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ پھربغیر اَجر پائے گنہگار ہو کر لوٹ جاؤ۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ،ابواب الجنائز،باب ماجاء فی اتباع النساء الجنائز،الحدیث:  ۱۵۷۸،ص۲۵۷۱)

تنبیہ:

                ان تین گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا پہلی حدیثِ پاک کی صراحت کی بناء پر ہے کیونکہ اس میں پہلے دو گناہوں کے مرتکب پر لعنت وارد ہوئی ہے، جبکہ دوسری حدیثِ پاک دوسرے گناہ کے کبیرہ ہونے پر صریح دلیل ہے اور حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  والی حدیثِ پاک کا ظاہر بلکہ نسائی شریف کی حدیثِ پاک کے یہ الفاظ :  ’’ تم جنت نہ دیکھ پاتی۔ ‘‘  تیسرے گناہ کے کبیرہ ہونے پر دلیل ہیں ، حالانکہ میں ان گناہوں میں سے کسی ایک کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار نہیں پاتا بلکہ ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام میں ان کے مکروہ ہونے کی صراحت ہے نہ کہ حرام ہونے کی چہ جائیکہ وہ اسے کبیرہ گناہ  قرار دیتے، لہٰذا ان کے کبیرہ ہونے کو اس صورت پر محمول کرنا چاہئے جب کہ اس کے مفاسد بہت زیادہ ہوں جیسا کہ بہت سی عورتیں قبرستان جاتی ہیں یا بہت ہی بری حالت بنا کر جنازے کے پیچھے چلتی ہیں ۔ ممانعت کی وجہ یا تو نوحہ وغیرہ کرنا ہے یا قبروں کی زیارت کے وقت اپنی زینت کرنا جس پر فتنہ کا قوی اندیشہ ہو اور اسی طرح قبر کے اوپر مسجد بنانا کیونکہ ایسی صورت میں یہ غصب کے حکم میں ہو گا کہ یہ اسراف، فضول خرچی اور حرام کاموں میں مال خرچ کرنا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں انہیں کبیرہ گناہ شمار کرنا واضح ہے، ہاں ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے قبر کے اوپر چراغ رکھنے کی حرمت کی صراحت کی ہے اگرچہ اتنا کم ہی کیوں نہ ہو جس سے نہ تو مقیم نفع اٹھا سکے اور نہ ہی زائر اور انہوں نے اسراف، اضاعۃ المال اور مجوسیوں کی مشابہت کو اس کی علّت قرار دیا، لہٰذا ایسی صورت میں اس کا کبیرہ گناہ ہونا بعید بھی نہیں ۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر124:                          چند مخصوص منتر پڑھنا

کبیرہ نمبر125:                          تعویذات پہننا یا گنڈے لٹکانا[2]

{1}…حضرت سیدنا عقبہ بن عامررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس نے تعویذ پہنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا کام پورا نہ کرے اور جس نے سیپ  (جو بطورِ تعویذ استعمال کی جاتی ہے)  لٹکائی  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بے سکون رکھے گا۔ ‘‘  (المستدرک،کتاب الطب، باب اذا رأی احدکم الخ،الحدیث:  ۷۵۷۶،ج۵،ص۳۰۵)

{2}…حضرت سیدنا عقبہ بن عامررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں 10افراد کے قافلے میں حاضر ہوا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے9 آدمیوں کو بیعت فرما لیا اور ایک کو روک دیا لوگوں نے عرض کی،  ’’ اس کا کیا معاملہ ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اس کے بازوؤں پر تعویذ ہے۔ ‘‘   

لہٰذااس شخص نے تعویذ اُتار دیا اور پھر نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے بیعت فرما لیا اور ارشاد فرمایا:   ’’ جس نے تعویذلٹکایا اس نے شرک کیا۔ ‘‘         (المرجع السابق، الحدیث: ۷۵۸۸، ج۵،ص ۹ ۳۰)

 



[1] ۔۔۔۔ مذکورہ حدیثِ پاک کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے امام اہلسنت،مجدّدِدین وملت، الشاہ امام احمد رضاخان محدثِ بریلویعلیہ رحمۃ اللہ  القوی فرماتے ہیں : ’’واجب ہوا کہ حضرت عبد المطلب مسلمان واہل جنت ہوں اگرچہ مثلِ صدیق وفاروق وعثمان وعلی وزہراوصدیقہ وغیرھم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م سابقین اولین میں نہ ہوں اب معنٰی حدیث بلا تکلف اوربے حاجتِ تاویل وتصرُّف عقائدِاہلسنت سے مطابق ہیں یعنی اگریہ امرتم سے واقع ہوتاتوسابقین اولین کے ساتھ جنت میں جانانہ ملتابلکہ اس وقت جبکہ عبدالمطلب داخلِ بہشت ہوں گے ۔‘‘                  (فتاویٰ رضویہ ،ج۳۰،ص۶ ۷ ۲)

[2] ۔۔۔۔ ایسے تعویذات استعمال کرنا جائز ہے جو آیاتِ قرآنیہ ،اسماء اِلٰہیہ یا دعاؤں پر مشتمل ہو ں ، چنانچہ امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  یہ روایت نقل فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  اپنے بالغ بچوں کو سوتے وقت یہ کلمات پڑھنے کی تلقین فرماتے :’’بِسْمِ اللّٰہِ اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّعِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَحْضُرُوْنَ‘‘اور ان میں سے جو نابالغ ہوتے اور یاد نہ کرسکتے تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  مذکورہ کلمات لکھ کر ان کا تعویذ بچوں کے گلے میں ڈال دیتے ۔‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل،مسندعبداللہ  بن عمرو، الحدیث: ۶۷۰۸،ج۲،ص ۶۰۰)

                حضرت صدر الشریعہ ،بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’بہار شریعت ‘‘میں درمختارورد المحتار کے حوالے سے فرما تے ہیں : ’’گلے میں تعویذلٹکانا جائز ہے جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ یا ادعیہ سے تعویذ کیا گیا ہو اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذ ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں ، جو زمانہ جا ہلیت میں کئے جا تے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیتِ شفاء پلانا بھی جا ئز ہے ۔جنب و حائض ونفسابھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں ،بازوپرباندھ سکتے ہیں جبکہ تعویذات غلاف میں ہوں ۔‘‘ (