Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{82}…ایسی ہی ایک روایت اُم المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  بھی اس آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کرتی ہیں :

وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-  (پ۳، البقرہ: ۲۸۴)

ترجمۂ کنز الایمان  : اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤاللہ  تم سے اس کا حساب لے گا۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر119:                                         

میت کی ہڈی توڑنا

کبیرہ نمبر120:                                         

قبر کے اوپر بیٹھنا

{1}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میت کی ہڈی توڑنا زندگی میں اس کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔ ‘‘                  ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز ، باب فی الحفّاریجد العظمالخ،الحدیث: ۳۲۰۷،ص۱۴۶۴)

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کوئی شخص کسی انگارے پر بیٹھے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور اس کی جلد تک اثر پہنچ جائے تو یہ اس کے لئے کسی قبر کے اوپر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الجنائز ، باب النھی عن الجلوس علی القبرالخ،الحدیث:  ۲۲۴۸،ص۸۳۰)

{3}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میں کسی انگارے یا تلوار پر چلوں یا میرے جوتے میرے پاؤں میں گُھس جائیں یہ مجھے کسی قبر کے اوپرچلنے سے زیادہ پسند ہے۔ ‘‘

 (ابن ماجہ، ابواب الجنائز ،باب ماجاء فی النھی عن المشیالخ،الحدیث:  ۱۵۶۷،ص۲۵۷۰)

{4}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ میں انگارے پر قدم رکھوں یہ مجھے مسلمان کی قبر پر قدم رکھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘                         (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۹۶۰۵،ج۹،ص۳۲۱)

{5}…حضرت سیدنا عمارہ بن حزم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ایک قبر کے اوپر بیٹھے دیکھا تو ارشاد فرمایا :  ’’ اے قبر والے!  قبر کے اوپربیٹھنے والے شخص نیچے اُتر جا ،نہ تُو قبر والے کو ایذاء دے نہ وہ  تجھے ایذاء دے۔ ‘‘             (مجمع الزوائد،کتاب الجنائز،باب النساء علی القبوروالجلوسالخ،الحدیث: ۴۳۲۱،ج۳،ص۱۹۱)

تنبیہ:

                میں نے ان گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتے نہیں دیکھا مگربیان کی گئی احادیثِ مبارکہ سے یہ بخوبی معلوم ہوتاہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ ان میں بیان شدہ وعید بہت سخت ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کیونکہ مردہ کی ہڈی توڑنا زندہ آدمی کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے، جبکہ قبر پر بیٹھنا ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت کے نزدیک حرام ہے،سیدنا امام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی اپنی بعض کتب میں سابقہ احادیثِ مبارکہ کی بناء پر ان کی متابعت کی ہے، جس طرح انہوں نے ان احادیثِ مبارکہ سے ان دونوں افعال کی حرمت پر استدلال کیا ہے اسی طرح ہم ان کے کبیرہ گناہ ہونے پر ان احادیثِ مبارکہ ہی سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ کبیرہ کی تعریفات میں سے ایک تعریف تو اس پر صادق آتی ہے اور وہ وعید کا سخت ہونا ہے۔

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کبیرہ نمبر121:         

قبر کے اوپرمسجد بنانا یا چراغ جلانا [1]

کبیرہ نمبر122:         

عورتوں کا قبر کی زیارت کرنا [2]

کبیرہ نمبر123:         

عورتوں کاجنازے کے ساتھ قبرستان جانا

{1}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے قبرستان جانے والی عورتوں ، قبر کے اوپر مسجد بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز ، باب فی زیارۃ  النساء القبور،الحدیث: ۳۲۳۶،ص۱۴۶۶)

{2}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘  (جامع الترمذی، ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی کراہیۃ زیارۃ



[1] ۔۔۔۔ قبروں پرچراغ جلانے کا تفصیلی حکم اسی کتاب کے صفحہ نمبر۴۸۸۔۴۸۹پرحاشیہ میں دیکھیں ۔

[2] ۔۔۔۔ حضرت صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ  القوی عورتوں کے قبرستان جانے کے متعلق فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں : ’’اوراسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقامنع کی جائیں کہ اپنوں کی قبورکی زیارت میں تووہی جزع وفزع ہے اورصالحین کی قبورپریاتعظیم میں حدسے گزرجائیں گی یابے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں ۔‘‘                (بہارشریعت،جلد۱،حصہ ۴،ص۸۹)



Total Pages: 320

Go To