Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب المرضیٰ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض،الحدیث:  ۴۲ / ۵۶۴۱،ص۴۸۳)

{65}… سرکارِمدینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے عوض اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب المرضیٰ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض،الحدیث: ۵۶۴۰،ص۴۸۳)

{66}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کسی مسلمان کو کوئی کانٹا چبھے یا اس سے بڑی کسی مصیبت کا شکار ہو تو اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ ، باب ثواب المؤمن فیماالخ،الحدیث: ۶۵۶۱،ص۱۱۲۸)

{67}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  مؤمن مرد وعورت پر اس کی جان، مال اور اولاد کے معاملے میں مصیبتیں نازل ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ ان پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ ‘‘  (جامع الترمذی، ابواب الزھد،باب ماجاء فی الصبر علی البلائ،الحدیث:  ۲۳۹۹،ص۱۸۹۳)

{68}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس پر اس کے مال یا اس کی جان کے معاملے میں کوئی مصیبت نازل ہو اور وہ اسے چھپائے اور لوگوں کے سامنے اس کا شکوہ نہ کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ اس کی مغفرت فرما دے۔ ‘‘      (المعجم الاوسط،الحدیث:  ۷۳۷،ج۱،ص۲۱۴)

{69}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مؤمن کا مرض اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوتا ہے۔ ‘‘    (المستدرک ،کتاب الجنائز،باب قصۃ اعرابی لم تاخذہ الخ،الحدیث:  ۱۳۲۲،ج۱،ص۶۶۷)

{70}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جب ایک مؤمن بیمار ہوتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے گناہوں سے اس طرح پاک فرما دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کازنگ دور کر دیتی ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۱۲۳،ج۳،ص۱۴۲)

{71}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں دیوانے پن میں مبتلا عورت نے اپنی شفایابی کے لئے دعا کی درخواست کی، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تُو یہ چاہے کہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کروں تو وہ تجھے شفا عطا فرمادے لیکن اگر تو صبر کرنا چاہے تو  (اس کے بدلے )  تجھ پر کوئی حساب نہ ہوگا  (تو صبر کر)  ۔ ‘‘  تو اس عورت نے عرض کی  ’’ میں صبر کروں گی اور مجھ پر کوئی حساب نہ ہو گا۔ ‘‘   (صحیح ابن حبان، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الصبرالخ، الحدیث: ۲۸۹۸،ج۴،ص۲۴۹)

{72}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بھی مؤمن کی کوئی رگ چڑھ جاتی ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا ایک گناہ مٹاتا، ایک نیکی لکھتا اور ایک درجہ بلند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب الجنائز،باب قصۃ اعرابی لم تأخذہ الحمیالخ،الحدیث: ۱۳۲۴،ج۱،ص۶۶۸)

{73}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر پر جاتا ہے تو اس کے وہ اعمال بھی لکھے جاتے ہیں جو وہ تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۹۶۹۹،ج۷،ص۱۶۱)

{74}…نبی ٔ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظّم ہے :  ’’ مریض کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جس طرح  درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث اسدبن خالدالخ،الحدیث: ۱۶۶۵۴،ج۵،ص۵۹۴)

{75}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کا دردِ سر اور اسے جو بھی کانٹا چبھے یا کسی اور چیز سے اذیت پہنچے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے عوض قیامت کے دن اس کا درجہ بلند فرمائے گا اور اس کے گناہ مٹا ئے گا۔ ‘‘

 (فردوس الاخبار،باب الصاد،الحدیث: ۳۵۸۸،ج۲،ص۲۷)

{76}…نبی ٔکریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بندے کو تکلیف میں مبتلا رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ تکلیف اس کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے۔ ‘‘   (المستدرک،کتاب الجنائز،باب المریض یکتب لہ منالخ،الحدیث:  ۱۳۲۶،ج۱،ص۶۶۹)

{77}…رسولِ اکرم، شفیعِ معظَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بخار کو گالی نہ دو کیونکہ یہ آدمی کے گناہوں کو اسی طرح ختم کردیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ ، باب ثواب المؤمن فیما یصیبہالخ،الحدیث: ۶۵۷۰،ص۱۱۲۹)

{78}…حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ایک رات کے بخار کے عوض مؤمن کی تمام خطائیں مٹا دیتا ہے۔ ‘‘   (کشف الخفائ،کتاب حرف الحاء المھملۃ،باب حمی یوم کفارۃ سنۃ ، الحدیث: ۱۱۷۱،ج۱،ص۳۲۶)