Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

لیاجن میں آپ کی وہ بیٹی بھی تھی، وہ آپ کے پاس آئی اور اپنا دایاں ہاتھ اس اژدھے کو مارا تو وہ بھاگ گیا اور پھر وہ آپ کی گود میں بیٹھ کر یہ آیت پڑھنے لگی:

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ-        (پ۲۷، الحدید: ۱۶)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ  کی یاد اور اس حق کے لئے جو اترا۔

                آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اس بیٹی سے پوچھا :  ’’ کیا تم (فوت ہونے والے)  قرآن بھی پڑھتے ہو؟ ‘‘  تو اس نے جواب دیا :  ’’ جی ہاں !  ہم آپ (یعنی زندہ لوگوں ) سے زیادہ اس کی معرفت رکھتے ہیں ۔ ‘‘  پھر آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے اس جگہ ٹھہرنے کا مقصد پوچھا تو اس نے بتایا :  ’’ یہ بچے قیا مت تک یہاں ٹھہر کر اپنے ان والدین کا انتظار کریں گے جنہوں نے انہیں آگے بھیجاہے۔ ‘‘  پھر اس اژدھے کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا :  ’’ وہ آپ کا برا عمل ہے۔ ‘‘  پھر اس ضعیف العمرشخص  کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا :  ’’ وہ آپ کا نیک عمل ہے، آپ  نے اسے اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اس میں آپ کے برے عمل کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ، لہٰذا آپ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور ہلاک ہونے سے بچیں ۔ ‘‘  پھر وہ بلندی پر چلی گئی جب آپ بیدار ہوئے تو اسی وقت سچی توبہ کرلی۔                                (روض الریاحین، ص۹۱)

                پس اولاد کے نفع میں غور کرلو مگر یہ صرف اسے حاصل ہو گا جو مصیبت پر راضی رہے اور صبر کرے اور جو ناراض ہو کر اپنی ہلاکت و بربادی کی دعا کرنے لگے یا اپنے رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے یا سر منڈائے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر ناراض ہو گا اور لعنت فرمائے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔

{54}…مروی ہے :  ’’ مصیبت کے وقت رانوں پر ہاتھ مارنا اجر کو برباد کر دیتا ہے۔ ‘‘

 (فردوس الاخبار،باب الضاد،الحدیث: ۳۷۱۷،ج۲،ص۴۲)

{55}…مروی ہے:  ’’ جسے کوئی مصیبت پہنچے پھر وہ اس کی وجہ سے اپنے کپڑے پھاڑے یا رخسار پیٹے یا گریبان چاک کرے یا بال نوچے تو گویا اس نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے جنگ کرنے کے لئے نیزہ اٹھا لیا۔ ‘‘    (کتاب الکبائر،فصل فی التعزیۃ، ص۲۲۰)

{56}…حضرت صالح مزنی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میں ایک مرتبہ شبِ جمعہ ایک قبر ستان میں سو گیا، میں نے  (خواب میں )  مُردوں کو اپنی قبروں سے نکل کر حلقہ بناتے ہوئے دیکھا، ان پر غلاف سے ڈھانپے ہوئے طباق اترے جبکہ ان میں سے ایک نوجوان پر عذاب ہو رہا تھا، میں نے اس کے پاس آکر عذاب کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:  ’’ میری والدہ نے میت پر رونے اور اس کی خوبیاں بیان کرنے والیوں کو جمع کر رکھا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میری طرف سے اسے اچھی جزاء نہ دے۔ ‘‘  پھر وہ رونے لگا اور کہا کہ میں اس کی والدہ کے پاس جاؤں ، اس نے مجھے اس کا پتہ بتایا اور کہا کہ میں اس سے یہ عذاب دور کروں جس کے اسباب اس کی ماں نے پیدا کئے ہیں ، لہٰذاجب صبح ہوئی تو میں اس کی ماں کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ رونے والی عورتیں اس کے پاس موجود ہیں اور کثرتِ گریہ اور رخسار پیٹنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا ہے، میں نے اپنا خواب اسے سنایا تو اس نے توبہ کی اور رونے والی عورتوں کو گھر سے نکال دیا اور اس کی طرف سے صدقہ کرنے کے لئے مجھے کچھ درہم دئیے، پھر میں حسبِ معمول شبِ جمعہ قبرستان پہنچا تو وہ درہم صدقہ کر چکا تھا، جب میں سویا تو میں نے اس نوجوان کوپھر خواب میں دیکھا اس نے کہا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے عذاب دور کر دیا ہے اور صدقہ بھی مجھ تک پہنچ گیا ہے، آپ میری ماں کو اس کے بارے میں بتا دیں ۔ ‘‘  پھر میں بیدار ہو کر اس کی ماں کے پاس پہنچا تو اس کو مردہ پایا پھر میں اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوا اوراسے اس کے بیٹے کے پہلو میں دفن کر دیا۔ ‘‘

قیامت میں مصیبت زدہ لوگو ں کا اجروثواب:

{57}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عافیت میں رہنے والے لوگ جب مصیبت زدہ لوگوں کا اجر دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش !  (دنیامیں ) ان کی کھال کو قینچیوں سے کاٹ دیا جا تا ۔ ‘ ‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب الزھد ، باب ۵۸ یوم القیامۃ وندامۃ المحسن الخ ، الحدیث:  ۲۴۰۲ ، ص ۱۸۹۳)

{58}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن شہید کو لا کرحساب کے لئے کھڑا کیاجائے گا، پھر صدقہ کرنے والے کو لایا جائے گا اور حساب کے لئے روک لیا جائے گا، پھر مصیبت زدوں کولایاجائے گاتو ان کے لئے نہ میزان نصب کی جائے گی،اور نہ ہی اعمال نامے کھولے جائیں گے بلکہ ان پربہت زیادہ اجر نچھاور کیاجائے گا یہاں تک کہ عافیت میں رہنے والے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطا کردہ ثواب دیکھ کر میدانِ حشر میں اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش!   (دنیامیں )  ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۲۸۲۹،ج۱۲،ص۱۴۱)

{59}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت وبلامیں مبتلافرما دیتا ہے۔ ‘‘   (صحیح البخاری،کتاب المرضی،باب ماجاء فی کفارۃ المرض،الحدیث: ۵۶۴۵،ص۴۸۳)

{60}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا فرما دیتا ہے، پھر جو صبر کرتا ہے اس کے لئے صبر ہے اور جو جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع ہی ہے۔ ‘‘                                  (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث:  ۲۳۶۹۵،ج ۹، ص۱۶۱)

{61}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک  بندے کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جب وہ کسی عمل کے ذریعے اس تک نہ پہنچ سکے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ایسے حالات سے دوچار کر دیتا ہے جو اسے پسند نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی الصبر وثواب الامراض ، الحدیث:  ۲۸۹۷ ، ج۴ ، ص ۲۴۸)

{62}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بندے کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کوئی مرتبہ مقرر ہو اور وہ اس مرتبے تک کسی عمل سے نہ پہنچ سکے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جسم، مال یا اولاد کی آزمائش میں مبتلا فرماتا ہے پھر اسے ان تکالیف پر صبر کی توفیق عطافرماتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اپنے مقرردرجے تک پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ، باب الامراض المکفرۃ الخ ، الحدیث:  ۳۰۹۰، ص ۱۴۵۶)

{63}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہیں آزمائش کے ذریعے اس طرح پرکھتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے سونے کو آگ پر پرکھتا ہے، لہٰذااس سے نکلنے والے کچھ لوگ سفید چمک دار سونے کی طرح ہوتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ شبہات سے بچاتا ہے اور اس سے نکلنے والے کچھ لوگ ان سے کم تر ہوتے ہیں ، یہ وہ ہیں جو کچھ شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس سے نکلنے والے کچھ لوگ سیاہ سونے کی طرح ہوتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو آزمائش میں مبتلا ہیں ۔ ‘‘                               ( المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۶۹۸، ج۸، ص ۱۶۶)

مؤمن کو مصیبت پر بھی اَجر ملتا ہے :

{64}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کو جو تھکاوٹ، بیماری، پریشانی، خوف، رنج اور غم پہنچتا ہے حتی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے عوض اس



Total Pages: 320

Go To