Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

( جامع الترمذی ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی ثواب من قد م ولدا،الحدیث: ۱۰۶۱،ص۱۷۵۳)

{43}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کی سفارش کے لئے دو بچے آگے جا چکے ہوں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘  حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی:  ’’ اور جس کی سفارش کے لئے ایک بچہ آگے گیا ہو۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اور جس کی سفارش  کے لئے ایک ہو وہ بھی (جنتی ہے) ۔  ‘‘  

 ( جامع الترمذی ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی ثواب من قد م ولدا،الحدیث: ۱۰۶۲،ص۱۷۵۳)

{44}… حضرت سیدتنا اُم سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کے  بطن سے پیدا ہونے والے حضرت سیدنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے بیٹے کا انتقال ہوا تو حضرت سیدتنا اُم سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے اپنے اہلِ خانہ کو منع کر دیا کہ میرے علاوہ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ بات کوئی نہ بتائے، پھر آپ ان کے پاس آئیں اور رات کا کھانا پیش کیا۔ حضرت سیدنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو حضرت اُم سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے ان کی خاطر پہلے سے زیادہ اچھا بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ان سے ہم بستری کی جب انہوں نے دیکھا کہ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  تمام اُمور سے فارغ ہو چکے ہیں ، تو کہا :  ’’ اے ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  آپ کا اس قوم کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے ایک خاندان کو کوئی چیز عاریتاً دی پھر جب انہوں نے اپنی عاریتًادی ہوئی چیز واپس مانگی تو کیا انہیں وہ چیزروک لینے کا اختیار ہے؟ ‘‘  انہوں نے فرمایا ’’ نہیں ۔ ‘‘  تو حضرت اُم سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی  ’’ پھر اپنے بیٹے پر صبر کرو۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  غضبناک ہو گئے، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر سارا قصہ عرض کیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہاری رات میں تمہارے لئے برکت فرمائے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل ابی طلحۃ رضی اللہ  تعالی عنہ الانصاری،الحدیث: ۶۳۲۲،ص۱۱۰۹)

{45}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی چیز  کسی کو عطا نہیں ہوئی۔ ‘‘     ( صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ ، باب استعناف عن المسالۃ ، الحدیث:  ۱۴۶۹ ، ص ۱۱۶)

{46}…حضرت سیدناعلی المرتضی کَرّّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِْیمنے حضرت سیدنا اشعث رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا:  ’’ اگر تم صبر کرنا چاہو تو ایمان اور اَجر کی امید پر صبر کرلو ورنہ جانوروں کی طرح صبر آ ہی جائے گا۔ ‘‘   (کتاب الکبائرللامام الذہبی،فصل فی التعزیۃ، ص۲۱۹)

ایک مقولہ:

                مصیبت زدہ سے کہا جاتا ہے کہ دو عظیم مصیبتوں یعنی بچے کی موت اور اَجر کے ضیاع کو جمع نہ کرو۔

{47}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ چھوٹے بچے (گویا)  جنت کے پتنگے ہیں  (یعنی بلاروک ٹوک جنت میں آجاسکتے ہیں )  ان میں سے کوئی ایک اپنے والد یا والدین سے ملے گا تو ان کا دامن پکڑ کر کھینچے گایہاں تک کہ اسے جنت میں لے جائے گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب البر و الصلۃ،باب فضل من یموت لہ الخ،الحدیث: ۶۷۰۱،ص۱۱۳۷)

{48}…جب حضرت سیدناابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے بیٹے کو دفن کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ مسکرانے لگے، جب اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ میں نے سوچا کہ شیطان کو رسوا کروں ۔ ‘‘  (کتاب الکبائر،فصل فی التعزیۃ ،ص۲۲۰)

{49}…حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو نزع کے عالم میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:  ’’ بیٹا!  تم میرے میزان میں رکھے جاؤ یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں تمہارے میزان میں رکھا جاؤں ۔ ‘‘   (المرجع السابق، ص۲۲۰)

{50}…جب حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی شہادت کے وقت آپ کا خون آپ کے چہرے پر بہا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ دعا مانگی:  ’’   لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَسْتَعِیْنُ بِکَ عَلَیْھِمْ وَ اَسْتَعِیْنُکَ عَلٰی جَمِیْعِ اُمُوْرِیْ وَ اَسْئَلُکَ الصَّبْرَ عَلٰی مَآ اَبْلَیْتَنِیْ ترجمہ :  تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے، بے شک مجھ سے بے جاہوا۔ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میں ان کے مقابلے میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور اپنے تمام امور میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور تو نے مجھے جس آزمائش میں مبتلا فرمایا ہے میں اس پر صبر کا سوال کرتا ہوں ۔ ‘‘               (المرجع السابق، ص۲۲۰)

{51}…جب حضرت سیدنا عروہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا پاؤں ناسور کی وجہ سے کاٹا گیا تو آپ نے آہ تک نہ کی بلکہ یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:

لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا (۶۲)   (پ۱۵، الکہف: ۶۲)

ترجمۂ کنز ا لایمان: بے شک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا۔

                اور اس رات بھی اپنے رات کے وظائف ترک نہ کئے، اور اسی رات حضرت سیدنا ولیدرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس ایک نابینا شخص آیا، حضرت سیدنا ولیدرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس سے حال دریافت فرمایا تو اس نے بتایا :  ’’ میرے اہل وعیال، اولاد اور بہت سا مال تھا، سیلاب آیا اور سب کچھ بہا کر لے گیا، میرے پاس صرف ایک اونٹ اور اس کا بچہ باقی بچا، اونٹ بدک کر بھاگا اور اس کا بچہ بھی پیچھے ہو لیا تو بھیڑیا اس بچے کو کھا گیا، پھر جب میں اونٹ کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے لات ماری جس سے میری بینائی جاتی رہی، پھر وہ اونٹ بھی چلا گیا اور میں مال واولاد سے محروم ہو گیا۔ ‘‘  حضرت سیدنا ولیدرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اس کو حضرت سیدنا عروہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے چلو تا کہ یہ جان لے کہ اس سے زیادہ مصیبت زدہ لوگ بھی دنیا میں ہیں ۔ ‘‘   (المرجع السابق، ص۲۲۰)

{52}…حضرت مدائنی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بیابان میں ایک نہایت حسین وجمیل عورت کو دیکھا تو گمان کیا کہ شاید یہ بہت خوشحال ہے، لیکن اس نے بتایا :  ’’ وہ غموں اور پریشانیوں کی ہم نشین ہے، ایک مرتبہ اس کے شوہر نے ایک بکری ذبح کی تو اس کے بیٹوں میں سے ایک نے اپنے بھائی کو اسی طرح ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اسے ذبح کر دیا پھر وہ گھبرا کر پہاڑ کی طرف بھاگ گیا اور بھیڑیا اسے کھا گیا، اس کا باپ اس کے پیچھے گیا تو بیابان میں بھٹک گیا اور پیاس کی شدت سے وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ ‘‘  تو آپ نے اس سے پوچھا:  ’’ تمہیں صبر کیسے آیا؟ ‘‘  اس نے جواب دیا:  ’’ وہ تکلیف تو ایک زخم تھا جوبھر گیا۔ ‘‘              (المرجع السابق،ص۰ ۲۲)

حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی توبہ:

{53}…منقول ہے کہ حضرت سیدنا مالک بن دیناررحمۃاللہ  تعالیٰ علیہ (توبہ سے پہلے)  نشہ کے عادی تھے، آپ کی توبہ کا سبب یہ بنا کہ آپ اپنی ایک بیٹی سے بہت محبت کیا کرتے تھے، اس کا انتقال ہوا تو آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شعبان کی پندرھویں رات خواب دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قبر سے ایک بہت بڑا اژدھا نکل کر آپ کے پیچھے رینگنے لگا، آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ جب تیز چلنے لگتے وہ بھی تیز ہو جاتا، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہایک کمزور سن رسیدہ شخص