Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  حضرت سیدنا جعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے گھر کی عورتیں ۔ ‘‘  اورپھر ان کی چیخ و پکار کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم دیا کہ  ’’ انہیں ایسا کرنے سے منع کر و۔ ‘‘  پھر وہ شخص دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کی:  ’’ خداعَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  وہ مجھ پرغالب آگئیں ۔ ‘‘  حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ان کے منہ مٹی سے بھر دو۔ ‘‘  تو میں نے اس شخص سے کہا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّتمہاری ناک خاک آلود کرے، خداعَزَّ وَجَلَّ   کی قسم!  تم نہ تو کچھ کرتے ہو اور نہ ہی رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا پیچھا چھوڑتے ہو۔ ‘‘      (صحیح مسلم ،کتاب الجنائز،باب التشدید فی النیاحہ،الحدیث: ۲۱۶۱،ص۸۲۴)

{17}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک پر بیعت کرنے والی ایک صحابیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں :  ’’ رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے جن اچھی باتوں پر عہد لیا تھا، ان میں یہ عہد بھی شامل تھا کہ ہم نہ چہرہ پیٹیں گی، نہ ہلاکت کی دعا کریں گی، نہ گریبان چاک کریں گی اور نہ ہی بال نوچیں گی۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتا ب الجنائز،با ب فی النوح ، الحدیث: ۳۱۳۱،ص۱۴۵۹ ’’ ننتف ‘‘ بدلہ ’’ ننشر ‘‘ )

{18}…حضرت سیدنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ رحمتِ کونین، غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے چہرہ پیٹنے والی، گریبان پھاڑنے والی اور ہلاکت کی دعا مانگنے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی النھی عن ضربالخ ،الحدیث:  ۱۵۸۵،ص۲۵۷۱)

{19}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا  فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ میت پرنوحہ کرنے کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ ‘‘        ( صحیح مسلم ،کتاب الجنائز ، باب المیت یعذب ببکاء اھلہ ، الحدیث:  ۲۱۴۳، ص ۸۲۳)

{20}…اورایک روایت میں ہے:  ’’  (میت کو قبر میں عذاب ہوتا ہے)  جب تک اس پر نوحہ کیا جاتاہے۔ ‘‘

 (المرجع السابق، الحدیث:  ۲۱۵۷ ، ص ۸۲۴)

{21}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس میت پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحہ کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب ہو گا۔ ‘‘     (المرجع السابق، الحدیث: ۲۱۵۷،ص۸۲۴)

{22}…حضرت سیدنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا عبد اللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  پر غشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رو رو کرکہنے لگی ہائے پہاڑ جیسا بھائی، ہائے ایسا بھائی!   (یعنی ان کے اوصاف بیان کرنے لگی)  پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ تم نے میرے بارے میں جو بھی بات کہی مجھ سے کہا گیا:  کیا تم ایسے ہی ہو؟ ‘‘  پھر جب آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا انتقال ہو گیا تو وہ نہیں روئی۔ ‘‘   ( صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب غزوۃ موتۃالخ الحدیث: ۴۲۶۷  / ۴۲۶۸،ص۳۴۹)

{23}…طبرانی شریف کی روایت میں یہ  الفاظ زائدہیں کہ حضرت سیدنا عبد اللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  جب مجھ پر غشی طاری ہو ئی اور عورتیں چلا چلا کر کہنے لگیں :   ’’ ہائے میرے سردار، ہائے میرے پہاڑ !  ‘‘  تو ایک فرشتہ کھڑا ہوا اس کے پاس ایک لوہے کی سلاخ تھی اس نے اسے میرے قدموں میں رکھ کر پوچھا :  ’’ کیا تم ایسے ہی ہو جیسا یہ کہہ رہی ہیں ؟ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ نہیں !  ‘‘  اگر میں ہاں کہہ دیتا تو وہ مجھے اس سے مارتا۔ ‘‘           

 (الترغیب والترہیب،کتاب الجنائز،باب الترہیب من النیاحۃ علی المیتالحدیث: ۵۴۱۵،ج۴،ص۱۸۴)

{24}…حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   (نے اپنی زوجہ سے)  ارشاد فرمایا:   ’’ تم جب بھی ہائے فلاں کہتی تو فرشتہ سختی سے جھڑک کر پوچھتا کیا تم ایسے ہی ہو؟ ‘‘  تو میں کہتا:   ’’ نہیں ۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۰،ج۲۰،ص۳۵)

{25}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جب کوئی شخص مرتا ہے اور اس کی قوم کا نوحہ خواں ہائے ہمارے پہاڑ ،ہائے ہمارے سردار وغیرہ کہتا ہے، تو اس پر دو فرشتے مقرر کر دئیے جاتے ہیں جو اس کا گریبان پکڑ کر پوچھتے ہیں :  ’’  کیا تم ایسے ہی تھے؟ ‘‘   (جامع الترمذی ،ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی کراھیۃ البکاء الخ ، الحدیث:  ۱۰۰۳ ، ص۱۷۴۷)

{26}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ میت کو زندہ لوگوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے،وہ میت کتنی بُری ہے جب رونے والی عورت کہتی ہے:  ’’  ہائے ہمارے بازو!  ہائے ہمارے تن ڈھانپنے والے!  ہائے ہمارے مددگار!  ‘‘  تواسسے پوچھا جاتا ہے:  ’’ کیا تو ہی اس کا مددگار تھا؟کیا تو ہی اس کا تن ڈھانپتا تھا؟ ‘‘  

 ( المستدرک،کتاب التفسیر ، باب الاسلام ثلاثون سھما الخ ، الحدیث:  ۳۸۰۷،ج۳ ،ص۲۷۸)

{27}…سیدناامام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہبیان فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک گھرسے رونے کی آواز سنی تو اس میں داخل ہو گئے، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو ہٹاتے ہٹاتے اس نوحہ کرنے والی عورت کے پاس پہنچ گئے اور اسے اتنا مارا کہ اس کا دوپٹہ گر گیا،پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اسے مارو کیونکہ یہ نائحہ  (یعنی نوحہ کر نے والی )  ہے اور اس کی کوئی حرمت  یا لحاظ نہیں ، یہ تمہارے غم کی وجہ سے نہیں روتی بلکہ تم سے درہم بٹورنے کے لئے روتی ہے، یہ تمہارے مُردوں کو قبروں میں اور زندوں کو گھروں میں ایذاء پہنچاتی ہے، یہ صبر سے روکتی ہے حالانکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے صبر کا حکم دیا ہے اور سوگ کی ترغیب دیتی ہے حالانکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اس سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 (کتاب الکبائر،الکبیرۃ التاسعۃ والأربعون،ص۲۱۲)

تنبیہ:

                ہماری بیان کردہ ان احادیثِ مبارکہ اور ان کے لعنت پر مشتمل ہونے اور کفر کا سبب ہونے یا اسے حلال جاننے کی صورت میں کفر ہونے یا نعمتوں کی ناشکری وغیرہ وعیدوں سے متعدد علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے قول کی صحت ثابت



Total Pages: 320

Go To