Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کبیرہ نمبر113:         

مصیبت کے وقت چہرہ نوچنا

کبیرہ نمبر114:         

مصیبت کے وقت چہرے پر تھپڑ مارنا

کبیرہ نمبر115:         

مصیبت کے وقت گریبان چاک کرنا

کبیرہ نمبر116:         

مصیبت کے وقت نوحہ کرنا یا سننا

کبیرہ نمبر117:         

مصیبت کے وقت بال مونڈنا یا نوچنا

کبیرہ نمبر118:         

مصیبت کے وقت ہلاکت و بربادی کی دعا کرنا

{1}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار بِاذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جو گال پیٹے، بال نوچے اور جاہلیت کی دعا مانگے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘   ( صحیح البخاری،کتا ب الجنائز،باب لیس من ضرب الخدود،الحدیث: ۱۲۹۷،ص۱۰۱)

{2}…حضرت سیدناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ جس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیزار ہیں ،میں بھی اس سے بیزار ہوں ، بے شک سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممصیبت کے وقت نوحہ کرنے والی، بال منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورت سے بیزار ہیں ۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الجنائز ، باب ما ینھی من الحلق عن المصیبۃ ، الحدیث: ۱۲۹۶ ، ص۱۰۱)

{3}…اور نسائی شریف کی روایت میں ہے:   ’’ میں تم سے اسی طرح بیزار ہوں جس طرح  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے سر منڈوایا، گریبان چاک کیا اور نوحہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘                 (سنن النسائی،کتاب الجنائز،باب الرخصۃ فی النکاء علی المیتالخ،الحدیث: ۱۸۶۲،ص۲۲۱۰)

{4}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے  ’’ لوگوں میں دو باتیں کفرکے مترادف ہیں :   (۱) نسب میں طعن کرنا اور  (۲) میت پر نوحہ کرنا۔ ‘‘    ( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب اطلاق اسم الکفر الخ ، الحدیث:  ۲۲۷ ، ص ۶۹۱)

{5}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے:   ’’  تین باتیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے کفر کے مترادف ہیں :   (۱) گریبا ن چاک کرنا (۲) نوحہ کرنا اور (۳) نسب میں طعن کرنا۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الجنائز ، فصل فی النیاحۃ ونحوھا ، الحدیث:  ۳۱۵۱ ، ج ۵، ص۶۴)

{6}…ابن حبان کی ایک روایت میں ہے:   ’’ تینباتیں کفر ہیں ۔ ‘‘  (المرجع السابق، الحدیث:  ۳۱۵۱ ، ج۵،ص ۶۴)

{7}…اور دوسری روایت میں ہے  ’’ تین باتیں جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں ۔ ‘‘    (المرجع السابق،الحدیث: ۳۱۳۱)

{8}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں :   ’’ جب رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مکہ مکرمہ فتح فرمایا تو ابلیس اس قدر دھاڑیں مار مار کر رویا کہ اس کا لشکر اس کے پاس جمع ہو گیا تو وہ بولا:  ’’ آج کے بعد اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو شرک میں مبتلا کرنے سے مایوس ہو جاؤ، ہاں البتہ ان کے دین کے معاملے میں انہیں فتنہ میں ڈالو اور نوحہ کرنا ان میں عام کر دو۔ ‘‘                        ( المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۲۳۱۸،ج۱۲،ص۹)

{9}…نبی ٔکریم، رء ُوفٌ رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ دو آوازوں پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے:   (۱) خوشی کے وقت باجوں کی آواز اور  (۲) مصیبت کے وقت چلانے کی آواز۔ ‘‘   (مجمع الزوائد،کتاب الجنائز،باب فی النوح،الحدیث: ۴۰۱۷،ج۳ ،ص۱۰۰)

{10}…رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ چلا کر رونے والی اور نوحہ کرنے والی پر ملائکہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے۔ ‘‘       ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسندابی ھریرۃ ، الحدیث:  ۸۷۵۴، ج۳ ، ص ۲۸۷)

{11}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ میری اُمت جا ہلیت کے چارکام نہیں چھوڑے گی:   (۱) خاندانی شرافت یعنی عظمت پر فخر کرنا (۲) نسب یعنی رشتہ داری میں طعن کرنا  (۳) ستاروں سے بارش طلب کرنا اور  (۴) نوحہ کرنا۔ ‘‘    (صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب التشدید فی النیاحۃ،الحدیث: ۲۱۶۰،ص۸۲۴)

{12}…نبی ٔکریم،رء ُوفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کر کے پگھلے ہوئے تانبے یا تارکول کا لباس اور کھجلی کا دوپٹہ پہنایا جائے گا۔ ‘‘                           (المرجع السابق)

{13}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے اور اگر نوحہ کرنے والی بغیر توبہ کئے مر جائے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ