Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

          اس حدیثِ پاک میں عورتوں کے لباس میں ملبوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گی، جبکہ بے لباس ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ نعمتوں کا شکرادانہیں کریں گی،یااس سے مرادیہ ہے کہ ظاہری طور پرتو لباس زیبِ تن کریں گی مگرحقیقتاًبے لباس ہوں گی،وہ اس طرح کہ وہ ایساباریک لباس پہنیں گی جن سے ان کا بدن جھلکے گا، راہِ حق سے بھٹکنے سے مراد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ا طاعت سے روگردانی اورفرائض و واجبات کی ادائیگی اوران کی حفاظت سے منہ پھیرنا ہے اور راہِ حق سے ہٹانے سے مراد یہ ہے کہ وہ دوسری عورتوں کو اپنے مذموم فعل کی طرف بلائیں گی۔یاراہِ حق سے ہٹنے سے مرادمٹک مٹک کرچلناہے اورراہِ حق سے ہٹانے سے مرادکندھوں کوجھٹک کردوسروں کواپنی طرف مائل کرناہے یاپھرراہِ حق سے ہٹنے سے مرادبازاری عورتوں کی طرح اپنے بال کنگھی سے سنوارناہے اورراہِ حق سے ہٹانے سے مرادبازاری عورتوں کی مثل دوسروں کے بال سنوارنا (یعنی ہیئراسٹائل بنانا) ہے اورعورتوں کے سروں کابختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہونے سے مرادیہ ہے کہ وہ اپنے سرپرکوئی کپڑایاپٹی لپیٹ کراسے بلند کرکے اترائیں گی۔

{2}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میری اُمت کے آخر میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جو زینوں پر سوار ہوں گے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہو گی جو خود تو مساجد کے دروازوں پر پڑاؤ ڈالے ہوں گے لیکن ان کی عورتیں  (اتنا باریک)  لباس پہنے ہوں گی (کہ)  بے لباس  (معلوم)  ہوں گی، لاغر وکمزور بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح سروں کو اٹھائے ہوں گی، ان عورتوں پر تم بھی لعنت بھیجو کیونکہ ان پر لعنت کی گئی ہے، اگر تمہارے بعد کوئی اُمت ہوتی تو  تمہاری عورتیں اس اُمت کی اسی طرح خدمت کرتیں جس طرح تم سے پہلی اُمتوں کی عورتوں نے تمہاری خدمت کی ہے۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الحضر والا با حۃ ، باب اللعن ، الحدیث:  ۵۷۲۳ ، ص ۵۰۲)

{3}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے مرسلاً مروی ہے:  ’’ میری بہن حضرت سیدتنا اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں تو شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باِنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے چہرۂ انور پھیر لیا اور ارشاد فرمایا:  ’’ اے اسماء ! عورت جب حیض  (یعنی ماہواری)  کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کی ان  (دو)  چیزوں کے علاوہ کچھ نہ نظر آنا چاہئے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ ‘‘   ( سنن ابی داؤد،کتاب اللباس ، باب فیماتبدی المرأۃ من زینتھا ، الحدیث: ۴۱۰۴ ، ص ۱۵۲۲)

تنبیہ:

                اس سخت تر وعید کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کرنا بالکل واضح ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا بلکہ یہ پچھلی عورتوں کے مردوں سے تشبہ کی بناء پر ظاہر ہے۔

                سیدناامام ذہبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جن کاموں کی وجہ سے عورتوں پر لعنت کی گئی ہے ان میں اپنی زینت کا اظہار مثلاً نقاب کے نیچے سے سونے یا موتیوں کے زیور ظاہر کرنا اور گھر سے نکلتے وقت خوشبو مثلاً مشک وغیرہ لگا کر نکلنا ہے، اسی طرح نکلتے وقت ہر ایسی چیز پہننا جو آراستہ ہونے کی طرف لے جائے جیسے برقعے کو رنگنا، ریشم کا تہبند پہننا اور آستین کو کھلا رکھنا یہ تمام باتیں آراستگی سے تعلق رکھتی ہیں کہ جن کے کرنے پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دنیا وآخرت میں سخت ناراض ہوتا ہے اورعورتوں پر یہی قبیح عادتیں غالب ہوتی ہیں ۔

{4}…انہیں کے بارے میں سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھاجہنم والوں میں زیادہ جہنمی تعداد عورتوں کی ہے۔ ‘‘   (صحیح البخاری ،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی صفۃ الجنۃالخ،الحدیث: ۳۲۴۱،ص۲۶۳)

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر109:         

بطورِتکبرشلوار،کپڑا،آستین یا دامن بڑا رکھنا

کبیرہ نمبر110:         

اِترا کر چلنا

{1}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے:  ’’ ازار  (یعنی تہبند)  کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔ ‘‘     (صحیح البخاری ،کتاب اللباس،باب اسفل من الکعبین فھو فی النار،الحدیث: ۵۷۸۷،ص۴۹۴)

{2}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’ مؤمن کا ازار اس کی پنڈلی کے پٹھوں تک ہے، پھر نصف پنڈلی تک، پھر ٹخنوں تک اور ٹخنوں سے نیچے جو ہوگا وہ جہنم میں ہے۔ ‘‘

 ( الترغیب والرھیب،کتاب اللباس والزینۃ ،باب الترغیب فی القمیصالخ،الحدیث: ۲،ج۳،ص ۶۴)

{3}…نبیٔ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظرِ رحمت نہ فرمائے گا جو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلے گا۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم جر الثوبالخ، الحدیث: ۵۴،۵۴۵۳،ص۱۰۵۱)

                اور ایک روایت میں ہے کہ  ’’  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گاجو غرور کی وجہ سے اپنا کپڑاگھسیٹ کر چلے گا۔ ‘‘  

 (المرجع السابق، الحدیث: ۵۴۶۳،ص۱۰۵۱)

{4}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ جو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑاگھسیٹ کر چلے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اگر میں اپنے تہبند کا خیال نہ رکھوں تو وہ ڈھیلا ہو کرلٹک جاتا ہے۔ ‘‘  توحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔ ‘‘    (سنن ابی داؤد،کتاب اللباس،باب فی قدرموضع الازار،الحدیث: ۴۰۹۵،ص۱۵۲۲)

{5}…حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ان دو کانوں سے رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جو محض تکبر اور لوگوں کی تحقیر کے ارادے سے اپنا تہبند گھسیٹ کر چلے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘   (صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم جرالثوبالخ،الحدیث: ۵۴۵۹،ص۱۰۵۱)

{6}…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمانے ارشاد فرمایا :  ’’ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو احکام ازار یعنی تہبند کے بارے میں ارشاد فرمائے قمیص کے بھی وہی



Total Pages: 320

Go To