Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{22}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ریشمی لباس پہنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بروزِقیامت ایک دن آگ یاآگ کا لباس پہنائے گا۔ ‘‘                    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۷۰  / ۱۷۱،ج ۲۴،ص ۶۵)

{23}…ایک اور روایت میں ہے کہ رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے دنیا میں ریشم کا لباس پہنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم میں ذلت کا لباس یا جہنم کا لباس پہنائے گا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الحریر والذھب ، الحدیث: ۸۶۴۴ ،ج ۵،ص ۲۴۹)

{24}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے :  ’’ جس نے ریشمی لباس پہنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے پورے ایک  دن آگ کا لباس پہنائے گا جو تمہارے دنوں جیسا نہ ہو گابلکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ایام بہت طویل ہیں ۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد،کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الحریر والذھب ، الحدیث ۸۶۴۶ ،ج ۵،ص ۲۵۰)

 

٭٭٭٭٭٭

 

کبیرہ نمبر106:                                         

مرد کا زیور پہننا

یعنی عاقل و بالغ مرد کا سونے یاچاندی کازیورپہنناجیسے سونے کی انگوٹھی یاانگوٹھی کے علاوہ چاندی کا زیور پہننا

{1}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ ریشم اور سونا ہرگز نہ پہنے۔ ‘‘                                  (المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث: ، ۲۲۳۱۱ ،ج۸ ،ص ۲۹۳)

{2}…حضرت سیدناعبد اللہ  بن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ  ’’ نبی کریم، رء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے ’’ میرا جو اُمتی اس حال میں مراکہ شراب پیتاتھا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جنت میں اس پر ( جنتی)  شراب پینا حرام کر دے گا اور میرا جو اُمتی اس حال میں مراکہ دنیا میں سونے کا زیور پہنتاتھا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جنت میں اس پر سونا پہننا حرام فرما دے گا۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۶۹۶۶، ج۲ ،ص ۶۵۹)

{3}…رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا اور ارشاد فرمایا  ’’ تم میں سے کوئی آگ کے انگارے کاارادہ کرتا ہے پھر اسے اپنے ہا تھ میں رکھ لیتا ہے۔ ‘‘  حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا :  ’’ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اسے بیچ کر نفع اٹھاؤ۔ ‘‘  تو اس نے کہا :  ’’ خداعَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  جس انگوٹھی کو اللّٰہکے رسول عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھینک دیا میں اسے ہر گز نہیں اٹھاؤں گا۔ ‘‘      ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس والزینۃ ، تحریم خاتم الذھب علیالخ ،الحدیث:  ۵۴۷۲ ، ص ۱۰۵۲)

{4}…نجران سے ایک شخص شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے اپنارخِ انور پھیر لیا اور ارشاد فرمایا :  ’’ تم اس حال میں میرے پاس آئے ہو کہ تمہارے ہاتھ میں آگ کا انگارہ ہے۔ ‘‘

 ( سنن النسائی ،کتاب الزینۃ ، باب حدیث ابی ھریرۃ والاختلاف علی الخ ، الحدیث:  ۵۱۹۱، ص ۲۴۲۱)

{5}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  عبرت نشان ہے :  ’’ عورتوں کو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور زرد رنگ سے رنگے ہوئے لباس نے ہلاکت میں ڈال دیا۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الرھن ،باب ماجاء فی الفتن ، الحدیث:  ۵۹۳۷، ج۷ ، ص ۵۸۳)

{6}…سرکارِمدینہ،قرارِقلب وسینہ،فیضِ گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں :  ’’ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جنت کی اعلیٰ منزلوں میں مہاجرین فقرأ اور مؤمنین کی اولاد کو پایا جبکہ عورتوں اور اغنیاء میں سے ایک بھی وہاں نہ تھا، پھر مجھے بتایا گیا:  ’’ اغنیاء تو جنت کے دروازے پر ہیں ان سے حساب لیا جا رہا ہے اور ان کے گناہ زائل کئے جا رہے ہیں جبکہ عورتوں کو سونے اور ریشم نے غفلت میں ڈال دیا ہے۔ ‘‘                     (الزہدالکبیرللبیہقی،فصل فی ترک الدنیاالخ،الحدیث: ۴۴۵،ص۱۸۵)

                اس حدیثِ پاک سے پچھلی حدیثِ پاک کے الفاظ ’’ عورتوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ‘‘  کے معنی بھی معلوم ہوگئے کہ یہ دونوں چیزیں عورتوں کے بھلائی سے غافل ہونے اوراُس سے روگردانی کرنے کا سبب ہیں ، ظاہری معنی مراد نہیں کیونکہ یہ دونوں چیزیں بالاجماع عورتوں کے لئے حلال ہیں ۔

تنبیہ:

                ریشم پہننے کو گناہ کبیرہ میں شمار کرنا گذشتہ صحیح احادیثِ مبارکہ میں آنے والی سخت وعید سے ظاہر ہے مگر ہمارے جمہور شافعی ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک ریشم پہننا صغیرہ گناہ ہے، شاید ان کی نظر کبیرہ گناہ کی اس تعریف پر ہے کہ  ’’ جس گناہ پر سزا لازم آئے وہ کبیرہ ہے۔ ‘‘  حالانکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ صحیح قول اس کے خلاف ہے، لہٰذا ان احادیثِ مبارکہ میں غور کرتے وقت اس بات کونظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ ان ( احادیثِ مبارکہ)  میں سخت اور حتمی وعیدکی بناء پریہ عمل کبیرہ گناہ ہے، سیدنا جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ نے اسی کو اختیار کیا اور امام الحرمین بھی اسی طرف مائل ہوئے اور جس سونے کیپہننے کو میں نے کبیرہ گناہ شمار کیا ہے وہ مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں موجود سخت وعید کی بناء پر کبیرہ کہلانے میں ریشم سے زیادہ اَولیٰ ہے جبکہ میرے نزدیک چاندی کے زیورات کو اس حکم کے ساتھ ملحق کرنے کابھی احتمال ہے اگرچہ اس میں یہ فرق بیان کرنا ممکن ہے کہ سونے کے استعمال کا گناہ  زیادہ سخت ہے، اسی لئے ہمارے بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا ’’ مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ چاندی کے بعض زیورات پہننابھی جائزہے۔ ‘‘  جبکہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے چاندی کی انگوٹھی کے جائزبلکہ مستحب ہونے اور سونے کی انگوٹھی کے حرام ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ ([1]  )

 فوائد ومسائل:

 



[1] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ  القوی فرماتے ہیں : ’’مرد کو زیورپہننا مطلقاً حرام ہے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں (نگینے کے علاوہ ) ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو۔‘‘           (بہار شریعت، ج۲، حصہ ۱۶، ص ۴۹)



Total Pages: 320

Go To