Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{9}…نسائی شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ اور جو آخرت میں ریشم نہ پہن سکے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ (۲۳)   (پ۱۷، الحج: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔

 ( السنن الکبرٰی للنسائی،کتاب  الزینۃ ، باب لبس الحریر ، الحدیث: ۹۵۸۴،ج۵،ص۴۶۵)

{10}…حضرت سیدناعقبہ بن عامررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماپنے گھر والوں کو زیور اور ریشم سے منع کرتے اور ارشاد فرماتے :  ’’ اگر تم جنت کے زیور اور ریشم کو پسند کرتے ہو تو دنیا میں یہ دو چیزیں نہ پہنا کرو۔ ‘‘     ( المستدرک،کتاب اللباس ، باب من کان یومن باللہ  الخ ، الحدیث ۷۴۸۰، ج۵ ،ص ۲۶۹)

                حضرت سیدنا عقبہ بن عامررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور ابن زبیررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کااس وعید کہ ’’ جو دنیا میں اسے پہنے گا آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ ‘‘  سے یہ سمجھنا کہ یہ عورتوں اور ان کی مثل ان افراد کے حق میں بھی جاری ہو تی ہے جن کے لئے اس کاپہننا جائز ہے، فقط احتیاط کی بناء پر تھا، ورنہ عورتوں کے لئے اس کے استعمال کے جوازسے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں آخرت میں ریشم کے استعمال سے منع نہ کیا جائے گا۔

{11}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ریشم کی ایک قبا تحفۃ ً پیش کی گئی، جس کا پچھلا حصہ چاک تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے زیبِ تن فرما کر نماز ادا فرمائی، پھر جب نماز پوری ہو گئی تو اسے زورسے کھینچ کر اُتاردیاگویاکہ اُسے ناپسند فرماتے ہوں ، پھر ارشاد فرمایا :  ’’ پرہیز گاروں کو ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس ، باب تحریم لبس الحریر للرجال ، الحدیث ۵۴۲۷، ص۱۰۴۹ )

{12}…حضرت سیدنا عقبہ بن عامررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’  میں نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘  اور میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے سرکارِ مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :   ’’ جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ ‘‘    (صحیح ابن حبان ،کتاب اللباس وآدابہ،الحدیث: ۵۴۱۲،ج۷،ص۳۹۶)

{13}…حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ’’ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے اور ریشم و دیباج (کے کپڑے) پہننے یا ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب اللباس، باب افتر اش الحریر ، الحدیث ۵۸۳۷، ص ۴۹۸)

{14}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات اور اس کے حساب کی امید رکھتا ہے وہ ریشم سے (بطورِپہننے یااس پربیٹھنے کے) فائدہ نہ اٹھائے۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۲۲۳۶۵، ج۸ ، ص ۳۰۶)

{15}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سروَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جسے آخرت میں ریشم پہننے کی اُمید نہیں ہوتی۔ ‘‘    ( المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث ۸۳۶۳ ، ج۳ ،ص۲۲۱)

{16}…حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ ان لوگوں کا کیاحال ہے کہ اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف سے اتنی سخت وعیدیں پہنچنے کے باوجود بھی وہ ریشم کو اپنے لباس یا گھروں میں استعمال کرتے ہیں ۔ ‘‘                                (المرجع السابق)

{17}…دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اس اُمت میں ایک قوم کھانے پینے اور لہو ولعب میں مشغول ہو کر رات گزارے گی، پھر صبح اس حال میں کرے گی کہ ان کی شکلیں بگڑکر خنزیر اور بندر ہو چکی ہوں گی اور ان کے ساتھ دھنسانے اور پتھر برسانے کا معاملہ ہو گا یہاں تک کہ لوگ صبح کریں گے تو کہیں گے :  ’’ آج رات فلاں قوم دھنسا دی گئی، آج رات فلاں کے گھر کو دھنسا دیا گیا۔ ‘‘ اور ان پر آسمان سے پتھر برسائے جائیں گے جیسا کہ قومِ لوط کے قبیلوں اور گھروں پر برسائے گئے اور ا ن کی طرف سخت ہوا بھیجی جائے گی جیسا کہ قومِ عاد کے قبیلوں اور گھروں کی طرف بھیجی گئی، یہ ان کے شراب پینے، ریشم پہننے،گانے والی عورتیں اپنانے ،سود کھانے اور قطع رحمی کی وجہ سے ہو گا۔ ‘‘

 (الترغیب والترھیب ،کتاب الحدود ، التر ھیب من شرب الخمر الخ ،الحدیث ۳۵۹۴ ،ج۳ ، ص ۱۹۹)

{18}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت میں ایسی قومیں ضرور ہوں گی جو ریشم کو حلال جانیں گی ان میں سے کچھ لوگ قیامت تک کے لئے خنزیر اور بندر بنا دئیے جائیں گے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب اللباس،باب ماجاء فی الخز،الحدیث۴۰۳۹،ص۱۵۱۸)

{19}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جب میری اُمت پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ہلاکت میں مبتلا ہوجائے گی  (۱) ایک دوسرے پر لعنت کرنا  (۲) لوگوں کاشراب پینا  (۳) ریشم کا لباس پہننا  (۴) گانے والی عورتیں رکھنااور  (۵)  مردوں کامردوں پراور عورتوں کا عورتوں پر اکتفاء کرنا ۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب الفتن ،باب ثان فی امارات الساعۃ، الحدیث ۱۲۴۷۹ ، ج۷ ، ص ۶۴۰)

{20}…حضرت سیدنا سعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کے پاس حاضرہونے کی اجازت چاہی وہ ریشم کے تصویر والے گدے سے ٹیک لگائے ہوئے تھا، پس اس نے تکیہ فوراًہٹا دیا اور آپ سے کہنے لگا:  ’’ میں نے یہ آپ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی خاطر ہٹایا ہے۔ ‘‘  توآپ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ تُو کتنا اچھا آدمی ہے اگر تو ان لوگوں میں سے نہیں جن کے بارے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ ارشاد فرمایا ہے :

اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا  (پ۲۶، الاحقاف: ۲۰)

ترجمۂ کنز الایمان  :  ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کر چکے۔

خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  مجھے اس کے ساتھ ٹیک لگانے سے دہکتے ہوئے انگاروں پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے۔ ‘‘



Total Pages: 320

Go To