Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

فرماتے ہوئے سنا :  ’’ لوگ جمعہ نہ پڑھنے کے عمل سے باز آ جائیں ورنہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الجمعۃ ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ ، الحدیث ۲۰۰۲ ، ص ۱۳ ۸)

{3}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے تین جمعے سستی کی وجہ سے جانتے ہوئے چھوڑ دئیے اس کے دل پر مہر لگا دی جائے گی۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ،باب التشدید فی ترک الجمعۃ ،الحدیث: ۱۰۵۲، ص ۱۳۰۱  )

{4}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑ دئیے وہ منافق ہے۔ ‘‘  ( ابن حزیمۃ،کتاب الجمعۃ،باب ذکر الدلیلالخ ،الحدیث: ۱۸۵۷،ج۳ ،ص۱۷۶)

{5}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ جس نے تین جمعے کسی عذر کے بغیر چھوڑ دئیے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے بے علاقہ ہے۔ ‘‘

{6}…حضورنبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے کسی ضرورت کے بغیر  تین مرتبہ جمعہ چھوڑ دیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ ‘‘    (سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات ، باب فیمن ترک الجمعۃ من غیر عذر ، الحدیث ۱۱۲۶ ، ص ۲۵۴۲)

{7}…سیدناامام بیہقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ایک روایت میں اتنازائدہے :  ’’ اور اس کے دل کو منافق کا دل بنا دے گا۔ ‘‘

 ( شعب الایمان،باب الحادی والعشرین ، فضل الجمعۃ ،الحدیث: ۳۰۰۵ ، ج۳ ، ص ۱۰۳)

{8}… ایک اور روایت میں کہ جس کی شواہد بھی ہیں یہ ہے :  ’’ اسے منافقین میں لکھ دیا جائے گا۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ،باب فیمن ترک الجمعۃ، الحدیث:  ۳۱۷۸ ، ج۲ ،ص ۴۲۲)

{9}…اور ایک روایت میں ہے :  ’’ اس نے اسلام کو ضرور پسِ پشت ڈال دیا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب فیمن ترک الجمعۃ، الحدیث ۳۱۷۷ ، ج۲ ،ص ۴۲۲)

{10}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جمعہ کے دن اذان سننے کے باوجود نماز میں حاضر نہ ہونے والے لوگ اپنے فعل سے ضرورباز آجائیں ورنہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کے دلوں پر مہر لگا دے گا تو وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔ ‘‘      (المجعم الکبیر،الحدیث: ۱۹۷،ج۱۹،ص۹۹)

{11}…حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ اے لوگو!  مرنے سے پہلے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں توبہ کر لو، مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کر لو، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو کثرت سے یاد کر کے اور ظاہرو پوشیدہ کثرت سے صدقہ کرکے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے ناطہ جوڑ لو کہ تمہیں رزق دیا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری پریشانیاں دور کر دی جائیں گی اور جان لو!  میری اس جگہ، اس دن، اس مہینے اور اس سال میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے قیامت تک کے لئے تم پرجمعہ فرض فرما دیا ہے لہٰذا جو میری حیاتِ ظاہری میں یا میرے بعد حاکمِ اسلام کی موجودگی میں خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، اسے ہلکا جان کریابطورِ انکار چھوڑے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے بکھرے ہوئے کام جمع نہ فرمائے گا اور نہ ہی اس کے کام میں برکت دے گا، سن لو!  جب تک وہ توبہ نہ کرے گا اس کی کوئی نماز ہے  نہ زکوٰۃ، نہ حج، نہ روزہ اور نہ ہی کوئی نیک عمل جب تک توبہ کرے اور جوتوبہ کرلے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرما لیتاہے ۔ ‘ ‘

 (سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات،با ب فی فرض الجمعۃ ،الحدیث: ۱۰۸۱،ص۲۵۴۰)

تنبیہ:

                بیان کردہ ان احادیثِ مبارکہ سے اس گناہ کا کبیرہ گناہوں میں سے ہونا بالکل واضح ہے اور بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت بھی کی ہے، ابوابِ فقہ میں مذکور وہ افراد جنہیں کوئی عذر نہ ہو، اُن پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا بالاجماع فرضِ عین ہے، بلکہ یہ تو ضروریاتِ دین میں سے ہے لہٰذا جو مسلمان کہلانے والا شخص نمازِ جمعہ چھوڑنے کو حلال سمجھے ظاہرا ًاس پر حکمِ کفر ہونا چاہئے کیونکہ نمازِ جمعہ کے فرض ہونے پر سب کا اتفاق ہے اوریہ ضروریات دین میں سے بھی ہے اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کہے :  ’’ میں نمازِ ظہر پڑھوں گا، جمعہ نہیں ۔ ‘‘  تو ہمارے یعنی شافعیوں کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ فرضِ عین کو چھوڑنے کے مترادف ہے۔

                سیدنا حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ نمازِ جمعہ کو کسی دوسری نماز کی وجہ سے چھوڑ دینا صغیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ یہاں ان کے قول میں کسی دوسری نماز سے مراد جمعہ کے بدلے ظہر کی نماز پڑھنا ہے اور ان کی یہ بات کہ  ’’ یہ صغیرہ گناہ ہے ‘‘  محلِ نظر ہے۔ جیسا کہ سیدنا اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان فرمایا ۔

                شاید سیدنا حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ بیان اس ضعیف قول پر مبنی ہے جو یہ ہے :  ’’ جو یہ کہے کہ میں ظہر پڑھوں گا جمعہ نہیں پڑھوں گا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘  اور اسی طرح یہ قول کہ ’’  جمعہ نمازِظہر کی قصر ہے ‘‘ بھی ضعیف ہے جبکہ صحیح تر قول یہ ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا (احناف کے نزدیک قتل نہیں بلکہ قیدکیاجائے گا)  کیونکہ نماز جمعہ ایک مستقل نماز ہے نمازِ ظہر کا بدل نہیں ، لہٰذا اسے چھوڑ دینا کبیرہ گناہ ہے اگرچہ وہ یہ کہتا ہو کہ میں ظہر پڑھوں گا۔

نماز جمعہ نہ پڑھنے کا کفارہ:

{12}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی عذر کے بغیر نمازِ جمعہ چھوڑ دی وہ ایک دینار صدقہ کرے اورجونہ پائے وہ نصف دینار صدقہ کرے ([1]  ) ۔ ‘‘

 ( سنن النسائی،کتاب الجمعۃ ، باب کفارۃ من ترک الجمعۃ منالخ ، الحدیث: ۱۳۷۳،ص۲۱۷۷)

{13}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ ایک درہم یا نصف درہم صدقہ کرے یا ایک صاع یا ایک مد صدقہ کر دے۔ ‘‘

 ( السنن الکبری للبیہقی،کتاب الجمعۃ ،باب ماورد فی کفارۃ من ترک الجمعہ الخ ، الحدیث: ۵۹۹۰،ج۳،ص۳۵۲)

{14}…جبکہ ایک اور روایت میں ہے :  ’’ ایک یا نصف صاع گندم صدقہ کرے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب کفارۃ من ترکھا،الحدیث: ۱۰۵۴،ص۱۳۰۱)

نوٹ: حدیثِ پاک میں مذکور  ’’ صاع ‘‘ اور ’’  مُد ‘‘ دو پیمانوں کے نام ہیں ۔

 



[1] ۔۔۔۔