Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{1}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو عورت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے باپ، بھائی، شوہر، بیٹے یا کسی محرم کے بغیرتین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم کتاب الحج، باب سفر المراۃ مع محرم الی حج وغیرہ، الحدیث: ۳۲۷۰ ، ص ۹۰۱)

{2}…بخاری ومسلم ہی کی ایک روایت میں  ’’ دو دن ‘‘ کا تذکرہ ہے۔

 ( صحیح البخاری ،کتاب جزاء الصید،باب حج النسائ،الحدیث۱۸۶۴،ص۱۴۶)

 ( صحیح مسلم ،تاب الحج ، باب سفر المراٗۃ مع محرم ، الحدیث ۳۲۶۱ ، ص ۹۰۱)

{3}…بخاری ومسلمہی کی ایک دوسری روایت میں  ’’ ایک دن اور ایک رات کی مسافت ‘‘  کا تذکرہ ہے۔

 ( صحیح البخاری ،کتاب التقصیر، باب فی کم یقصر الصلاۃ ، الحدیث ۱۰۸۸ ، ص ۸۵)

{4}…جبکہ بخاری ومسلم ہی کی ایک روایت میں  ’’ ایک دن کی راہ ‘‘ کے سفر کاذکر ہے۔

 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب سفر المراۃ مع محرم ، الحدیث ۳۲۶۷ ، ص ۹۰۱)

{5}…اور بخاری ومسلمہی کی ایک دوسری روایت میں  ’’ ایک رات کی راہ ‘‘  کا تذکرہ ہے۔

 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب سفر المرأۃ مع محرم ، الحدیث ۳۲۶۶،ص۹۰۱)

{6}…اور ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے :  ’’ دو منزل کا سفر کرے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤ د،کتاب المناسک ،باب فی المراۃ تحج بغیر محرم، الحدیث ۱۷۲۴،۲۵ ۱۷ ، ص ۱۳۵۱)

تنبیہ:

                مذکورہ قید  (یعنی آبروریزی کے خدشہ) کے ساتھ عورت کے تنہا سفر کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس صورت پر اکثر سخت خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ خرابیاں بدکار اور فاسق لوگوں کااس عورت پر قابو پا لینا ہے جو کہ زنا کا وسیلہ ہے اور وسائل پر مفاسد ہی کا حکم جاری ہوتا ہے، جبکہ عورت کے تنہا سفر کرنے کی حرمت میں یہ قید ضروری نہیں کیونکہ عورت کے لئے محرم کے بغیر سفر کرنا حرام ہے اگرچہ سفر کم ہی ہو اور کسی قسم کا اندیشہ بھی نہ ہو خواہ کسی نیکی کے لئے ہی ہو جیسے نفلی حج یاعمرے کے لئے ہو اور اگرچہ مقامِ تنعیم سے عورتوں ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو اورعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اسے صغیرہ گناہوں میں شمار کرنے کو اسی صورت پر محمول کیا جائے گا۔

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

کبیرہ نمبر101:   

بدفالی کی بناء پرسفرنہ کرنااورواپس لوٹ آنا

{1}…حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بد فالی لینا شرک ہے، بدفالی لینا شرک ہے اور ہر شخص کے دل میں اس کاخیال بھی آتا ہے مگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ توکّل کے ذریعے اسے دور فرما دیتا ہے۔ ‘‘               (سنن ابی داؤد ،کتاب الکھانۃ والطیر،باب فی الطیرۃ ، الحدیث ۳۹۱۰ ، ص ۱۵۱۰)

                حافظ ابو القاسم اصفہانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ میری اُمت کے ہر شخص کے دل میں ان میں سے کچھ نہ کچھ خیال آتا ہے مگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہر اس شخص کے دل سے یہ خیال نکال دیتا ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرتا ہے اور اس بد فالی پر ثابت قائم نہیں رہتا۔ ‘‘

{2}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پرندے اڑا کر یا کسی اور چیز سے بدشگونی مراد لینا بے برکت کاموں میں سے ہے۔ ‘‘   ( سنن ابی داؤد ،کتاب الکھانۃ والتطیر،باب فی الخط وزجرالطیر ،الحدیث: ۳۹۰۷، ص۱۵۱۰)

{3}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اٹکل پچوسے غیب کی بات بتائی یا جوئے کے تیروں کے ذریعے کسی سے قسم اٹھوائی یا بدشگونی کی وجہ سے سفر سے لوٹ آیا وہ بلند درجوں تک ہر گز نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘   ( شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل ، فصل فی ذمہ بناء مالا یحتاج الخ ، الحدیث:  ۱۰۷۳۹ ج۷، ص ۳۹۸)  

تنبیہ:

                پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے ظاہری معنی کی وجہ سے بدفالی کو گناہِ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہو جو بدفالی کی تاثیر کا اعتقاد رکھتا ہو جبکہ ایسے لوگوں کے اسلام (یعنی مسلمان ہونے نہ ہونے) میں کلام ہے۔

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب صلاۃ الجمعۃ

نمازِ جمعہ کا بیان

کبیرہ نمبر102:       

بلا عذر نمازِ جمعہ جماعت کے ساتھ نہ پڑھنا اگرچہ یہ کہے :  ’’ میں ظہر کی نماز تنہا پڑھ لیتاہوں ۔ ‘‘

{1}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ جمعہ سے رہ جانے والے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر  (بلاعذر)  جمعہ سے رہ جانے والوں پر ان کے گھروں کو جلا دوں ۔ ‘‘    (صحیح مسلم ،کتاب المساجد،باب فضل صلاۃ الجماعۃالخ،الحدیث: ۱۴۸۵،ص۷۷۹)

{2}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے منبر کے زینے پر بیٹھے یہ ارشاد



Total Pages: 320

Go To