Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن مسعود، الحدیث: ۴۳۴۲،ج۲،ص۱۷۴)

{6}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ حمام اور قبرستان کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب فی المواضع التی لا تجوز فیھا الصلاۃ ،الحدیث۴۹۲،ص۱۲۵۹)

{7}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یہود کو ہلاک فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لیا۔ ‘‘      ( صحیح البخاری ،کتاب الصلاۃ ، باب  ( ۵۵)  ، الحدیث ۴۳۷ ، ص ۳۷)

{8}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یہود و نصارٰی پر لعنت فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لیا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب النھی عن بناء المسجد علی القبور الخ ،الحدیث ۱۱۸۶ ، ص۷۶۰)

{9}… (حضرت سیدتنا اُم حبیبہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  اور اُم المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے حبشہ کی ہجرت سے واپسی کے بعد جب حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں عیسائیوں کے عبادت خانوں میں تصاویر کی موجودگی کا تذکرہ کیا جو انہوں نے وہاں ملاحظہ فرمائی تھیں تو)  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یقینا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک شخص مر جاتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اس میں اس کی تصویریں بنا دیتے ،یہی لوگ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بدترین مخلوق ہوں گے۔ ‘‘  ( صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ،باب ہل تنبش قبورمشرکی الجاھلیۃ الخ،الحدیث: ۴۲۷،ص۳۶)

{10}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ،باب مایکرہ للمصلی ومالایکرہ ،الحدیث ۲۳۱۷ ، ج۴ ، ص ۳۴)

{11}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ سب سے بدتر لوگ وہ ہیں جن کی زندگی میں ہی ان پر قیامت قائم ہو گی اور ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لیتے ہیں ۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۰۴۱۳ ، ج۱۰ ، ص۱۸۸)

{12}…سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سن لو!  تم سے قبل لوگ اپنے انبیاء  (علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام) اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لیتے تھے، تم قبروں کو ہر گز سجدہ گاہ  نہ بنانا، میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں ۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الفضائل،باب ذکر الصحابۃ وفضلہم رضی اللہ  تعالی عنہم،الحدیث: ۳۲۵۵۷،ج۱۱،ص۲۴۹)

{13}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک لوگوں میں سب سے بدتروہ لوگ ہیں جو قبروں کو  سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں ۔ ‘‘  ( المصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی القبور ،الحدیث ۱۵۸۸ ، ج ۱ ،ص ۳۰۷)

{14}…رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کرام علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لیتے تھے اسی لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر لعنت فرمائی۔ ‘‘

 (  المصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی القبور ،الحدیث ۱۵۹۳ ، ج ۱ ، ص ۳۰۸)

تنبیہ:

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کی وجہ سے ان 6کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، شاید انہوں نے میری بیان کردہ انہی احادیثِ مبارکہ سے استدلال کیا ہے، ان میں سے قبر کو سجدہ گاہ  بنا لینے کے کبیرہ گناہ ہونے پر استدلال کرنا تو بالکل واضح ہے کیونکہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انبیاء کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ  بنا لینے والوں پر لعنت فرمائی اور نیک لوگوں کی قبروں کو  سجدہ گاہ بنانے والوں کو قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بدترین مخلوق قرار دیا، اور اس میں ہمارے لئے وعیدہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ ’’ وہ ان کو اس کام سے ڈرائیں جو وہ کرتے تھے۔ ‘‘

                یعنی اپنی اُمت کو یہ کہہ کر ڈرائیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان لوگوں کی طرح ملعون ہو جائیں گے، قبر کو  سجدہ گاہ بنانے سے مراد قبر کی طرف رخ کر کے یا قبر کے اوپر نماز پڑھنا ہے، اس صورت میں  ’’ قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے ‘‘  کے الفاظ مکرر ہوں گے مگر جبکہ قبر کو سجدہ گاہ  بنانے سے فقط قبر کے اوپر نماز پڑھنا مراد لیا جائے تو تکرار نہ ہو گا، ہاں البتہ یہ استدلال اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب کہ وہ قبر کسی معّظَّم ہستی مثلا ًنبی یا ولی کی ہو جیساکہ یہ روایت ا س کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ  ’’ جب ان میں سے کوئی نیک شخص ہوتا۔ ‘‘

                اسی لئے ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا :  ’’ تبرک اور تعظیم کی نیت سے انبیاء کرام علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیا ء عظام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا حرام ہے۔ ‘‘  انہوں نے یہاں 2شرطیں عائد کی ہیں :  (۱) قبر کسی معظم ہستی کی ہو اور  (۲) اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے تعظیم اور تبرک کا قصدہو۔ اس فعل کا کبیرہ گناہ ہونا مذکورہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بالکل ظاہر ہے۔ گویا انہوں نے قبر کی ہر قسم کی تعظیم کو اسی پر قیاس کیا ہے جیسے قبر کی تعظیم اور اس سے تبرک حاصل کرنے کے لئے چراغ جلانا اور قبر کے طواف کا بھی یہی حکم ہے اس لئے یہ قیاس بعید بھی معلوم نہیں ہوتا۔خصوصا ًایسی صورت میں جبکہ مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں قبروں پر چراغ جلانے والوں پر کئی مرتبہ لعنت گزر چکی۔ لہٰذا ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کے قول کو کراہت پر اس وقت محمول کیا جائے گا جبکہ قبر کی تعظیم اور اس سے تبرک حاصل کرنے کا قصد نہ کیا جائے۔

{15}…قبروں کو بت بنا لینے سے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان الفاظ میں ممانعت فرمائی ہے :  ’’ میری قبر کو بت نہ بنا لینا کہ میرے بعد اس کی پوجا ہونے لگے۔ ‘‘   ( التمھیدلابن عبدالبر ، الحدیث ۹۹ / ۲۹ ،ج۲ ، ص ۴۷۰ تا ۴۷۱بدون ’’ یعبدبعدی ‘‘ )

                یعنی اس کی ایسی تعظیم نہ کرنا جیسے دوسرے لوگ اپنے بتوں وغیرہ کی تعظیم کے لئے انہیں سجدہ وغیرہ کرتے ہیں ، اگر امام صاحب کے قول  ’’ اور انہیں بت بنا لینا ‘‘ سے مراد یہی معنی ہو تو ان کا اس گناہ کوکبیرہ گناہ کہنا درست ہو سکتا ہے بلکہ شرط پائے جانے  (یعنی عبادت کی نیت ہونے) کی صورت میں کفر بھی ہو سکتا ہے۔اگر مراد یہ ہے کہ مطلق تعظیم، جس کی اجازت نہیں دی گئی،تو وہ کبیرہ  گناہ ہے    ([1]) البتہ اس میں



[1] ۔۔۔۔

Total Pages: 320

Go To