Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

میں چلا گیایا مقتدی نے رکوع کیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا جبکہ امام نے ابھی رکوع کیا ہی نہیں یا امام نے جب رکوع سے سر اٹھایا تو مقتدی سجدے میں جھک گیا تو ان تمام صورتوں میں مقتدی کی نماز باطل ہو جائے گی اور اس کے اس عمل کو کبیرہ قرار دینا بالکل ظاہر ہے ([1])

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر90:                            

نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا

کبیرہ نمبر91:                              

نماز میں اِِدھراُدھردیکھنا

کبیرہ نمبر92:                            

نمازمیں کمر پر ہاتھ رکھنا

{1}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ان لوگوں کا کیاحال ہے جو اپنی نمازوں میں آسمان کی طرف نگاہیں اٹھاتے ہیں پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس معاملے میں شدت فرمائی یہاں تک کہ ارشاد فرمایا :   ’’ وہ لوگ یا تو ایسا کرنے سے باز آ جائیں یاپھر ان کی بصارت چھین لی جائے گی۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب رفع البصرالی السماء فی الصلاۃ،الحدیث: ۷۵۰، ص۵۹)

{2}…رسول انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف نہ اٹھایا کرو کہیں تمہاری بینائی نہ چلی جائے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات،باب الخشوع فی الصلاۃ،الحدیث: ۱۰۴۳، ص۲۵۳۷)

{3}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اُچک لی جائے گی۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الصلاۃ ، باب النھی عن رفع البصر الی السماء فی الصلاۃ ،الحدیث: ۹۶۷ ، ص ۷۴۷)

{4}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے والے لوگ یا تو اس سے باز آجائیں گے ورنہ ان کی نظریں ان تک واپس نہ لوٹیں گی۔ ‘‘  (المرجع السابق ،الحدیث ۹۶۶ ، ص ۷۴۷)

{5}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ نماز میں اپنی نگاہیں اٹھانے والے لوگ باز آجائیں یا پھر ان کی نگاہیں واپس نہ پلٹیں گی۔ ‘‘  ( سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ،باب النظر فی الصلاۃ ، الحدیث: ۹۱۲ ، ص ۱۲۹۰)

{6}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ میں نے  اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ اُچک لینا ہے کہ شیطان بندے کی نماز اُچک لیتا ہے۔ ‘‘  ( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب التفات فی الصلاۃ ، الحدیث: ۷۵۱، ص۶۰)

{7}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تک بندہ نماز میں کسی اور جانب متوجہ نہ ہو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر نظرِ رحمت فرماتا رہتا ہے، پھر جب بندہ اپنی توجہ ہٹا لیتاہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت بھی اس سے پھر جاتی ہے۔ ‘‘      (سنن النسائی ،کتاب السھو ، باب التشدید فی التفات  فی الصلاۃ، الحدیث ۱۱۹۶ ، ص ۲۱۶۵)

{8}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میرے خلیل، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے تینچیزوں کا حکم دیا اور (نماز میں )  تین چیزوں سے منع فرمایاہے جن تین چیزوں سے منع فرمایاوہ یہ ہیں :  (۱) مرغوں کی طرح ٹھونگیں مارنا (۲) کتے کی طرح بیٹھنااور  (۳) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر توجہ کرنا۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ، الحدیث: ۸۱۱۲ ،ج ۳ ، ص ۱۸۵،بدون ’’ خلیلی واوصانی ‘‘  بدلہ ’’ امرنی ‘‘ )

                کتے کی طرح بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ گھٹنے کھڑے کر کے سرین پر بیٹھنا۔ حضرت سیدنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ ہاتھ زمین پر رکھے ہوں اور دونوں پاؤں کی ایڑیوں پر بیٹھنا کیونکہ دوسجدوں کے درمیان اس طرح بیٹھنا سنت ہے اور پاؤں بچھا کر بیٹھنا افضل ہے۔ ‘‘  ([2])

{9}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب آدمی نماز کے لئے آتا ہے تو اللّٰہزوجل کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے، پھر جب وہ کسی اور جانب متوجہ ہوتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :  ’’ اے ابن آدم!  تُو کس کی طرف متوجہ ہو گیا؟ کیاوہ تیرے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہے؟ میری طرف متوجہ ہو جا۔ ‘‘  پھر جب وہ آدمی دوسری مرتبہ متوجہ ہوتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یہی بات ارشاد فرماتا ہے اور پھر جب وہ بندہ تیسری مرتبہ غیر کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے اپنی رحمت پھیر لیتا ہے۔ ‘‘

 ( کنزالعمال ،کتاب الصلوۃ ،فصل فی مفسدات الصلوٰۃالخ، الحدیث: ۲۲۴۴۴ ، ج۸ ، ص ۸۴،ملخصا)

{10}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے  (حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  سے ارشاد فرمایا :  ’’ بیٹا!  نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے سے بچتے رہنا کیونکہ نما زمیں ایسا کرنا ہلاکت ہے۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب السفر ، باب ماذکر فی الالتفات الخ ، الحدیث ۵۸۹ ، ص ۱۷۰۳)

 



[1]