Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{7}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم صفیں ضروربرابر کیا کرو ورنہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  تمہارے چہرے بدل دے گا۔ ‘‘   (صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعد ھا،الحدیث:  ۷۱۷،ص۵۷)

{8}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صفیں قائم کرو ورنہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہارے دل بدل دے گا۔ ‘‘          ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ، باب تسویۃ الصفوف،الحدیث: ۶۶۲،ص۱۲۷۲ )

{9}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم صفیں ضرور سیدھی کروگے یا تمہارے چہروں کا نور چھین لیا جائے گا یا پھر تمہاری بینائی اُچک لی جائے گی۔ ‘‘   ( المسند للاما م احمد بن حنبل، الحدیث ۲۲۲۸۸ ، ج ۸ ،ص ۲۸۸)

تنبیہ:

                ان دونوں کو اس حدیثِ پاک ’’ جو صف قطع کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے قطع کر دے گا۔ ‘‘ کے تقاضے کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا کیونکہ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر لعنت فرمائے گا یا اس کا قریب ترین معنی مراد ہے اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لعنت کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے، نیزحضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عبرت نشان ’’ ورنہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہارے دل اور چہرے بدل دے گا۔ ‘‘  بھی اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس میں دل اور چہرے بدل دینے کی وعید ہے جو کہ ایک سخت وعید ہے، مگر میں نے کسی کو ان کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح کرتے ہوئے نہیں دیکھا کیونکہ ہمارے نزدیک صف پوری نہ کرنا یا قطعِ صف صرف مکروہ ہے حرام نہیں ، چہ جا ئیکہ اسے کبیرہ گناہ قرار دیا جائے (احناف کے نزدیک:  ’’ جب تک اگلی صَف کونے تک پوری نہ ہوجائے جان بوجھ کرپیچھے نمازشروع کردیناترک واجب،حرام اورگناہ ہے۔ ‘‘ تفصیل کے لئے: فتاوی رضویہ،ج۷ص۲۱۹تا۲۲۵) ، البتہ ہمارے نزدیک قوم کی ناپسندیدگی کے باوجود امامت کرنے،بغیر منڈیر کی چھت پر سونے اور جماعت ترک کرنے کو مکروہ ہونے کے باوجود کبیرہ گناہ شمار کرنے سے یہ لازم آتاہے کہ ان دونوں کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا زیادہ اَولیٰ ہے کیونکہ ان میں زیادہ سخت وعید آئی ہے۔

{10}…حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّانہیں جہنم میں پہنچادے گا۔ ‘‘  (صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب صف النسائالخ،الحدیث: ۶۷۹،ص۱۲۷۳)

ٍ                گویا ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان احادیثِ مبارکہ سے یہ سمجھا ہے کہ ان کے ظاہری معنی مراد نہ ہونے پر اجماع ہے کیونکہ اس باب میں سخت وعیدوں کا ظاہری معنی مراد نہیں ہوتا بلکہ صفوں میں خلل ڈالنے پر زجر کرنا اور لوگوں کو حتی الامکان صف پوری کرنے پر ابھارنا مقصود ہے۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر89:                                    

نمازمیں امام سے سبقت کرنا

{1}…سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا کہ جب وہ امام سے پہلے رکوع یا سجدوں سے سر اٹھائے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے سر کو گدھے کے سر یا اس کی صورت کو گدھے کی صورت سے بدل دے۔ ‘‘   ([1])

 ( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اثم من رفع راسہ الخ ، الحدیث ۶۹۱، ص ۵۵،بدون ’’ من رکوع اوسجود ‘‘ )

 {2}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف نہ ہو کہ جب وہ امام سے پہلے سر اٹھا لے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے سر کو کتے کے سر سے بدل دے گا۔ ‘‘

 ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۹۱۷۵ ،ج۹، ص ۲۴۰،یحول بدلہ ’’ یعود ‘‘ )

{3}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا امام سے پہلے سر اٹھانے والااس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کے سر کو کتے کے سر سے بدل دے ۔ ‘‘

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الصلوۃ ، باب مایکرہ للمصلی ومالا یکرہ ، الحدیث ۲۲۸۰ ، ج۴ ،ص ۲۳ )

{4}…سرکار ابد قرار،شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو (رکوع وسجودمیں )  امام سے پہلے جھکتا اور اُٹھ جاتا ہے اس  کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘  ( فتح الباری،کتاب الاذان ،باب ،قولہ اثم من رفع راسہ الخ ،ج۲،ص ۱۵۹)

تنبیہ:

                ان صحیح احادیثِ مبارکہ کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا اور بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ ہونے کو یقین کے ساتھ بیان فرمایاہے اور یہ بات حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی اس بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس نے ایساکیا اس کی نماز نہ ہوئی۔ ‘‘

                سیدنا خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اکثر اہلِ علم کہتے ہیں کہ اس نے برا کام کیا مگر اس کی نماز ہو گئی جبکہ اکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیامام کے سجدے سے سر اٹھا لینے کے بعد اسے اتنی دیر تک سجدے میں رہنے کا حکم دیتے ہیں جتنی دیر اس نے امام سے پہلے سر اٹھا لیا تھا۔ ‘‘  جبکہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ’’ فقط امام سے پہلے سر اٹھانا یا قیام کرنا یا اس سے پہلے رکوع میں جھک جانا مکروہ تنزیہی ہے اور اس کے لئے سنت یہ ہے کہ امام کی طرف لوٹ جائے جبکہ امام ابھی اسی رکن میں ہو لیکن اگر وہ ایک رکن میں سبقت لے گیا مثلاًرکوع کر لیا جبکہ امام قیام میں کھڑا تھا ابھی اس نے رکوع ہی نہیں کیا تو اس کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔ ‘‘  

                 اورمذکورہ احادیثِ مبارکہ کو اس صورت پر محمول کرنا بعید بھی نہیں اور نہ ہی اسے کبیرہ گناہ قرار دینا بعید ہے یا مقتدی دوارکان میں سبقت لے گیا مثلاً امام نے ابھی رکوع بھی نہیں کیا اور مقتدی سجدے



[1] ۔۔۔۔ شیخِ طریقت،امیر اہلسنت،بانی ٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب ’’نماز کے احکام‘‘ میں بہارشریعت کے حوالے سے تحریر فرما تے ہیں کہ ’’حضرت سیدنا امام نووی علیہ رحمۃ اللہ  القوی حدیث لینے کے لئے ایک بڑے مشہور شخص کے پاس دمشق گئے ۔ وہ پردہ ڈال کر پڑھا تے، مدتوں تک ان کے پاس بہت کچھ پڑھا مگر ان کا منہ نہ دیکھا،جب زمانہ دراز گزرا اوران محدِّث صاحب نے دیکھا کہ ان کو(یعنی امام نووی)کو علمِ حدیث کی بہت خواہش ہے تو ایک روز پردہ ہٹا دیا ،دیکھتے کیا ہیں کہ ان کا گدھے جیسامنہ ہے! !  انہوں نے فرمایا، ،صاحِبزادے! دورانِ جماعت امام پر سبقت کرنے سے ڈروکہ یہ حدیث جب مجھ کو پہنچی میں نے اسے مُسْتَبْعَد(یعنی بعض راویوں کی عدم صحت کے باعث دُوراَزقِیاس)جانا اور میں نے امام پر قصد اً سَبْقَت کی تو میرا منہ ایسا ہو گیا جیسا تم دیکھ رہے ہو ۔‘‘(نمازکے احکام ،باب نمازکاطریقہ ،ص۲۵۷)



Total Pages: 320

Go To