Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تنبیہ:

                ہمارے بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کی بناء پر اسے یقین کے ساتھ کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، شاید ان کی نظر انہی احادیثِ مبارکہ پر تھی حالانکہ یہ بات بڑی عجیب ہے کیونکہ ہمارے نزدیک یہ عمل مکروہ ہے وہ بھی اس صورت میں جبکہ قوم کے اکثر لوگ اس کے کسی ایسے شرعاً مذموم عمل کی وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہوں جو اس کی عدالت (یعنی گواہ بننے کی صلاحیت)  میں نقص نہ ڈالتا ہو نیز وہ عمل بھی ایسا ہو جو امامت یا اس کی اقتداء میں کراہت پیدا کرتا ہو، لہذا ایسے شخص کی امامت مطلقاًمکروہ نہیں اور نہ ہی اس کی اقتداء مطلقاً حرام ہے چہ جائیکہ اسے کبیرہ گناہ قرار دیا جائے کیونکہ امام کسی کو اپنی اقتداء پر مجبور نہیں کرتا، نیز لوگوں کو اختیار ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اس صورت میں تو لاپرواہی مقتدیوں ہی کی طرف سے ہے نہ کہ امام کی جانب سے۔ہاں ! اگر ان احادیثِ مبارکہ کو تنخواہ دار امام اور مقتدیوں پر زیادتی کرتے ہوئے زبردستی نماز پڑھانے والے پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں اس عمل کو کبیرہ گناہ کہنا ممکن ہے کیونکہ عہدہ غصب کرنے کو اموال غصب کرنے کے مقابلے میں کبیرہ گناہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔

 ثواب پانے والاخوش نصیب امام:

{8}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے لوگوں کی امامت کرائی اور وقت کو پاکر نماز مکمل کر لی تو اسے اپنا اور مقتدیوں کا بھی ثواب ملے گا اور جس نے نماز میں کوئی کمی کی تواس کا گناہ اسی پر ہو گا نہ کہ مقتدیوں پر۔ ‘‘   (صحیح ابن حبان کتا ب الصلوۃ ، باب فرض متا بعۃ الامام ، الحدیث ۲۲۱۸،ج ۳، ص۳۱۹)

{9}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو کسی قوم کا امام بنے اسے چاہئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے اور یہ یاد رکھے کہ وہ ضامن ہے اور اس سے اس کی ضمانت کے بارے میں پوچھا جائے گا، لہٰذا جو اپنی ذمہ داری  احسن طریقے سے نبھائے گا اسے اپنے پیچھے نماز پڑھنے والوں جتنا ثواب ملے گا اور ان مقتدیوں کے ثواب میں بھی کمی نہ ہو گی اور نماز میں جو کوتاہی ہو گی اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا۔ ‘‘   ( مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ ، باب الامام ضامن ،الحدیث: ۲۳۳۵ ، ج ۲ ، ص ۲۰۹)

{10}…سیِّدُ المُبلغِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو لوگ تمہیں نما زپڑھاتے ہیں اگر وہ درست نماز پڑھائیں تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور اگر وہ غلطی کریں تو تمہاری نماز ہو جائے گی اوراس کا وبال انہی پر ہو گا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اذا لم یتم الا مام الخ،الحدیث۶۹۴،ص۵۶)

{11}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  تین شخص مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے  (راوی فرماتے ہیں کہ)  میرا گمان ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ قیامت کے دن (۱) وہ غلام جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اپنے دنیوی آقاؤں کا حق ادا کیا  (۲) وہ شخص جو کسی قوم کا امام بنا اور اس کی قوم اس سے راضی ہو اور  (۳) وہ شخص جو ہر دن اور رات میں پانچ نمازوں کے لئے اذان کہے۔ ‘‘

 (سنن الترمذی ، ابواب صفۃ الجنۃ ، باب احادیث صفۃ الثلاثۃ الذین یحبھم اللہ  ، الحدیث ۲۵۶۶ ، ص ۱۹۱۰، ’’ بتقدمٍ وتأخرٍ ‘‘ )  

{12}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  تین شخص ایسے ہوں گے جنہیں بڑی گھبراہٹ  (یعنی قیامت)  خوف زدہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان سے حساب لیاجائے گا، وہ لوگ مخلوق کے حساب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹیلے پر ہوں گے:  وہ شخص جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے قرآن پاک پڑھا اور اس کے ذریعے کسی قوم کی امامت کرائی اور وہ قوم بھی اس سے راضی ہو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے نماز کی طرف بلانے  (یعنی اذان کہنے ) والااوروہ غلام جو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  اور اپنے  (دنیاوی) آقاؤں کے حقوق احسن طریقے سے اداکرنے والا۔ ‘‘    (مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب فضل الاذان ،الحد یث ۱۸۴۶،ج۲،ص۸۵)

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر87:                                            

صف کو مکمل نہ کرنا

کبیرہ نمبر88:                                 

صف کو سیدھا نہ کرنا

{1}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو صف کو ملائے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ملا دے گااور جو صف کو قطع کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے قطع کر دے گا۔ ‘‘   ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلوۃ،باب تسویۃ الصفوف ، الحدیث ۶۶۶، ص۱۲۷۲ )

{2}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے فرشتے صف پوری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے رہتے ہیں ۔ ‘‘   ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃالصلاۃالخ،باب اقامۃ الصفوف،الحدیث: ۹۹۵،ص۲۵۳۵)

{3}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کو صفوں میں اپنے مبارک ہاتھ سے برابر کرتے اور ارشاد فرماتے تھے :  ’’ الگ الگ مت رہو کہیں تمہارے دل بھی الگ نہ ہو جائیں ۔ ‘‘ اور ارشاد فرماتے :   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں ۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف ، الحدیث ۶۶۴،ص۱۲۷۲،بدون ’’ انہ کان یسویھم فی صفوفھم بیدہ یقول ‘‘ )  

{4}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو صف کی کشادگی پُر کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کاایک درجہ بلند فرمائے گا اور اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ، باب صلۃ الصفو ف وسد الفر ج ، الحدیث: ۲۵۰۲،ج۲،ص ۲۵۰ )

{5}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو صف کے خلاء کو پُر کرے گا اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔ ‘‘          ( المرجع السابق ، الحدیث ۲۵۰۳ ، ج۲ ، ص ۲۵۱ )



Total Pages: 320

Go To