Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{10}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کی بد بختی اور رسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مؤذن کو نماز کے لئے اقامت کہتے ہوئے سنے پھر بھی اسے جواب نہ دے  (یعنی نماز میں حاضر نہ ہو) ۔ ‘‘

 ( المعجم الکبیر،الحدیث: ۳۹۶ ، ج۲۰ ، ص ۱۸۲)

{11}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنے جوانوں کو لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں پھربغیرکسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھنے والی قوم کے پاس آؤں اور ان کے گھروں کو ان پر جلا دوں۔ ‘‘        (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ،باب تشدید فی ترک الجماعۃ الحدیث: ۵۴۸،ص۱۲۶۴)

                 سیدنا یزید بن اصم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا :  ’’ کیا اس سے جمعہ کی نماز مراد ہے یا کوئی دوسری؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر میں نے حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو حضورنبی کریم ،رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں ، انہوں نے نہ تو جمعہ کا ذکر فرمایا اور نہ ہی کسی دوسری نماز کا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ،باب تشدید فی ترک الجماعۃ الحدیث: ۵۴۹،ص۱۲۶۴)

{12}…حضرت سیدنا ابن اُم مکتوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف لائے اورلوگوں کو کم تعداد میں پایا تو ارشاد فرمایا :  ’’ میں چاہتا ہوں کہ کسی کو لوگوں کا امام بناؤں پھر جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس شخص پر بھی قدرت پاؤں اس پر اس کا گھر جلا دوں ۔ ‘‘   (نابینا ہونے کی وجہ سے) حضرت سیدنا ابن   ام مکتوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ میرے اور مسجد کے درمیان درخت اور باغات ہیں اور میں ہر وقت کسی رہنما پر قدرت بھی نہیں پاتا کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اپنے گھر پر نماز پڑھ لیا کروں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم اقامت کی آواز سنتے ہو ؟ ‘‘  تو انہوں نے عرض کی :  ’’ جی ہاں ، توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ پھر نمازکے لئے آیا کر و۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث عمروبن اُم مکتوم، الحدیث: ۱۵۴۹۱،ج۵،ص۲۷۷،۲۷۸)

{13}…مسلم شریف میں ہے،ایک نابینا صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے بارگاہِ رسالت مآب علی صاحبہاالصلوٰۃ ولسلام میں عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مسجد تک میری رہنمائی کرے۔ ‘‘  پھرانہوں نے حضورنبی ٔکریم ،رؤف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے  (گھر میں نماز پڑھنے کی)  رخصت طلب کی توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے رخصت عطا فرما دی، لیکن جب وہ واپس جانے لگے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے بلاکر دریافت فرمایا :  ’’ کیا تم نماز کی نداء یعنی اذان سنتے ہو؟  ‘‘ تو انہوں نے عرض کی :  ’’ جی ہاں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ پھرجواب دیا کرو  (یعنی جماعت میں حاضر ہوا کرو) ۔ ‘‘    (صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب یجب اتیان المسجد علی من الخ،الحدیث: ۱۴۸۶،ص۷۷۹)

{14}…ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت سیدنا ابن اُم مکتوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے بارگاہِ نبوی علی صاحبہاالصلوٰۃ ولسلام میں حاضر ہوکر عرض کی :   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مدینہ شریف میں موذی جانوروں کی کثرت ہے جبکہ میں نابیناہوں اورگھر بھی دور ہے اور کوئی مناسب رہنما بھی نہیں جو مجھے لے آیا کرے تو کیا مجھے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا  ’’ کیا تُو اقامت کی آواز سنتا ہے؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی   ’’ جی ہاں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ پس تم حاضر ہوا کرو کیونکہ میں تمہیں دینے کے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ ‘‘

                 ( سنن ابی  داؤد،کتاب الصلاۃ ،باب التشدید فی ترک الجماعۃ ، الحدیث ۵۵۲، ص ۱۲۶۴ )

{15}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگ ترکِ جماعت سے ضرورباز آجائیں یا پھر میں ان کے گھروں کوجلا دوں گا۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب المساجد ، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ، الحدیث ۷۹۵، ص ۲۵۲۴)

{16}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو حالتِ صحت اور فراغت میں اذان سنے، پھر بھی مسجد میں حاضر نہ ہو تو اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘‘

 ( المستدرک،کتاب الامامۃ وصلوۃ الجماعۃ، باب لاصلاۃ لجارالمسجدالافی المسجد،الحدیث ۹۳۴، ص۵۱۹ )

{17}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو نماز کے لئے اذان دینے والے کی آواز سنے تو کوئی عذر اسے نماز میں حاضری سے نہ روکے۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ عذر کیا ہے ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ خوف یا مرض اور اس نے جو نماز  (گھر میں )  پڑھی وہ قبول نہ ہو گی۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب التشدید فی ترک الجماعۃ ، الحدیث ۵۵۱ ، ص ۱۲۶۴ )

حضرات صحابہ کرام واولیاء عظامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے فرامین مبارکہ :

                حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان :

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ (۴۲) خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ (۴۳)   (پ۲۹، القلم: ۴۲۔۴۳)  

ترجمۂ کنز الایمان  : جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ  ہی جانتا ہے )  اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کر سکیں گے نیچی نگاہیں کئے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہو گی اور بے شک دنیا میں سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے ۔

کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’ وہ قیامت کا دن ہو گا اس دن انہیں ندامت کی ذلت ڈھانپے ہو گی کیونکہ انہیں دنیا میں جب سجدوں کی طرف بلایا جاتا تو یہ تندرست ہونے کے باوجود نماز میں حاضر نہ ہوتے۔ ‘‘  اور مزید ارشاد فرمایا :  ’’ انہیں اذان اور اقامت کے ذریعے فرض نمازوں کی طرف بلایا جاتا تھا۔ ‘‘                

{18}…حضرت سیدنا ابن مسیب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کی آواز سنتے اور صحت و تندرستی کے باوجود نماز میں حاضر نہ ہو تے تھے ۔ ‘‘

{19}…حضرت سیدنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم!  یہ آیتِ مبارکہ جماعت سے پیچھے رہ  جانے والوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بغیر عذر کے جماعت ترک کر دینے والوں کے لئے اس سے زیادہ سخت کون سی وعید ہو گی۔ ‘‘                           (تفسیرقرطبی،سورۃ القلم،تحت لآیۃ۴۳،۴۲،ج۹،ص