Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی حرمت اس وقت ثابت ہو گی جب وہ سترے کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو گا (یعنی نمازی اور سترے کے درمیان سے گزرے) اور ہمارے نزدیک سترہ دیوار، ستون، زمین میں گڑا ہوا عصا یا جمع شدہ سامان ہے، اگر نمازی اس سے عاجز ہو تو اسے پھیلا دے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اپنے دائیں بائیں لمبائی میں ایک خط یعنی لکیر کھینچ دے اس صورت میں نمازی کا اس خط کے قریب ہونا شرط ہے، یعنی اس کی ایڑیوں اور خط کے درمیان تین ہاتھ سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور ان تین میں سے پہلے کی لمبائی دوتہائی ہاتھ یا اس سے زیادہ ہو، نیز وہ راستے میں بھی کھڑا نہ ہو جیسے مطاف وغیرہ میں کسی کے طواف کرتے وقت نماز نہ پڑھے ([1]) اور اس کے سامنے اگلی صف میں کشادگی نہ ہو اگرچہ وہ اس سے دور ہی کیوں نہ ہو، اگر ہماری بیان کردہ شرائط میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو نماز ی کے آگے سے گزرنا حرام نہ ہو گابلکہ مکروہ ہو گا،اورایک قول یہ بھی ہے کہ نمازی کے سجدہ کرنے کی جگہ سے گزرنا حرام ہے اور ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت اسی کی قائل ہے۔ ‘‘  ([2]) ؎

 

 

٭٭٭٭٭٭

باب صلاۃ الجماعۃ

باجماعت نماز پڑھنے کا بیان

کبیرہ نمبر85   

شرا ئط  پائے جانے کے باوجود شہر یاگاؤں کے تمام لوگوں

                   کافرض نماز کی جماعت ترک کرنے پر متفق ہوجانا

{1}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک میں نے ارادہ کیاکہ  نمازقائم کرنے کا حکم دوں اور پھر کسی کو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دوں اور خود اپنے ہمراہ کچھ لوگوں کو جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں اُن کی طرف لے چلوں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان پر ان کے گھر جلا دوں ۔ ‘‘  

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید الخ ،الحدیث: ۱۴۸۲،ص۷۷۹)

{2}…حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس گاؤں یا شہر میں  تینشخص ہوں اور ان میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیااسی بکری کا شکا ر کرتا ہے جو ریوڑ میں سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ ‘‘

 ( سنن النسائی،کتاب الامامۃ ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ ، الحدیث ۸۴۸ ، س ۲۱۴۱)

{3}…جبکہ رزین کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’  شیطان انسان کے لئے بھیڑیا ہے، جب وہ اسے اکیلا پاتا ہے تو شکار کر لیتا ہے۔ ‘‘             (الترغیب والترہیب،کتاب الصلاۃ،باب الترہیب من ترکالخ،الحدیث: ۶۲۲،ج۱،ص۲۰۳)

{4}…خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تین شخصوں پر لعنت فرمائی ہے:   (۱) جو قوم کا امام بنے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں  (۲) وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور  (۳) وہ شخص جو حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِسنے مگر اس کا جواب نہ دے  (یعنی نماز پڑھنے نہ آئے)  ۔  ‘‘

 (جامع الترمذی ، ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فیمن ام قوما الخ ، الحدیث: ۳۵۸،ص۱۶۷۶)

{5}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے :  ’’ جو کل قیامت میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے مسلمان ہو کر ملنا چاہتا ہے تو پانچوں نمازوں کی پابندی کرے جب ان کی اذان کہی جائے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے نبی حضرت محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے سننِ ھُدیٰ مشروع فرمائی  (یعنی ہدایت کے طریقے مشروع فرمائے ہیں )  اور یہ نمازیں سُننِ ھُدی سے ہیں اور اگر تم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہ جانے والا شخص پڑھ لیتا ہے تو تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنت کو ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے پھر کسی مسجد کا ارادہ کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ہر قدم چلنے پر ایک نیکی عطا فرمائے گا، اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور اس کا ایک گناہ مٹائے گا، (حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں ) کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا جس کا نفاق معلوم ہوتا اورایک شخص کو دوافراد سہارا دے کر لاتے اور صف میں لا کر کھڑا کر دیتے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ،باب صلوۃ الجماعۃ من سنن الھدی ، الحدیث: ۱۴۸۸،ص۷۷۹)

{6}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ ہم نے اپنے کو اس حالت میں دیکھاکہ نماز  (باجماعت)  سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا جس کے نفاق کا علم ہوتا یا مریض ، اگر وہ مریض ہوتا تو دوشخصوں کے سہارے چل کر نماز کے لئے حاضر ہو جاتا۔ ‘‘ حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سننِ ھدی تعلیم دی اور وہ مسجد جس میں اذان کہی جاتی ہے اس میں نماز پڑھنا بھی سننِ ھدی سے ہے۔ ‘‘      (المرجع السابق)

{7}…ایک روایت میں ہے :  ’’ اگر تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ،باب صلوۃ الجماعۃ من سنن الھدی ، الحدیث: ۱۴۸۸،ص۷۷۹)

{8}… ایک اورروایت میں ہے :  ’’  اگر تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنت کو چھوڑ دیا تو کافر ہو جاؤ گے۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ، باب تشدید فی ترک الجماعۃ الحدیث: ۵۵۰،ص۱۲۶۴)

{9}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ پورا جفا کاری، کفرا ورنفاق یہ ہے کہ کوئی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے منادی کو نماز کی نداء دیتے ہوئے سنے تواسے جواب نہ دے۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث معاذبن انس الجہنی، الحدیث ۱۵۶۲۷ ، ج۵،ص ۳۱۱)

 



[1] ۔۔۔۔ لیکن احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک’’ مسجد حرام شریف میں نماز پڑھتا ہو تو اس کے آگے طواف کرتے ہوئے لوگ گزر سکتے ہیں ۔‘‘

(بہار شریعت،ج ۱،حصہ ۳، ص ۸۱))

[2] ۔۔۔۔ احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَ



Total Pages: 320

Go To