Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔ ‘‘   ([1])   ( المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۲۲۷۰۵،ج۸،ص۳۸۶)

{4}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اپنی نماز میں چوری کرنے والا سب سے بڑا چور ہے۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کوئی شخص اپنی نماز میں کیسے چوری کر سکتا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ نماز کے رکوع و سجود پورے نہیں کرتااور لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو  سلام کرنے میں بخل کرے۔ ‘‘  (المعجم الصغیر للطبرانی،الحدیث: ۳۳۶،ج۱،ص۱۲۱)

{5}…  (نماز ادا کرتے ہوئے ) رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے اپنے پیچھے ایک شخص کو گوشۂ چشم سے دیکھاجو رکوع اور سجدے میں اپنی پشت کو سیدھا نہیں کر رہا تھا تو جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی نماز مکمل فرما لی تو ارشاد فرمایا :  ’’ اے گروہِ مسلمین!  جو نماز میں رکوع و سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات الخ ،باب الرکوع فی الصلاۃ،الحدیث: ۸۷۱،ص۲۵۲۸)

نماز میں رکوع و سجود کامل طور پر ادانہ کرنے پر وعیدیں :

{6}…حضرت سیدنا ابو عبد اللہ  اشعری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کودیکھا کہ رکوع پورا دانہیں کرتا اور سجدوں میں ٹھونگیں ماررہا ہے تو ارشاد فرمایا :  ’’ اگر اس شخص کا اسی حالت میں انتقال ہو جائے تو یہ حضرت سیدنامحمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملت  کے علاوہ پر مرے گا۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ نماز میں رکوع پورا نہ کرنے اور سجدوں میں ٹھونگے مارنے والے کی مثال اس بھوکے شخص کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھانے پر اکتفا کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے کسی کام نہیں آتیں ۔ ‘‘       ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۳۸۴۰ ، ج۴ ، ص ۱۱۵)

{7}…مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آد می ساٹھ 60سال تک نماز پڑھتا رہتا ہے مگر اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی، شاید وہ رکوع تو پورے کرتا ہو مگر سجدے پورے نہ کرتا ہو یاپھر سجدے پورے کرتا ہو مگر رکوع پورے نہ کرتا ہو۔ ‘‘

 ( الترغیب والترھیب ،کتاب الصلوۃ ، باب الترھیب من عدم اتمام الخ ،الحدیث۷۵۷، ج۱ ، ص ۲۴۰)

{8}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے  (ایک ستون کی طرف اشارہ کرکے) ارشادفرمایا :  ’’ اگر تم میں سے کسی کے پاس یہ ستون ہوتا تو وہ اسے توڑناہرگزپسند نہ کرتا پھر وہ جان بوجھ کراپنی نماز کیسے توڑ دیتا ہے؟ حالانکہ وہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہوتی ہے، نماز پوری کیا کرو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکامل نماز ہی قبول فرماتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۲۹۶،ج۴ ، ص۳۷۶،یعمد ‘‘ بدلہ ’’ یعہد ‘‘ )

ّ{9}…حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع و سجود پورے ادانہیں کررہا تو ارشاد فرمایا :  ’’ اگر یہ مر گیا تو حضرت سیدنامحمد مصطفٰے ا حمد مجتبٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ملت کے علاوہ مرے گا۔ ‘‘           

 (مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب فیمن لایتم صلاتہ الخ ،، الحدیث ۲۷۲۹ ، ج ۲ ، ص ۳۰۳)

{10}…حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو دیکھاکہ رکوع و سجود پورے نہیں کررہاتو ارشاد فرمایا :  ’’ تم نے نماز نہیں پڑھی اور اگر تم یہ نمازاسی طرح پڑھتے ہوئے مر گئے تو حضرت سیدنا محمدمصطفٰی احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملت کے علاوہ مرو گے۔ ‘‘                ( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اذا لم یتم الرکوع ، الحدیث ۷۹۱، ص۶۲)

{11}…ابو داؤد شریف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے پوچھا :  ’’ تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ ‘‘  اس نے کہا :  ’’ چالیسسال سے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے ارشاد فرمایا :  ’’ تم نے چالیسسال سے کوئی نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر گئے توملت ِ محمدی علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام کے خلاف مرو گے۔ ‘‘

{12}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس بندے کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتاجو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی کمر کو سیدھا نہیں کرتا  (پھر صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے استفسارفرمایا) اور شرابی، زانی اورچور کے بارے میں تمہاری کیارائے ہے؟ ‘‘  (یہ اس وقت تھاکہ ابھی حدود کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے )  تو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ بدکاریاں ہیں اور ان پر سزا ہے اور سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ آدمی نماز میں چوری کیسے کرتا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ اس کے رکوع اور سجود پورے نہیں کرتا۔ ‘‘              (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث طلق بن علی،الحدیث: ۱۶۲۸۳،ج۵،ص۴۹۲)

 (مؤطاامام مالک،کتاب قصرالصلاۃ فی السفر،باب العمل فی جامع الصلاۃ،الحدیث: ۴۱۰،ج۱،ص۱۶۴)

{13}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو کامل طریقے سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے رکوع و سجود اور قراء ت اچھی طرح اداکرتا ہے تو نماز کہتی ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تیری حفاظت فرمائے جیسا کہ تو نے میری حفاظت کی۔ ‘‘  پھر وہ نماز آسمان کی طرف اٹھا دی جاتی ہے اور وہ روشن اور منور ہوتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں تا کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس بندے کے لئے سفارش کرے اور جب بندہ نماز کے رکوع و سجوداور قراء ت پوری نہیں کرتا تو نماز کہتی ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تجھے برباد کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا۔ ‘‘  پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے اور اس پر تاریکی چھائی ہوتی ہے، اس پر آسمانوں کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر اسے بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ ‘‘  ( شعب الایمان ،باب فی الطہارت، باب فضل الوضو،الحدیث: ۲۷۲۹،ج۳،ص۱۰،مختصر)