Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذمہ اٹھ جاتا ہے اور اس کا کوئی عہد نہیں کیونکہ یہ باتیں اس کا خون مباح ہونے میں ظاہر یا صریح ہیں اورجب اس کا خون بہانا لازم ہوتواسے قتل کرنا لازم ہو گا، البتہ زکوٰۃ ترک کرنے پر قتل نہ کیا جائے گا کیونکہ زکوٰۃ زبردستی بھی لی جا سکتی ہے نہ روزہ ترک کرنے پر قتل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اسے قید کر کے اور مفطر اشیاء روک کر روزہ رکھنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے مثلاً کھانا اور پانی روک کر اسے کمرے میں بند کر دیا جائے، لہٰذا جب اسے یقین ہو جائے گا کہ دن کے وقت اسے کھانے پینے کی اشیاء میسّر نہیں ہو سکتیں تو وہ رات میں نیت کرکے روزہ رکھ لے گا اور اسی طرح حج ترک کرنے پر بھی قتل نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ بعد میں ادا کرنے سے بھی ادا ہی ہو گا قضا نہ ہو گا اور اس کے انتقال کی صورت میں اس کے ترکے سے حج کی قضا کی جا سکتی ہے جبکہ نمازکا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، لہٰذا اس کے لئے قتل سے مناسب کوئی سزا نہیں اور جب زکوٰۃ کی وصولی کے لئے جنگ جائز ہے تو لوگوں کو نماز کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لئے بے نمازی کو قتل کرنا بدرجہ اَولیٰ جائز ہے تا کہ وہ قتل کے خوف سے نماز پڑھنے لگے۔ ‘‘   ([1])

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر78:                            

بغیر منڈ یر کی چھت پر سونا

{1}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی ایسے مکان کی چھت پر رات گزاری جس کی منڈیر  (یعنی چاردیواری) نہ تھی تو اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی النوم علی سطح الخ ، الحدیث: ۵۰۴۱،ص۱۵۹۲)

{2}…رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو بغیر منڈیر کی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب الادب،الحدیث: ۲۸۵۴،ص۱۹۳۷)

{3}…حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ہم پر شب خون مارا وہ ہم میں سے نہیں اور جو بغیر منڈیر کی چھت پر سویا اور گر کر مر گیا اس کا خون رائیگاں گیا۔ ‘‘  ( المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۱۷،ج۱۳،ص ۶۱)

{4}…حضرت ابو عمران جونی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہم فارس میں تھے، وہاں ایک شخص کو ہمارا امیر مقرر کیا گیا تھا اس کا نام زہیر بن عبد اللہ  تھا، ایک مرتبہ اس نے کسی مکان پر یا بغیر منڈیر کی چھت پر کسی شخص کو دیکھا تو مجھ سے پوچھا :  ’’ کیا تم نے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے ؟ ‘‘  میں نے کہا  ’’ نہیں ۔ ‘‘  تو اس نے کہاکہ مجھے ایک شخص نے خبر دی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ جس نے کسی مکان یا ایسی چھت پر رات گزاری جس کی منڈیر نہ ہو جو اس کے قدموں کو لوٹا سکے تو اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی اور جو سمندر میں طغیانی اور طوفان آنے کے باوجودسفر کرے اس سے بھی ذمہ داری اٹھا لی گئی۔ ‘‘  ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۲۰۷۷۵ ، ج ۷ ، ص ۳۸۹)

{5}…حضرت ابو عمران رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ مَیں حضرت زھیرشوّاء رحمۃ اللہ  تعالیٰ کی معیت میں ایک ایسے شخص کے قریب سے گزرا جو بغیر منڈیر والی چھت پر سو رہا تھا تو انہوں نے اس کے ہاتھ پر ٹھوکر ماری اور کہا :  ’’ اٹھو۔ ‘‘  پھر حضرت زھیررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ حضورنبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ جو بغیر منڈیر والی چھت پر سویا اور گر کر مر گیا اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی۔ ‘‘  ( التر غیب والترھیب ،کتاب الادب ، باب الترھیب ان ینام الخ الحدیث ۴۷۱۷، ج۳ ، ص ۵۰۹)

تنبیہ:  

                بہت سے متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان احادیثِ مبارکہ سے استدلال کر کے بغیر منڈیر والی چھت پر سونے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے مگر یہ استدلال درست نہیں کیونکہ یہاں ذمہ داری اٹھا لینے سے وہ معنی مراد نہیں جسے ہم گذشتہ صفحات میں بیان کر چکے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر79:                                

واجبات نماز کو ترک کرنا

                نماز کے واجبات میں سے کسی مجمع علیہ یعنی جس کے واجب ہونے پر اتفاق ہو یا مختلف فیہ یعنی جس کے واجب ہونے میں اختلاف ہو، کو چھوڑ دینا مثلاً رکوع وغیرہ اطمینان سے ادانہ کرنا۔

{1}…حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی کی نماز اس وقت تک کامل  نہیں ہوتی جب تک وہ رکوع اور سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ، ابواب الصلاۃ ، باب ماجاء فی من لا یقیم صلبہ الخ ، الحدیث ۲۶۵ ، ص ۱۶۶۴ )

{2}… اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنے، درندوں کی طرح بیٹھنے ، اُونٹ کے جگہ مخصوص کر لینے کی طرح کسی کے مسجد میں اپنے لئے کوئی جگہ خاص کر لینے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاہ ، باب صلاۃ من الایقیم الخ ، الحدیث ۸۶۲ ، ص ۱۲۸۷ )

نماز کا چور:

{3}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کوئی شخص اپنی نماز میں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ اس کے رکوع و سجود پورے نہیں کرتا۔ ‘‘  یا ارشاد فرمایا :   ’’ وہ



[1] ۔۔۔۔ ائمہ ثلاثہ امام شافعی،امام مالک،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم کے نزدیک بادشاہِ اسلام کو بے نمازی کے قتل کرنے کا حکم ہے جبکہ احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :’’اسے قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے۔‘‘ (ماخوذازبہار شریعت ج ۱،حصہ ۳،ص۹)



Total Pages: 320

Go To