Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

مخصوص اور  (۳) جس طرح تُو نے د نیا میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا حق ضائع کیا تو آج توبھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہو جا۔ ‘‘                   (المرجع السابق،ص۲۵)

{39}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جب قیامت کا دن آئے گا توایک شخص کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں لا کرکھڑاکیا جائے گا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم میں لیجانے کا حکم فرمائے گا تو وہ عرض کرے گا :  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  کس جرم کی  سزا میں ؟ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ نماز کو ان کے اوقات سے مؤخر کرنے اور میرے نام کی جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے۔ ‘‘                                                                                                                                                               (المرجع السابق،ص۲۵)

{40}…بعض محدثین کرام رحمہم اللہ  تعالی نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک دن اپنے صحابہ کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے ارشاد فرمایا :  ’’ دعا کرو، اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! ہم میں سے کسی کوبدبخت اور محروم نہ رہنے دے۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم جانتے ہو محروم اور بدبخت کون ہے؟ ‘‘  صحابہ کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ کون ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ نماز چھوڑنے والا۔ ‘‘    (المرجع السابق، ص ۵ ۲)

{41}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز چھوڑنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جسے لَمْلَمْ کہا جاتا ہے، اس میں سانپ ہیں اور ہر سانپ اونٹ جتنا ہے، اس کی لمبائی ایک مہینے کی مسافت جتنی ہے، جب وہ بے نمازی کو ڈسے گا تو اس کا زہر 70سال تک اس کے جسم میں جوش مارتا رہے گا پھر اس کا گوشت گل کر ہڈی سے الگ ہو جائے گا۔ ‘‘         (المرجع السابق،ص۲۶)

{42}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  ’’ بنی اسرائیل کی ایک عورت نے حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے نبی عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ !  میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے اور میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ بھی کر چکی ہوں ، آپ  عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا فرمائیں کہ وہ میرا گناہ معاف فرما کر میری توبہ قبول فرمالے۔ ‘‘  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے اس سے دریافت فرمایا :  ’’ تیرا گناہ کیا ہے ؟ ‘‘  تو وہ بولی:   ’’ میں نے زنا کیا پھر اس سے جو بچہ پیدا ہوا میں نے اسے قتل کر دیا۔ ‘‘  اس پر حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے اس سے فرمایا :  ’’ اے بدکار عورت!  یہاں سے چلی جا، کہیں آسمان سے آگ نازل نہ ہو جائے، اور تیری بدعملی کے سبب ہم بھی اس کی لپٹ میں نہ آ جائیں ۔ ‘‘  وہ عورت شکستہ دل لئے وہاں سے جانے لگی تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام  تشریف لائے اور عرض کی :  ’’ اے موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام آپ کا رب عَزَّ وَجَلَّ  آپ سے ارشاد فرماتا ہے کہ ’’  آپ نے اس توبہ کرنے والی عورت کو واپس کیوں لوٹا دیا؟ کیا آپ نے اس سے بدتر کسی کو نہ پایا؟ ‘‘  تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے فرمایا :  ’’ اے جبرائیل!  اس سے بدتر کون ہو گا ؟ ‘‘  تو انہوں نے عرض کی:   ’’ جو جان بوجھ کر نماز ترک کر دے۔ ‘‘   (کتاب الکبائر،ص۲۶)

                سلف صالحین میں سے کسی بزرگ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گیا جب وہ اسے دفنانے لگے تو ان کی پوٹلی جس میں کچھ پونجی جمع تھی قبر میں گر گئی، دفنا کر لوٹنے تک وہ اس سے بے خبر رہے، جب واپس لوٹ آئے تو انہیں یاد  آیا، وہ اس کی قبر پر آئے اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد اسے کھودنے لگے، انہوں نے قبر میں بھڑکتی ہو ئی آگ دیکھی تو مٹی ڈال کر روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی  ’’ اے امی جان! مجھے میری بہن کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا عمل کرتی تھی؟ ‘‘  والدہ صاحبہ نے کہا!  ’’ تم اس کے بارے میں کیا جاننا چاہتے ہو؟انہوں نے عرض کی :  ’’ امی جان میں نے اس کی قبر پردہکتی ہوئی آگ دیکھی ہے۔ ‘‘  یہ سن کر وہ روتے ہوئے بولی :  ’’ بیٹا!  تمہاری بہن نمازمیں سستی کرتی تھی اور اسے وقت گزار کر پڑھا کرتی تھی۔ ‘‘  

                جب وقت گزار کر نماز پڑھنے کا یہ حال ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔ہم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے تمام آداب و کمالات اور وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق مانگتے ہیں بے شک وہ جواد و کریم اور رء ُ وف ورحیم ہے۔ (اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)                       (المرجع السابق،ص۲۶)

تنبیہات

تنبیہ1:

                نماز نہ پڑھنے یابلا عذر اسے وقت سے پہلے یاوقت گزار کرپڑھنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اس کی وجہ شیخین کا وہ قول ہے جسے انہوں نے صَاحِبُ الْعُدَّۃ سے نقل کر کے برقرار رکھا اور  ’’ اَلْاَنْوَار  ‘‘ میں جو ’’ دھرائے بغیر ‘‘ کی قید کا اضافہ کیا گیا ہے  (یعنی اس وقت گناہ کبیرہ ہے جبکہ نماز نہ دہرائے) وہ اپنے محل میں نہیں کیونکہ قبل اداکرنے کی صورت میں وہ جان بوجھ کر دین سے مذاق کرنے والا ہو گا اگرچہ وقت میں اعادہ بھی کر لے، جبکہ  ’’ اَلْاِسْنَوِی ‘‘ کا یہ قول کہ شیخین کا نماز کو وقت سے مقدم کرنے کا قول تحقیق شدہ نہیں کیونکہ اگر وہ اس کے جواز کا اعتقاد رکھتا ہو تو اس میں کوئی کلام نہیں اور اگر وہ جانتا ہو کہ ایسا کرنا منع ہے تو اس کی نماز فاسد ہے اور ایسی صورت میں اگر اس نے وقت میں نماز پڑھی تو اس کا یہ عمل حرام ہے کیونکہ اس نے فاسد طور پر نماز ادا کی، لہٰذا اس کا لحاظ رکھنا چاہئے اور اس شاذو نادر صورت پر اقتصار نہیں کرنا چاہئے، اگر اس نے وقت پر نماز ادا نہ کی تو تاخیر اور فاسد نماز کے سبب گناہ گار ہو گا اور یہ بات بھی اپنے محل میں نہیں ۔

                اسی لئے سیدنا اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا :  ’’ انہوں نے جو بات ذکر کی ہے وہ ایسی بے تکی بات ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں صَاحِبُ الْعُدَّۃ وغیرہ کے نماز کو وقت سے مقدم کرنے  (کے قول )  سے مراد یہ ہے کہ وہ وقت کے داخل نہ ہونے کو جاننے کے باوجود نماز کو وقت سے مقدم کر کے ادا کرے اور ایسا کرنا جائز نہیں یہ وہ بات تھی جس کا تقاضا ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ   تَعَالٰیکے ایک گروہ کا کلام کرتا ہے اور اس میں کوئی نزاع نہیں اور بلاشبہ یہ عمل کبیرہ گناہ اور دین سے ہنسی مذاق کرنا ہے خواہ اس نے بعد میں نماز کی قضاکی ہو یانہ کی ہو ۔

                اور ’’ اَلتَّہْذِیْب  ‘‘ میں جو ایک وجہ بیان کی گئی ہے وہ ضعیف ہے کہ ایک ضعیف حکایت ہے :  ’’ ایک مرتبہ نماز کو اتنی دیر تک ادا نہ کرنا کہ اس کا وقت گزر جائے کبیرہ گناہ نہیں اور اس عمل سے گواہی اسی وقت مردود ہو گی جبکہ وہ اسے عادت بنا لے۔ ‘‘  

                سیدنا حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ نماز ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے اور اگر کوئی اس کی عادت بنا لے تو یہ زیادہ برا ہے اور اگر کسی نے نماز پڑھی مگر اس کے خشوع کا حق ادا نہ کیا مثلاً اِدھر اُدھر متوجہ رہا یا اپنی انگلیاں چٹخاتا رہا یا لوگوں کی باتیں توجہ سے سنیں یا پتھر ہٹائے یا داڑھی کو باربار چھوتا رہا تو (نماز میں )  یہ اعمال صغیرہ گناہ ہیں ۔ ‘‘

                سیدنا اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ امام حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے علاوہ دیگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا کلام اعمال کے مکروہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے ۔ ‘‘  اسے ا ن کے قول کی طرف پھیرنا زیادہ مناسب ہے، یہ بات خشوع کے اسباب کے زیادہ موافق ہے لہٰذا خشوع کے منافی ہر بات کا یہی حکم ہے تاکہ نماز کا کوئی حصہ حرام نہ ہو جبکہ صحیح ترین قول یہ ہے کہ خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنا سنت ہے لہٰذا ان میں سے کوئی عمل حرام نہیں ۔

تنبیہ2:                                            

نماز ترک کرنا کفرہے یا نہیں ؟

 



Total Pages: 320

Go To