Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{28}…سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : میرے پاس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور عرض کی : یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ  ’’ میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمت پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں جو انہیں ان کے وضو، اوقات، رکوع اور سجود کی رعایت کرتے ہوئے ادا کرے گا تو اسے جنت میں داخل کرنا میرے ذمۂ کرم پر ہے اور جو ان میں سے کسی چیز میں کوتاہی کر کے مجھ سے ملے گا اس کے لئے میرے ذمۂ کرم پر کچھ نہیں ، اگر میں چاہوں گا تو اسے عذاب دوں گا اور اگر چاہوں گا تو اس پر رحم فرماؤں گا۔ ‘‘

 ( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، الحدیث ۱۸۸۷۶ ، ج۷ ، ص ۱۱۴)

{29}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نماز کے لئے میزان مقرر ہو گی جس نے اسے پورا کیا وہ پورا بدلہ لے گا۔ ‘‘   ( شعب الایمان ،باب فی الصلوات /  تحسین الصلاۃ والاکثارمنہا،الحدیث: ۳۱۵۱،ج۳،ص۱۴۷ )

{30}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نماز شیطان کا منہ کالا کرتی ہے، صدقہ اس کی کمر توڑتا ہے اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محبت اور علم کے معاملے میں مودّت اس کی دم کاٹ دیتی ہے، لہٰذا جب تم یہ  (اعمال) کرتے ہو تو وہ تم سے اس قدر دور ہو جاتا ہے جیسے سورج کے طلوع ہونے کی جگہ اس کے غروب ہونے کی جگہ سے دور ہے۔ ‘‘                            ( فردو س الاخبارللدیلمی،حرف باب الصاد،الحدیث: ۳۶۱۵، ج۲ ،ص۳۰)

{31}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو، اپنی پانچ نمازیں ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اس کی پیروی کرو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ ‘‘     ( جامع الترمذی ، ابواب السفر،باب منہ،الحدیث ۶۱۶، ص ۱۷۰۶ )

{32}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وقت پر نماز پڑھنا ہے پھر والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور پھر راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں جہاد کرنا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب المواقیت الصلاۃ ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا ، الحدیث ۵۲۸، ص۴۴)  

{33}…امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اسلام کا کونسا عمل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وقت پر نماز پڑھنا اور جو شخص نماز چھوڑ دے اس کا کوئی دین نہیں اور نماز دین کا ستون ہے۔ ‘‘  

 ( السنن الکبری للبیہقی،کتا ب الصلاۃ ، باب التر غیب فی حفظ وقت الصلاۃ الخ، الحدیث:  ۳۱۶۵، ج ۲،ص ۳۰۴، مختصرا )

{34}… جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو زخمی کیا گیا تو ان سے کہا گیا :  ’’ اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  نماز  (کا وقت ہے) ۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ ایک نعمت ہے اور جس نے نماز کو ضائع کیا اس کا اسلام میں کوئی حصّہ نہیں ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے نماز ادا فرمائی حالانکہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔

       (کتاب  الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۲، ’’ نعمۃ ‘‘ بدلہ ’’ نعم ‘‘ )  

{35}…مَحبوب رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب بندہ اوّل وقت میں نماز ادا کرتا ہے تو وہ آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے اور عرش تک اس کے ساتھ ایک نور ہوتا ہے، پھر وہ قیامت تک اس نمازی کے لئے استغفار کرتی رہتی ہے اور اس سے کہتی ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تیری اسی طرح حفاظت فرمائے جس طرح تُو نے میری حفاظت فرمائی۔ ‘‘  اور جب بندہ وقت گزار کر نماز پڑھتا ہے تو وہ تاریکی میں ڈوب کر آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے پھر جب وہ آسمان پر پہنچ جاتی ہے تو بوسیدہ کپڑے میں لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔ ‘‘   ( کنز العمال،کتاب الصلوۃ ، الحدیث ۱۹۲۶۳،ج ۷، س ۱۴۷،بتغیرٍقلیلٍ)

{36}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ جن کی نماز اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قبول نہیں فرماتا۔ 

                 اور ان میں اس شخص کا ذکر فرمایا جو وقت گزار کر نماز پڑھتا ہے۔

{37}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو نماز کی پابندی کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّپانچ باتوں کے ساتھ اس کا اکرام فرماے گا:   (۱) اس سے تنگی اور  (۲) قبر کا عذاب دور فرمائے گا (۳ ) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا  (۴) وہ پل صراط سے بجلی کی تیزی سے گزر جائے گا اور  (۵) جنت میں بغیر حساب داخل ہو گا اور جو نماز کو سستی کی وجہ سے چھوڑے  گااللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے پندرہ سزائیں دے گا: پانچ دنیا میں ،تین موت کے وقت،تین قبر میں اورتین قبر سے نکلتے وقت۔

            دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں :   (۱) اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی  (۲)  اس کے چہرے سے صالحین کی علامت مٹا دی جائے گی  (۳) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے گا  (۴) اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی اور  (۵) صالحین کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا ۔

                 موت کے وقت دی جانے والی سزائیں یہ ہیں  (۱)  وہ ذلیل ہو کر مرے گا  (۲) بھوکا مرے گا اور (۳) پیاسا مرے گا اگرچہ اسے دنیا بھر کے سمندر پلا دئیے جائیں پھر بھی اس کی پیاس نہ بجھے گی ۔

                بے نمازی کو قبر میں دی جانے والی سزائیں یہ ہیں  (۱)  اس کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی  (۲) اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی پھر وہ دن رات انگاروں پر لوٹ پوٹ ہوتا رہے گا اور  (<



Total Pages: 320

Go To