Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                پھر میں نے ان سے کہا :  ’’ رات بھر میں نے جو عجیب چیزیں دیکھیں وہ کیا ہیں ؟ ‘‘  تو انہوں نے کہا :  ’’ ہم ابھی عرض کئے دیتے ہیں ، جس پہلے شخص کے پاس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپہنچے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن پڑھ کر بھلانے والا اور نماز کے وقت سو جانے والا تھا، وہ شخص جس کے پاس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپہنچے تو اس کے جبڑے، نتھنے اور آنکھ کو گدی تک چیرا جا رہا تھا یہ وہ شخص تھا جو صبح گھر سے نکلتا تو جھوٹی باتیں گھڑتا اور انہیں دنیا بھر میں پھیلا دیتا، وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور سے مشابہ جگہ میں تھے وہ زانی مرد اورزانی عورتیں تھیں ، وہ شخص کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے پاس پہنچے تو وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر ڈالے جا رہے تھے وہ سود خور تھا،اور وہ ہیبت ناک صورت والاشخص جو آگ کے قریب تھا اور اسے بھڑکا کر اس کے اردگرد دوڑ رہا تھا وہ داروغۂ جہنم  (یعنی جہنم پرمقررفرشتے) حضرت مالکعَلَیْہِ السَّلَام تھے اوربلندقامت آدمی جو باغ میں تھے وہ حضرت سیدنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے اور ان کے گرد جو بچے تھے وہ فطرتِ اسلامیہ پر فوت ہونے والے تھے۔ ‘‘  

                راوی کا بیان ہے کہ بعض صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اور مشرکین کے  بچے ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ مشرکین کے بچے بھی۔ ‘‘  اور وہ لوگ جن کا نصف بدن خوبصورت اور نصف بدصورت تھا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ملے جلے عمل کئے یعنی اچھے عمل بھی کئے اور برے بھی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان سے درگزر فرمایا۔ ‘‘                       (صحیح البخاری ،کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیابعد صلاۃ الصبح، الحدیث ۷۰۴۷ ، ص ۵۸۸)

{17}…ایک اورروایت میں ہے : پھر شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جن کے سروں کو پتھروں سے کچلا جا رہا تھا جب بھی انہیں کچلا جاتا وہ پہلے کی طرح درست ہو جاتے اور اس معاملے میں کوئی سستی نہ برتی جاتی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:  ’’  اے جبرائیل!  یہ کون ہیں ؟ ‘‘ عرض کی :  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز سے بوجھل ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘                  ( مجمع الزوائد ،کتاب الایمان ،باب منہ فی الاسر ی ، الحدیث ۲۳۵ ، ج ۱،ص ۲۳۶)

{18}…رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اسلام نے نماز کی تعلیم دی تو جس کا دل نماز کے لئے فارغ ہوا اور اس نے اس کے حقوق، وقت اور سنتوں کی رعایت کے ساتھ پابندی کی تو وہی (کامل)  مؤمن ہے۔ ‘‘

 ( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، الفصل الاول ، الحدیث ۱۸۸۶۶، ج۷ ، ص ۱۱۳ )

{19}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے  ’’ میں نے تمہاری اُمت پر پانچ نمازیں فرض کیں اور خود سے عہد کیا کہ جس نے انہیں ان کے اوقات میں اد اکیا میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جس نے ان کی حفاظت نہ کی اس کامیرے پاس کوئی عہد نہیں ۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابو اب اقامۃ الصلوات ، باب ماجاء فی فر ض الصلوات الخمسالخ الحدیث: ۱۴۰۳،ص۲۵۶۱)

{20}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے :  ’’ جس نے جان لیا کہ نماز لازمی حق ہے اور پھر اسے ادا بھی کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘      ( المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عثمان بن عفان،الحدیث ۴۲۳،ج۱، ص۱۳۲ )

{21}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا اگروہ صحیح ہوئی تو وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیااور اگروہ صحیح نہ ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہو گیا اگر اس کے فرائض میں کمی ہوئی تورب عَزَّ وَجَلَّ  ملائکہ سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل پاتے ہو جس کے ذریعے تم اس کے فرض کی کمی کو پورا کر سکو۔ ‘‘  پھر تمام اعمال کا اسی طرح حساب ہو گا۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ، ابواب الصلاۃ الخ،باب ماجاء ان اول مایحاسب ،الخ الحدیث: ۴۱۳،ص۱۶۸۳)

{22}…اللّٰہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس کاحساب ہو گا وہ نماز ہے اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان جس کا فیصلہ ہو گا وہ خون   (یعنی قتل) ہے۔ ‘‘  ( سنن النسائی ،کتاب المحاربۃ ، باب تعظیم الدم ، الحدیث۳۹۹۶ ، ص  ۲۳۴۹ )

بروزقیا مت فرائض کی کمی نوافل سے پوری کی جائے گی :

{23}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بندے کا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب ہو گا وہ نماز ہے، اگر وہ مکمل ہوئی تو اس کے لئے کامل ہونا لکھ دیا جائے گا اور اگر وہ مکمل نہ ہوئی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ ذرا دیکھو تو کیا تم میرے بندے کے پاس نوافل پاتے ہو؟ ‘‘  لہذا وہ اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل فرما دیں گے، پھر زکوٰۃ کا اسی طرح حساب ہو گا اور اس کے بعد بقیہ اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا۔ ‘‘                          (سنن النسائی،کتاب الصلاۃ ،باب المحاسبۃ علی الصلاۃ ،الحدیث ۶۶۷،ص۲۱۱۷بتغیرٍقلیلٍ )

{24}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر وہ کامل ہوئی تو کامل لکھ دی جائے گی اور اگر مکمل نہ ہوئی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا:  کیا تم میرے بندے کے پاس کوئی نفل پاتے ہو۔ تو وہ اس کے فرائض کو اس کے نوافل کے ذریعے پورا کر دیں گے پھر اسی طرح زکوٰۃ اور دیگر اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ ‘‘  ( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاہ ، باب قول النبی عَلَیْہِ السَّلَام کل صلاۃالخ ،الحدیث ۸۶۴، ص ۱۲۸۷، ’’ مختصرًا ‘‘ )

{25}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا وہ یہ کہ اس کی نماز دیکھی جائے گی اگر وہ صحیح ہو گی تو وہ نجات پا جائے گا اور اگروہ صحیح نہ ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہو گا۔ ‘‘                                                      ( المعجم الاوسط ، الحدیث ، ۳۷۸۲ ،ج ۳ ، ص ۳۲ )

{26}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا اگر وہ صحیح ہو ئی تو بقیہ سار ے ا عمال بھی صحیح ہو جائیں گے اور اگر صحیح نہ ہوئی تو بقیہ سارے بھی برباد ہو جائیں گے پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی عبادت بھی ہے؟ ‘‘  تو اگر اس کے پاس نفل ہوئے تو ان سے فرضوں کو پورا کردے گا اور پھر اس کے بعد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دوسرے فرائض کا حساب ہوتا رہے گا۔ ‘‘

 (کنزالعمال،کتاب الصلاۃ ، قسم الاقوا ل،باب فی فضل الصلوۃوجوبھا،الفصل الاول،الحدیث: ۱۸۸۸۴،ج۷،ص۱۱۵)

{27}…خاتَم ُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن بندوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا، تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے:  ’’ میرے بندے کی نماز کو دیکھو کیا یہ مکمل ہے یا ناقص؟ اگر وہ کامل ہو گی تو کامل لکھ دی جائے گی اور اگر اس نے اس میں کچھ کوتاہی کی ہو گی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ میرے بندے کے نوافل دیکھو اگر اس کے پاس کچھ نوافل ہوں تو ان سے اس کے فرائض کو پورا کر دو۔ ‘‘  پھر اسی طرح بقیہ اعمال کا بھی حساب ہو گا۔ ‘‘  ( سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ ، باب قول النبی کل صلاۃ