Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

پر دلالت کرتا ہے، ہمارے اصحاب نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کے سامنے بغیر ضرورت ستر کھولنا کبیرہ گناہ ہے۔

تنبیہ2:

                وہ آخری حدیثِ پاک جس میں دیکھنے والے اور دکھانے والے پر لعنت آئی ہے، اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ستر کی طرف دیکھنا کبیرہ گناہ ہے اور اسے کھولنا بھی کبیرہ گناہ ہے کیونکہ ہم یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ لعنت کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے اور یہ بات بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ اجنبیہ یا اَمرَد (یعنی خوبصورت لڑکے)  کو بغیر حاجت عمداً دیکھنا فسق ہے، اس کے نقصانات کا ذکر عنقریب آئے گا۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

  باب الحیض  (حیض کابیان)

کبیرہ نمبر75:                                            

حائضہ سے وطی کرنا

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو شخص حیض والی عورت سے ملاپ کرے یا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں وطی کرے یا کاہن کے پاس آئے بے شک وہ اس قرآن کا منکر ہے جو (حضرت)  محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر نازل ہوا۔ ‘‘

تنبیہ:

                زِیَادَۃُ الرَّوْضَۃمیں سیدنا محاملی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے نقل کر کے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، شیخ الاسلام جلال الدین بلقینی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ ظاہر یہی ہے کہ شیخ محی الدین نے اسے غیر سے نقل نہیں کیا لہٰذا اسے نقل کرنا غریب و شاذ ہے حالانکہ اس کے متعلق حدیثِ پاک وارد ہوئی ہے، پھر مذکورہ حدیثِ پاک ذکر کر کے فرمایا کہ یہ حدیثِ پاک ضعیف الاسناد ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں جیسا کہ سیدنا امام بخاری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ’’ تاویل کی گنجائش کی صورت میں اس سے کبیرہ گناہ ثابت نہیں ہوتااور تاویل یہ ہے کہ یہ حکم ان امور کو جائز اور حلال سمجھنے والے کا ہے کیونکہ ان امور کی حرمت ضروریات دین سے ہے، لہٰذا انہیں حلال جاننے والاکافر ہو گا۔ ‘‘

                سیدنا شیخ صلاح الدین علائی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں :  ’’ حالتِ حیض میں وطی کرنے والے پر بعض احادیثِ مبارکہ میں لعنت وارد ہوئی ہے جبکہ میں اس وقت تک ان پر مطلع نہ ہو سکا مگر ایک جماعت کا یہی مؤقِّف ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ سیدنا امام نووی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے اَلرَّوْضَۃ اور اَلْمَجْمُوْعمیں سیدنا امام شافعی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے نقل کیا ہے۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کتاب الصلٰوۃ

نماز کا بیان

کبیرہ نمبر76:                            

جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے جہنمیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ (۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ (۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ (۴۴) وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ (۴۵)   (پ۲۹، المدثر: ۴۲تا۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان : تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اوربیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے۔

{1}…سیدناامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی اور کفر کے درمیان نماز کوچھوڑنے کا فرق ہے ۔ ‘‘  (مسند احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۵۱۸۵،ج ۵،ص۹۹ ۱)

{2}…سیدناامام مسلم رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روایت یوں ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی اور شرک یا کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان اطلاق اسم الکفرالخ، الحدیث: ۲۴۶،ص۶۹۲)

{3}…سیدناامام ابو داؤد اورسیدنا امام نسائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما کی روایت اس طرح ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ ‘‘

 (سنن النسائی،کتاب الصلوٰۃ،باب الحکم فی تارک الصلاۃ،الحدیث: ۴۶۵،ص۲۱۱۷)

{4}…سیدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یوں روایت کیا ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ  ’’ کفر اور ایمان کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی تر ک الصلاۃ،الحدیث ۲۶۱۸،ص۱۹۱۶)

{5}…سیدناامام ابن ماجہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت یوں ہے کہ خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ا بن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا ، باب ماجاء فیمن تر ک الصلوٰۃ الحدیث ، ۱۰۷۸ ، ص ۲۵۴۰)

{6}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہمارے اور کفار کے درمیان پہچان نماز ہے، لہٰذا جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ الحدیث،۱۰۷۹،ص۲۵۴۰)

 



Total Pages: 320

Go To