Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ایسا کس لئے ہو گا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیونکہ وہ ایک ننگی قوم پر داخل ہوں گے، سن لو!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  (دوسروں کا ستر)  دیکھنے والے اور جس کی طرف دیکھا جا رہا ہو (جبکہ وہ خود دِکھاتاہوتو)  دونوں پر لعنت فرماتا ہے۔ ‘‘                   (جامع الاحادیث: الحدیث: ۲۴۸۸،ج۱،ص۳۶۳)

{36}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ناف اور گھٹنے کے درمیان کی جگہ سِتر (یعنی مرد کے لئے اسے چھپانا فرض ) ہے۔ ‘‘    

 (المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب النھی عن ثمن الکلبالخ، الحدیث:  ۶۴۷۷، ج۴، ص۱ ۷۴)

{37}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مسلما ن مرد کا ستر اس کی ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے۔ ‘‘      (کنزالعمال،کتاب الصلوٰۃ ،قسم الاقوال، الفصل الاول،الحدیث: ۱۹۰۹۰۶،ج۷،ص۱۳۴)

{38}…سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ گھٹنوں سے اوپر کا حصہ عورت ہے اور ناف سے نچلا بھی عورت ( یعنی چھپانے کی چیز)  ہے۔ ‘‘   (سنن الدارقطنی،کتاب الصلوٰۃ، باب الامربتعلیم الصلوات والضربالخ،الحدیث: ۸۷۹،ج۱،ص۳۱۸)

{39}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسلمان مرد کی ران اس کے ستر کا  حصہ ہے۔ ‘‘                              (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۱۴۹،ج۲،ص۲۷۳)

{40}…رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اپنی ران کو چھپا کر رکھو کیونکہ یہ بھی عورت (یعنی چھپانے کی چیز )  ہے۔ ‘‘       (جامع الترمذی،ابواب الأدب،باب ماجاء ان الفخذعورۃ،الحدیث: ۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)

{41}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ:  ’’ ران چھپانے کی چیز ہے۔ ‘‘                                 (المرجع السابق،الحدیث: ۲۷۹۵،ص۱۹۳۲)

{42}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے سیدنا جرہد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے جرہد (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ) !  اپنی ران چھپا لو کیونکہ ران چھپانے کی چیز ہے۔ ‘‘                                           (المرجع السابق،الحدیث: ۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)

 (المسند للامام حمدبن حنبل، الحدیث:  ۱۵۹۳۲،ج۵،ص۳۹۵)

{43}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اپنی ران ظاہر مت کرو اور نہ ہی کسی زندہ یا مردہ کی ران پر نظر ڈالو۔ ‘‘                     (سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی ستر المیت عند غسلہ ،الحدیث: ۳۱۴۰،ص۱۴۵۹)

{44}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ:  ’’ ایک مرد کا ستردوسرے مردکے لئے  اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مردکے لئے ہے اورایک عورت کا ستر دوسری عورت کے لئے اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مرد کے لئے ہے۔ ‘‘   (المستدرک،کتاب اللباس،باب التشدیدفی کشف العورۃ،الحدیث: ۷۴۳۸،ج۵،ص۲۵۳)

تنبیہ1:

                گذشتہ احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ یہ بات کہ  ’’ کسی کے سامنے ستر ظاہر کرنااللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو ناپسند ہے۔ ‘‘ اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ  (ستر کھولے بغیر) بات چیت کرنا تو مباح ہے اس پر ناراضگی مرتب نہیں ہوتی اور حمام میں جانے سے متعلق میں نے جو احادیثِ مبارکہ ذکر کی ہیں وہ ہماری بیان کردہ اس بات پر شاہد ہیں کہ مرد کا اپنی بیوی یا کنیز  (جو اس کے لئے حلال ہو) کے علاوہ کسی کے سامنے شرمگاہ کھولناخواہ صغریٰ ہو یا کبریٰ کبیرہ گناہ ہے۔ ([1])

                 حضرت سیدنا ابراہیم بن عتبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرنا فسق مغلظ یعنی دُوگنی برائی ہے اور حمام میں کھولنا اس سے قدرے کم برا ہے۔ ‘‘

                طبقات العبادیمیں ہے کہ سیدنا مزنی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت سیدنا امام شافعی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت کیا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حمام میں برہنہ نظر آنے والے شخص کے بارے میں فرمایا کہ اس کی گواہی مقبول نہیں کیونکہ ستر پوشی فرض ہے۔ ‘‘

                سیدنا توحیدی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کتاب البصائر میں سیدنا مزنی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے اس طرح کی روایت نقل کی ہے مگر اس میں برہنہ نظر آنے کے بجائے ستر نظر آنے کا ذکر ہے اور یہ روایت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا کرنے پر بھی وہ شخص فاسق کہلائے گااور یہ معاملہ کبیرہ گناہ ہی کا ہے۔

                سیدناابن شریح رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہم عصرسیدنا حسن بن احمد حدادبصری ِرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی کتاب ادب القضاء کی یہ بات بھی اس کے موافق ہے کہ سیدنا ذکریا ساجی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا :  ’’ جو شخص حمام یا نہر میں ستر پوشی کے بغیر داخل ہو اس کی گواہی قبول کرنا جائز نہیں ۔ ‘‘

                سیدنا ابو بکر احمد بن عبد اللہ  بن سختیانی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سیدنا مزنی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی سند سے سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ  الکافی سے روایت کرتے ہوئے اسے بطورسند ذکر کیا ہے، پھر سیدنا حداد رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ سیدنا زکریا رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں :   ’’ یہ بات زیادہ مناسب ہے اگرچہ اس کا ستر دیکھنے والا کوئی نہ ہو کیونکہ اس کا یہ عمل مروَّت میں سے نہیں ۔ ‘‘  سیدنا حداد

Total Pages: 320

Go To