Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{4}…سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب دو مرد قضائے حاجت کرنے لگیں تو ایک دوسرے سے چھپ جائیں ۔ ‘‘  (تاریخ بغداد،باب العین، حرف الیاء من آباء العین، الرقم :  ۶۵۷۴،ج۱۲،ص۱۲۲)

{5}… رحمت عالم ،نورمجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اپنی بیوی یاکنیز کے علاوہ دوسروں سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ ‘‘  عرض کی گئی :  ’’ جب قوم آپس میں مل کر بیٹھی ہو تو کیا کریں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے تو کوئی نہ دیکھے۔ ‘‘  عرض کی گئی:   ’’ اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو تو کیا کرے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگوں سے زیادہ اُس سے حیا کی جائے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الحمام، باب فی التعری،الحدیث: ۴۰۱۷،ص۱۵۱۷)

{6}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّاکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ حیاء والا اور مخفی ہے، حیا ء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرنے لگے تو پردہ کرلیا کرے۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام،  باب النھی عن التعری،الحدیث: ۴۰۱۲،ص۱۵۱۶)

{7}…حضرت سیدنا جبار بن صخر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہماری شرمگاہیں نظر آئیں ۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضوان اللہ ،باب مناقب جبار بن صخر رضی اللہ  عنہ ، الحدیث:  ۵۰۳۷،ج۴، ص۲۳۸)

{8}…حضرت سیدنا عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ مجھے اس بات سے منع کیا گیا کہ میں برہنہ یعنی کپڑوں کے بغیر  چلوں ۔ ‘‘                                                                           (البحرالزخار،بمسندالبزار،مسند العباس بن عبدالمطلب،الحدیث:  ۱۲۹۵،ج۴،ص۱۲۵)

{9}…سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عریانی سے بچتے رہو کیونکہ تمہارے ساتھ وہ  (یعنی فرشتے) ہوئے ہیں جو صرف پاخانہ کرتے وقت اور آدمی کے اپنی اہلیہ کے پاس جاتے وقت جدا ہوتے ہیں ، لہٰذا ان سے حیاء کرو اور ان کا اکرام کرو۔ ‘‘   (جامع الترمذی،کتاب الادب ،باب ماجاء فی الاستتارعند الجماع،الحدیث: ۲۸۰۰،ص۱۹۳۳)

{10}…شاہ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حیاء والا، علم والا اورپوشیدہ ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لیا کرے اگرچہ دیوار کی آڑ ہی میں ہو۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الطہارۃ،قسم الاقوال،الحدیث:  ۲۶۶۰۰،ج۹،ص۱۶۸)

{11}…رسول انور، صاحب کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حیاء والاہے حیاء کو پسند فرماتا ہے، مخفی ہے پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرنے لگے تو پردے میں ہو جایا کرے۔ ‘‘

 (مصنف عبدالرزاق،کتاب الطہارۃ، باب ستر الرجل اذا اغتسل،الحدیث:  ۱۱۱۱،ج۱،ص۲۲۲)

{12}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے لوگو!  تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ  حیاء والا اور کریم ہے لہذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لیا کرے۔ ‘‘     (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۶۷۰،ج۲۲،ص۲۶۰)

{13}…نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’ پردہ کئے بغیر پانی میں داخل مت ہوا کروبے شک پانی کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں ۔ ‘‘                                   (فردوس الاخبارللدیلمی،باب اللام،الحدیث: ۷۵۳۵،ج۲،ص۴۱۴)

{14}…حضرت سیدنا ابن جریج رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کا مزدور ننگا نہا رہا تھا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشاد فرمایا :  ’’ میں تمہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے حیاء کرنے والا نہیں پاتا، اپنی مزدوری پکڑ، ہمیں تمہاری کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘

 (مصنف عبدالرزاق،کتاب الطہارۃ، باب ستر الرجل اذا اغتسل،الحدیث: ۱۱۱۲،ج۱،ص۲۲۳)

 عورتوں کا حمام میں جانا منع ہے :

{15}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ پردہ کئے بغیر حمام میں داخل نہ ہواور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کو حمام نہ لے جائے۔ ‘‘  (سنن النسائی،کتاب الغسل والتیمم،باب الرخصۃ فی دخول الحمام،الحدیث: ۴۰۱ص۲۱۱۲)

 (جامع الترمذی،کتاب الادب، باب ماجاء فی دخول الحمام،الحدیث: ۲۸۰۱،ص۱۹۳۳)

{16}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ عنقریب تم پر عجم کی زمین کھول دی جائے گی اور تم وہاں ایسے مکانات پاؤ گے جنہیں حمام کہا جاتا ہے، اس میں مرد بغیر اِزار کے داخل نہ ہوں اور مریضہ اور نفاس والی عورتوں کے علاوہ دیگر عورتوں کو اس میں داخل ہونے سے منع کر دینا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب الدخول فی الحمام، الحدیث:  ۴۰۱۱،ص۱۵۱۶)

{17}…مروی ہے :  ’’ مردوں اور عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا تھا پھر مردوں کواِزار باندھ کر داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی اور عورتوں کو نہ دی گئی۔ ‘‘   (سنن ابن ماجۃ،ابواب الادب،باب دخول الحمام،الحدیث: ۳۷۴۹،ص۲۷۰۰)