Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{12}…راوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا :  ’’ میری اُمت کے خلال کرنے والے لوگ کتنے اچھے ہیں ۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  خلال کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو وضو کے دوران اور کھانے کے بعد خلال کرتے ہیں ۔ ‘‘       (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۴۰۶۱،ج۴،ص۱۷۷)

                وضو کے خلال سے مراد کلی کرنا،ناک میں پانی چڑھانا اور انگلیوں کا خلال کرنا ہے جبکہ کھانے کا خلال کھانے کے بعد ہوتا ہے کیونکہ کراماً کاتبین پر اس سے زیادہ گراں کوئی بات نہیں گزرتی کہ ان کا رفیق نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے دانتوں کے درمیان کھانے کے ذرات پھنسے ہوئے ہوں ۔

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ سے ہاتھ اور پاؤں دھونے کے فرائض میں سے کسی چیز کو ترک کرنے پر سخت وعید ظاہر ہوئی، وضو کے بقیہ فرائض کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے تو وہ بھی اس وعید کی بناء پران کی طرح کبیرہ گناہوں میں داخل ہو جائیں گے اور یہ نماز کے ترک کولازم ہے لہٰذا یہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس قول کے تحت داخل ہو گا کہ نماز ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

غسل کا بیان

کبیرہ نمبر73:                            

غسل کا کوئی فرض چھوڑ دینا

{1}…امیر المؤ منین حضرت سیدناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے جنابت سے غسل کرتے وقت اپنے جسم سے بال برابر جگہ دھونا چھوڑ دی اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا کیا جائے گا۔ ‘‘ حضرت سیدناعلی المرتضی  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اسی لئے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ سر کے بال منڈوائے رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب فی الغسل من الجنابۃ ،الحدیث:  ۲۴۹،ص۱۲۴۰)

{2}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الطہارۃ ، ماجاء ان تحت کل شعرۃجنابۃ،الحدیث: ۱۰۶،ص۱۶۴۳)

{3}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے لہٰذا بالوں کو تر کر کے جلد صاف کر لیا کرو۔ ‘‘

 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الطہارۃ ، باب فرض الغسل وفیہ دلالۃ علی الخ،الحدیث:  ۸۴۹،ج۱،ص۲۷۶)

{4}…سرکار ِمدینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے عائشہ (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا ) !  ہر بال پر جنابت ہوتی ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند السیدۃ عائشۃ،الحدیث: ۲۴۸۵۱،ج۹،ص۴۱۶)

{5}…حضورنبی ٔکریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور اچھی طرح غسل کیا کرو کیونکہ یہ وہی امانت ہے جسے تم نے اٹھایا ہے اور انہی اسرار میں سے ہے جو تمہارے سپرد کئے گئے ہیں ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۶۴،ج۲۵،ص۳۶)

تنبیہ:

                اس باب کی ابتدائی احادیثِ مبارکہ میں مذکور وعید کس قدر شدید ہے اسی بناء پر اس گناہ کا کبیرہ گناہوں میں سے ہونا واضح ہو گیا خصوصاً جب آپ یہ بات جان چکے ہیں کہ غسل کی تکمیل میں کوتاہی سے نماز کا ترک کرنا لازم آتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر74:                            

بلا ضرورت سترکھولنا

جیسے حمام میں تہبندوغیرہ سے ستر پوشی کئے بغیر داخل ہونا۔

{1}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دو شخص پاخانہ کرتے وقت باہم سرگوشی نہ کیا کریں اس طرح کہ وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے ہوں کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس بات کوسخت ناپسند فرماتاہے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ وسننھا،باب النھی عن الاجتماع علی الخلائ،الحدیث: ۳۴۲،ص۲۴۹۸)

{2}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دو افراد پاخانہ کے لئے اس طرح نہ نکلیں کہ بے پردہ ہو کر باتیں کریں کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ،باب کراہیۃ الکلامالخ،الحدیث: ۱۵،ص۱۲۲۳)

{3}… دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دو افراد پاخانہ کے لئے اس طرح مت جائیں کہ وہ دونوں اپنے ستر کھولے ہوئے بیٹھ کر باتیں کرتے ہوں کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث:  ۱۲۶۴،ج۱،ص۳۴۸)

 



Total Pages: 320

Go To