Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کو ڈھیلا نہ چھوڑنے اور اس جگہ کو دھونے میں مبالغہ سے کام نہ لینے والے اکثر لوگ نجاست ہی کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں اور مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں وارد اس سخت وعید کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ اس حدیث پاک کاحکم پیشاپ  (کی نجاست) سے بڑھ کر پاخانہ (کی نجاست)  کے لئے ہے کیونکہ اس میں زیادہ گندگی ہے اوریہ زیادہ بُراہے۔

                منقول ہے کہ حضرت ابن ابی زید مالکی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے انتقال کے بعدانہیں کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا :   ’’ مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘  تو آپ نے جواب دیا :  ’’ مجھے بخش دیا گیا۔ ‘‘  پوچھا گیا کہ  ’’ کس وجہ سے؟ ‘‘  تو انہوں نے جواب دیا :  ’’ میرے اس قول کی وجہ سے جو میں نے استنجاء سے متعلق اپنے رسالے میں لکھا تھا کہ قضائے حاجت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھیلا چھوڑے۔ ‘‘  

                آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہیہ بات فرمانے والے پہلے شخص تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان جب اپنی مقعد کو  ڈھیلا چھوڑتا ہے تو شرمگاہ کے اندر موجود جھلیاں اور پردے ظاہر ہو جاتے ہیں ، لہٰذا جب وہاں پانی پہنچتا ہے تو اس کے اندر موجود نجاست دُھل جاتی ہے جبکہ ایسا کئے بغیر دھونے سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا اس پر ایسا کرنا واجب ہے تا کہ تمام ظاہری جلد سے نجاست اور اس کے اثر کے دُھل جانے کا گمان غالب ہو جائے اور جب اسے غالب گمان ہو جائے اور پھر بھی ہاتھوں سے اس کی بدبُو آتی ہوئی محسوس ہو تو اگر محلِ نجاست سے ملنے والے ہاتھ پر اس کا جَرم موجود ہے تو اسے دھونا فرض ہے کیونکہ یہ نجاست کی دلیل ہے اور اگر اس ہاتھ سے بدبُو محسوس نہ ہو مثلاً انگلیوں کے درمیان سے بدبُو آئے یا بدبو محسوس ہونے میں _ شک ہو تو اس پر فقط ہاتھ دھونا لازم ہے کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ بدبُو ہاتھ کے اس حصے سے آرہی ہو جو محلِ نجاست سے مس نہ ہوا تھا۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

وضوکا بیان

 

کبیرہ نمبر72:                            

وضو کا کوئی فرض ترک کرنا

{1}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو پانی کے ذریعے انگلیوں میں خلال نہ کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اسے آگ سے چیر دے گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۵۶،ج۲۲،ص۶۴)

{2}…حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ تم انگلیاں دھونے میں مبالغے سے کام لو گے یا پھر آگ اسے جلانے میں مبالغہ کرے گی۔ ‘‘                   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۲۶۷۴،ج۲،ص۱۰۶)

{3}…حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ پانچوں انگلیوں کا خلال کر لیا کرو تاکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّانہیں آگ سے نہ بھر دے۔ ‘‘                                                 (المعجم الکبیر، الحدیث: ۹۲۱۳،ج۹،ص۲۴۷)

{4}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی ایڑیاں نہ دھوئی تھیں ، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جہنمی ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ‘‘                       (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ ،باب وجوب غسل الرجلین بکمالھما،الحدیث:  ۵۷۳،ص۷۲۱)

 {5}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ لوگوں کو کوزوں یعنی لوٹوں سے وضو کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ کامل طریقے سے وضو کرو کیونکہ میں نے ابو القاسم محمدرسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جہنمی ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے یا جہنمی کونچوں کے لئے ہلاکت ہے۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ ،باب وجوب غسل الرجلین بکمالھما،الحدیث: ۵۷۵،ص۷۲۱)

{6}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جہنمی ایڑیوں اور تلووں کے لئے ہلاکت ہے۔ ‘‘                                                                   (المسندللامام احمدبن حنبل،الحدیث: ۱۷۷۲۳،ج۶،ص۲۱۵)

{7}…حضرت سیدنا ابو الہیثمرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا :  ’’ اے ابو الہیثم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  پاؤں کا تلوا  (یعنی اِسے دھوؤ) ۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۹۱۱،ج۲۲،ص۳۶۳)

{8}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کہ جن کی ایڑیاں خشک تھیں توا رشاد  فرمایا:  ’’ جہنمی ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے پورا وضو کرو۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الطہارۃ ، باب فی اسباغ الوضوئ،الحدیث: ۹۷،ص۱۲۲۹)

ناقص وُضو، نماز میں شُبہ پیداکرتاہے :  

{9}…سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز میں سورئہ روم کی تلاوت فرمائی اور اس میں شبہ پیدا ہو گیا تو  (نماز مکمل ہونے کے بعد) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ شیطان نے ان لوگوں کی وجہ سے ہم پر قرأ ت مشتبہ کر دی جو بغیر وضو نماز کے لئے آجاتے ہیں ، لہٰذا جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو اچھی طرح وضو کر لیا کرو۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل ،الحدیث: ۱۵۸۷۲،ج۵،ص۳۸۰)

{10}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’  (آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو) ایک آیت میں تردد ہوا توشفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز مکمل فرمانے کے بعد اِرشاد فرمایا :  ’’ ہم پر قرائَ ت اس لئے مشتبہ ہو گئی کہ تم میں سے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے کچھ لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہٰذا جو ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو اسے چاہئے کہ اچھی طرح وضو کر لیا کرے۔ ‘‘                                                       (المسندللامام احمد بن حنبل ،الحدیث: ۱۵۸۷۴،ج۵،ص۳۸۰)

{11}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ  صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کے مطابق اچھی طرح وضونہ کر لے یعنی جب تک چہرہ، کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ، سر کا مسح اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت نہ دھو لے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ،ابواب الطہارۃ سننھا،باب ماجاء فی الوضوء علی ماامر