Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{1}…ایک شخص نے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  ’’ آپ نے ہمیں ہر چیز کے بارے میں شرعی احکام بیان فرما دیئے ہیں ، اب ہمیں قضائے حاجت کے بارے میں بھی کچھ ارشاد فرمائیں ۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ  ’’ میں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس نے مسلمانوں کے کسی راستے میں پاخانہ کیا اس پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ ‘‘                                  (المعجم الاوسط، الحدیث: ۵۴۲۶،ج۴،ص۱۲۲)

{2}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مسلمانوں کو ان کے کسی راستے کے معاملے میں تکلیف دیتا ہے اس پر مسلمانوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے۔ ‘‘     (المعجم الکبیر،الحدیث: ۳۰۵۰،ج۳،ص۱۷۹)

{3}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ  صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو کسی ایسی نہر کے کنارے پاخانہ کرے جس سے وضو کیا جاتا ہو یا پانی پیا جاتا ہو اس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ،ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔ ‘‘

 (تاریخ بغداد،داودبن عبدالجبارالخ،الرقم :  ۴۴۵۶،ج۸،ص۳۵۱، ’’ حافۃ ‘‘ بدلہ ’’ ضفۃ ‘‘ )

{4}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لعنت کے تین کاموں سے بچتے رہو۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  لعنت کے وہ تین کام کون سے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ یہ ہیں کہ تم میں سے کوئی کسی سائبان، راستے یا جمع شدہ پانی میں پاخانہ کرے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عباسالخ،الحدیث:  ۲۷۱۵،ج۱،ص۶۴۰)

{5}…ایک اور روایت میں ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ لعنت والے تین کاموں سے بچتے رہو یعنی بیٹھنے کی جگہوں ، راستے کے کونوں اور سائے میں پاخانہ مت کیا کرو۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب المواضع،التی نھی الخ،الحدیث:  ۲۶،ص۱۲۲۴)

{6}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لعنت والے دو کاموں سے بچو۔ ‘‘ عرض کی گئی:  ’’  یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  لعنت والے دو کام کون سے ہیں ؟ ‘‘  توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کی گزرگاہوں اور سایہ دار جگہ میں پاخانہ کرے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب النھی عن التخلی فی الطرقالخ،الحدیث: ۶۱۸،ص۷۲۴)

وضاحت:

          امام خطابی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’ سائے سے مراد مطلق سایہ دار جگہ نہیں بلکہ وہ سایہ ہے جسے لوگ آرام کرنے یا پڑاؤ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھجور کے درخت کے نیچے قضائے حاجت فرمائی اور لامحالہ وہ سایہ دار درخت تھا۔ ‘‘

{7}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ راستوں میں لوگوں کے پڑاؤ کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہوں سے بچتے رہو کیونکہ یہ کیڑے مکوڑوں اور درندوں کے ٹھکانے ہیں اوران پر قضائے حاجت کرنے والوں پر یہ جانور لعنت بھیجتے ہیں۔ ‘‘    (سنن ابن ماجہ،ابواب الطہارۃ وسننھا،باب النھی عن الخلائ الخ،الحدیث:  ۳۲۹،ص۲۴۹۷)

تنبیہ:

                پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے تقاضا کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ لعنت کبیرہ گناہوں کی علامتوں میں سے ہے، ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے مابین اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ عمل صغیرہ گناہ ہے یا مکروہ ؟صحیح ترین قول یہ ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے مگر یہ احادیثِ مبارکہ اس کی حرمت کو راجح قرار دیتی ہیں ، بخاری و مسلم نے باب الشھادۃ میں ان سے روایتیں نقل کیں اور انہیں برقرار رکھا اور بعض متاخرین نے اس پر اعتماد کیا ہے۔ الخادم میں ہے کہصاحب العدۃ کے نزدیک اس اعتبارسے حرمت مراد ہے کہ ناحق راستے کو استعمال کرنے کی وجہ سے اس میں مسلمانوں کی ایذاء پائی جا رہی ہے جبکہ یہ عمل  قضائے حاجت کے آداب میں سے ہونے کے اعتبار سے حرمت پر ختم نہیں ہوتا، لہٰذا ان کے اس قول میں دو احتمال ہوئے اور یہ اسی صورت میں ہے کہ جب صاحب العدۃ کے قول سے وہی مراد ہو جو امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسمجھے ہیں حالانکہ ظاہر اس کے خلاف ہے کیونکہ ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کے سبب گواہی مردود ہو جاتی ہے اس وجہ سے کہ یہ عمل محض مروّت کے خلاف ہے نہ کہ اس کے حرام ہونے کی وجہ سے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر71:                            

بد ن یا کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچانا

{1}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو قبروں کے پاس سے گزرے، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ان میں عذاب ہو رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑی چیز کے سبب نہیں ہو رہا مگر یہ بڑا گناہ ضرور ہے ان میں سے ایک چغلخوری کرتا تھا اوردوسرا پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ ، باب الدلیل علی نجاسۃ البولالخ،الحدیث: ۶۷۷،ص۷۲۷)

{2}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایک دیوار کے قریب سے گزرے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے سبب سے نہیں ہو رہا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغلخوری کرتا تھا۔ ‘‘  (صحیح ابن حزیمہ، کتاب الوضوئ، باب التحفظ من البول کَی لایصیب الخ،الحدیث:  ۵۵،ج۱،ص۳۲)

{3}…ایک اور روایت میں ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ عذابِ قبر عموماً پیشاب  (کے چھینٹوں سے نہ بچنے)  کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ‘‘                       (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۱۱۲۰،ج۱۱،ص۷۰)

{4}…