Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{25}…حضرت سیدنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے :  ’’ میں نے ایک آدمی کو قرآنِ پاک پڑھایا اس نے میری طرف ایک کمان ھدیۃً بھیجی تو میں نے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تُو نے اسے لے لیا تو تُو نے آگ کی کمان لی۔ ‘‘    (سنن ابن ماجۃ، ابواب التجارات، باب الاجر علی تعلیم القرآن،الحدیث: ۲۱۵۸،ص ۲۶۰۶)

{26}…اسی کی مثل ایک روایت حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے بھی مروی ہے اور اس میں مَخْزنِ جودو سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انہیں ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تُو آگ کا طوق پہننا پسند کرتا ہے تو اس کمان کو لے لے۔ ‘‘                                      (سنن ابی داؤد،کتاب الاجارۃ ، باب فی کسب المعلم، الحدیث:  ۳۴۱۶،ص۱۴۷۸)

{27}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ اگر تُو چاہتا ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّآگ کی کمان تیرے گلے میں لٹکائے تو اُ سے لے لے ۔ ‘ ‘

 (حلیۃ الاولیاء، الحدیث:  ۷۹۰۹،ج۶،ص۸۹)

{28}…حضورنبی پاک صلّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو قرآنِ کریم کی تعلیم پر کمان لے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آگ کی کمان اس کے گلے میں لٹکائے گا۔ ‘‘  (سنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب الاجارۃ، باب من کرہ اخذالاجرۃ،الحدیث:  ۱۱۶۵۵،ج۶،ص۲۰۸)

{29}…سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے قرآن پڑھانے پر بدلہ لیا پس اس نے دنیا ہی میں اپنی نیکیوں کا بدلہ لینے میں جلدی کی اور قرآنِ پاک قیامت کے دن اس سے جھگڑے گا۔ ‘‘

 (حلیۃ الاولیاء، الحدیث: ۴۶۳۰،ج۴،ص۲۲، ’’ یحاججہ ‘‘ بدلہ ’’ یخاصمہ ‘‘ )

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کی ایک جماعت نے ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہر کو لیا اور تعلیمِ قرآن پر اُجرت کو حرام قرار دیا جبکہ اکثرعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے اُجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے کہ،

{30}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک جن چیزوں پر بدلہ لیا جاتا ہے ان میں سب سے زیادہ حقدار اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب ہے۔ ‘‘  ([1])

 (السنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب الاجارۃ ، باب اخذالاجرۃ علی تعلیم القرآن ، الحدیث:  ۱۱۶۷۶،ج۶،ص۲۰۵)

{31}…حضرت سیدنا عمیر بن ہانی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے :  ’’ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے قرآنِ کریم سن کر وہ اثر پاتے ہیں جو خلوت میں خود پڑھنے سے نہیں پاتے۔ ‘‘  تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بالکل ٹھیک ہے، میں باطنی طور پر پڑھتا ہوں جبکہ تم ظاہری طور پر پڑھتے ہو۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  باطن کیا ہے اور ظاہرکیا ہے؟ ‘‘  تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ میں پڑھتا ہوں اور غور وفکر کرتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرتا ہوں جبکہ تم اس طرح پڑھتے ہو   (یہ فرماکر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے ہاتھ سے رسی کو بَل (یعنی مروڑ)  دیا ہو۔ ‘‘

 (کنز العمال،کتاب الاذکار،فرع فی محظورات التلاوۃالخ،الحدیث: ۲۸۷۶،ج۱،ص۳۰۹،بتقدمٍ وتاخرٍ)

{32}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  قرآن پڑھنے والے تین طرح کے لوگ ہیں :   (۱) وہ جس نے اسے اُجرت کا ذریعہ بنایا  (۲) وہ جو منبر پر بیٹھ کر شیخی بگھارتا ہے یہاں تک کہ یہ بات اسے مزامیر سے زیادہ پسند ہوتی ہے پس وہ کہتا ہے :  ’’ خدا کی قسم!  نہ تو میں کلام میں غلطی کرتا ہوں اور نہ ہی میرا کوئی حرف عیب والا ہے پس یہ میری اُمت کا شریر ترین گروہ ہے اور  (۳) وہ جس کے پیٹ  (کے تقاضے)  نے اسے لباس پہنایا اور دل  (کی حرص) نے کھانا کھلایا لہٰذا اس نے اپنے دل کو ایک ایسا محراب بنا لیا کہ جس سے لوگ تو عافیت میں ہیں لیکن وہ خود مصیبت میں گرفتار ہے، ایسے لوگ  (مرتبہ کے لحاظ سے)  میری اُمت میں سرخ گندھک سے بھی کم ہیں ۔ ‘‘      (المرجع السابق ،الحدیث: ۲۸۷۷)

{33}…خاتَم ُالْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآن کو پڑھنے والے تین قسم کے ہوتے ہیں :   (۱) وہ جس نے قرآن پاک پڑھاپھر اس کو سامانِ تجارت بنا لیا اور اس کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا  (۲) وہ جس نے قرآن کو پڑھا اور اس کے حروف کوصحیح ادا کیا لیکن اس کے احکام پر عمل نہ کیا، اکثر قرآن پڑھنے والے ایسے ہی ہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کو زیادہ نہ کرے  (اٰمین) اور  (۲) وہ جس نے قرآن پڑھا پس قرآن کی دوا کو دل کی بیماری پر لگا لیا، قرآن کے ذریعے اپنی راتوں کو بیدار کیا اور اس کے ذریعے اپنے دن کو پیاسا کیا، انہوں نے اپنی سجدہ گاہوں میں قیام کیااور اس کی عزت کی، تو یہی وہ لوگ ہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جن کی برکت سے بلائیں ٹالتا ہے، دشمنوں سے بچاتا ہے اور آسمان کی بارش نازل فرماتا ہے، خدا کی قسم!  ایسے قُرَّآء سرخ گندھک سے بھی زیادہ عزت والے (یعنی قیمتی )  ہیں ۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی تعظیم القرآن،فصل فی ترک المباھاۃ بقراء ۃ ،الحدیث: ۲۶۲۱،ج۲،ص۵۳۱)

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

قضاء حاجت کا بیان

کبیرہ نمبر70:                            

گزر گاہوں پرپاخا نہ کرنا

 



[1] ۔۔۔۔ حضرت صدرالشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ  القوی فرماتے ہیں :’’طاعت وعبادت کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں مثلااذان کہنے کے لیے،امامت کے لیے،قرآن وفقہ کی تعلیم کے لیے،حج کے لئے یعنی اس لئے اجیرکیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے، متقدمین فقہاء کایہی مسلک تھامگرمتأ خرین نے دیکھاکہ دین کے کاموں میں سستی پیداہوگئی ہے اگراس اجارہ کی سب صورتوں کوناجائزکہاجائے تودین کے بہت سے کاموں میں خلل واقع ہوگا۔ انہوں نے اس کلیہ سے بعض امورکااستثناء فرمادیااوریہ فتویٰ دیاکہ تعلیم القرآن وفقہ اوراذان وامامت پراجارہ جائزہے کیونکہ ایسانہ کیاجائے توقرآن وفقہ کے پڑھانے والے طلب معیشت میں مشغول ہوکراس کام کوچھوڑدیں گے اورلوگ دین کی ب



Total Pages: 320

Go To