Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ان کومحض شبہ وغیرہ ہو تو یہ اگرچہ حقیقی کفر نہیں مگر دین میں عظیم نقصان اور ملحدین کے راستے پر چلنے کی وجہ سے اس کا گناہِ کبیرہ ہوناکچھ بعید نہیں ۔

                اورامیرالمومنین حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس شخص کو سزا دی تھی جس نے قرآن کریم کی بعض آیات  کے بارے میں پوچھ کر لوگوں کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ داخل کرنے کا ارادہ کیا اور آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس شخص کو مدینہ شریف  (زَادَھَااللّٰہُ شَرْفًاوَتَعْظِیْمًا) سے نکال دیا کیونکہ آپ کو اس بات کا ڈر تھا کہ ہر عیب سے پاک قرآنِ کریم کے بارے میں لوگوں کے  اعتقاد میں دراڑ نہ پڑے، وہ بعض آیات کریمہ یہ ہیں :

{۱}

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ (۵۰)   (پ۲۳، الصّٓفّٰت: ۵۰)

ترجمۂ کنز الایمان  : تو ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے۔

{۲}

فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَىٕذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ (۱۰۱)   (پ۱۸، المؤمنون: ۱۰۱)

ترجمۂ کنز الایمان  :  تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے۔

{۳}

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (۶۵)   (پ۲۳،یٰسٓ: ۶۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔

{۴}

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۲۴)   (پ۱۸، النور: ۲۴)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔

{۵}

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ (۳۵)   (پ۲۹،ا لمرسلات،۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے۔

                حاصل کلام یہ ہے کہ اس میں جھگڑنا یا تو کفر ہے یا دین میں بہت بڑا نقصان ہے لہذا اس برے عمل کاارتکاب کرنایا تو کفر ہو گا اور یا پھر کبیرہ گناہ، اس لئے جو میں نے بیان کیا و ہ صحیح اور جو میں نے لکھا وہ واضح ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی توفیق دینے والا ہے، پھر میں نے بعض کو دیکھا جنہوں نے قرآن پاک اوردین کے کسی معاملے میں جھگڑنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اور یہ میرے بیان کردہ کی تائید ہے۔

قرآن مجیدسے متعلق اہم اُمور پر متنبہ کرنے والی بعض احادیث

{14}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’ قرآن کو یاد رکھو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  یہ لوگوں کے سینوں سے اونٹوں کے رسیوں سے چھٹکار ا پا نے سے بھی تیز نکل جاتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری،کتاب فضائل القرآن، باب استذکار القرآن،الحدیث:  ۵۰۳۳،ج۳،ص۴۳۶)

{15}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ کریم کو پڑھتے اورسنتے رہو (یعنی تکرارکرتے رہو) کیونکہ یہ وحشی  (یعنی جنگلی درندوں کی طرح)  ہے اور یہ اونٹوں کے رسیوں سے رہائی پانے سے بھی تیز لوگوں کے سینوں سے نکل جاتا ہے۔ ‘‘    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۴۱۵،ج۱۰،ص۱۸۹،بلفظ ’’  ولھو اشد تفصیا الخ ‘‘ )

{16}…حضورِ نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ کریم کوپڑھتے اورسنتے رہواُس ذات کی قسم!  جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، یہ وطن سے دور اونٹوں سے بھی تیز لوگوں کے سینوں سے نکل جاتا ہے۔ ‘‘                    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۳۴۷،ج۱۰،ص۱۶۸،بدون ’’ فوالذی نفسی بیدہ ‘‘ )

{17}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے تین دن سے کم میں مکمل قرآن پڑھا اس نے سمجھانہیں ۔ ‘‘  یعنی کیونکہ اس وقت وہ اس کے مطالب میں غور وفکر نہیں کرے گا اور اس سے حاصل شدہ احکام پر عمل نہ کر سکے گا۔ (جامع الترمذی، ابواب القراء ا ت،باب فی کم أقرأ القرآن؟،الحدیث: ۲۹۴۹،ص۱۹۴۸)

{18}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ حکیم کو پاک ہونے کی حالت میں ہی چھوؤ۔ ‘‘                               (المعجم الکبیر،الحدیث: ۳۱۳۵،ج۳،ص۲۰۵)

{19}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآن پاک کو سوائے پاک شخص کے کوئی نہ چھوئے۔ ‘‘                  (کتاب المراسیل لأبی داؤد مع سنن ابی داؤد،باب ماجاء فی من نام عن الصلوٰۃ، ص۸ )

{20}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلا دی گئی۔ ‘‘  

 (صحیح مسلم،کتاب فضائل القرآن ، باب الامر بتعھد القرآن ، الحدیث: ۱۸۴۲،ص۸۰۲)  

{21}…نبی ٔ پاک،صاحب ِلولاک،سیاح اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کسی کے لئے یہ کہنا بہت بُرا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلا دی گئی۔ ‘‘