Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

الجدال فی القرآن کفر،الحدیث: ۲۹۳۸،ج۲،ص۵۹۶)

{3}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ پاک میں بے جا بحث کرنا کفر ہے۔ ‘‘                         (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ،باب النھی عن الجدال فی القرآن،الحدیث: ۴۶۰۳،ص۱۵۶۱)

{4}…حضرت سیدنا ابو سعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ قرآن میں جھگڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ ‘‘

{5}…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ پاک میں جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ تم سے پہلی اُمتوں پر اسی وقت لعنت کی گئی جب انہوں نے قرآنِ پاک میں اختلاف کیا، بے شک قرآنِ پاک میں جھگڑنا کفر ہے۔ ‘‘

 (مصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب فضائل القرآن ، باب من نھی عن التماری الخ،الحدیث: ۲،ج۷،ص۱۸۸،راویہ:  ’’ ابن عمرو ‘‘ )

{6}…سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآن میں نہ جھگڑو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔ ‘‘                                                                                          (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۹۱۶،ج۵،ص۱۵۲)

{7}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قرآنِ پاک کے معاملے میں آپس میں نہ جھگڑو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب کی بعض آیتوں سے دیگر آیتوں کو نہ جھٹلاؤ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  مؤمن قرآنِ پاک کے ذریعے جھگڑے گا تو غالب آجائے گا اور منافق قرآنِ پاک کے ذریعے جھگڑے گا تو مغلوب ہو جائے گا۔ ‘‘

 (کنز العمال،کتاب الاذکار،الحدیث: ۲۸۵۶،ج۱،ص۳۰۷ ’’ تکذِّبوا ‘‘ بدلہ ’’  تبدِّلوا ‘‘   ’’ فیغالب ‘‘ بدلہ ’’  فیطلب ‘‘ )

{8}…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ایسی قوم کے پاس تشریف لائے جو قرآنِ کریم میں جھگڑ رہی تھی، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے لوگو!  تم سے صدیوں پہلے کی اُمتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں ، بے شک قرآنِ کریم کی بعض آیتیں دیگر بعض آیتوں کی تصدیق کرتی ہیں لہٰذا بعض آیتوں کی وجہ سے دیگر بعض کو نہ جھٹلایا کرو۔ ‘‘   (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۳۷۸،ج۴،ص۱۰۹)

{9}…حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشادفرماتے ہیں کہ ہم نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درِاقدس پر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ ایک شخص ایک آیتِ کریمہ کے ذریعے نزاع کرتا تو دوسرا شخص دوسری آیت کے ذریعے۔ اتنے میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے گویا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ مبارک انار کے دانوں کی طرح سرخ تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے لوگو!  کیا تمہیں اسی لئے بھیجا گیا ہے ؟کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے نہ لگ جانا۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۸۴۷۰،ج۶،ص۱۹۲)

{10}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس قوم کو ہدایت دی گئی وہ اس وقت تک ہدایت کے راستے سے نہیں بھٹکی جب تک جھگڑنے نہ لگی پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

 مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًاط ( پ۲۵،الزخرف: ۵۸)

ترجمۂ کنز الایمان : انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو۔

 (صحیح البخاری، کتاب التفسیر،باب سھو ألدالخصام،الحدیث:  ۴۵۲۳،ص۳۷۱،بدون ’’ الذی یحج  فی صحۃ ‘‘ )

{11}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو لوگوں میں سب سے ناپسند وہ لوگ ہیں جو شدید جھگڑالو ہیں ۔ ‘‘

{12}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ حضرت عیسٰی (عَلَیْہِ السَّلَام)  نے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک اُمور تین قسم کے ہیں :   (۱) وہ جس کا صحیح ہونا تجھ پر ظاہر ہو گیا پس اس کی اِتباع کر  (۲) وہ جس کاغلط ہونا تجھ پر ظاہر ہو گیا پس اس سے بچ اور  (۳) وہ جس میں اختلاف ہو جائے پس اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دے۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد،کتاب العلم، باب الامور ثلاثۃ ، الحدیث:  ۷۱۲،ج۱،ص۳۹۰)

{13}…حضراتصحابہ کرام رضوان اللہ  تعالیٰ علیہم اجمعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ اللہ  کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم دین کے کسی معاملے میں جھگڑ رہے تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمشدید غضبناک ہو گئے اس کی مثل پہلے کبھی غضب ناک نہ ہوئے تھے، پھر ہمیں جھڑکا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اے اُمتِ محمد (صلَّیاللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) !  صبر سے کام لو، بے شک تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ  اس میں خیر کی کمی ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ مؤمن جھگڑتانہیں ، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ جھگڑنے والے کا خسارہ مکمل ہو چکا ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ گناہ ہونے کے لئے کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہے، جھگڑنا چھوڑدو کیونکہ میں بروزِ قیامت جھگڑنے والے کی شفاعت نہیں کروں گا، جھگڑنا چھوڑ دو تو میں جنت میں تین گھروں کا ضامن ہوں گا:  ایک نیچے، دوسرادرمیان میں اور تیسرا سب سے اوپر والا، جس نے جھگڑنا چھوڑ دیا وہ سچا ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ بتوں کی عبادت سے بچتے رہنے کے بعد مجھے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ  نے جس چیز سے سب سے پہلے بچنے کاحکم فرمایا وہ جھگڑنا ہے۔ ‘‘     (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۶۵۹،ج۸،ص۱۵۲)

ضروری وضاحت: