Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تنبیہات

تنبیہ1:

                بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی اتباع میں اسے کبیرہ گناہ قرار دیا گیا شاید انہوں نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر انہی  احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ وعیدوں سے استدلال کیا ہے کیونکہ پیٹ میں جہنم کی آگ بھرنا سخت عذاب کی وعید ہے پھر میں نے شیخ الاسلام صلاح الدین علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی وہی توجیہ بیان کرتے دیکھا جو میں نے بیان کی ہے البتہ انہوں نے وہ توجیہ اصحابِ مذہب سے نقل کی ہے، شیخ الاسلام جلال بلقینیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کی اتباع کی اور فرمایا کہ شیخ صلاح الدین علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ ہمارے اصحاب نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں پانی پینا گناہِ کبیرہ ہے اور اس پر گذشتہ قاعدہ صادق آتا ہے کہ ہر وہ گناہ جس پر جہنم کی وعید آئی ہو گناہِ کبیرہ ہے۔ ‘‘

                سیدنا دمیریرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے ایک جماعت سے نقل کر کے اپنے منظوم کلام میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَعَدَّ مِنْھُنَّ ذُوُوْا الْاَعْمَالِ                                اٰنِیَۃَ النَّقْدَیْنِ فِی اسْتِعْمَالِ

ترجمہ : اور باعمل لوگوں نے سونے،چاندی کے برتنوں کا استعمال بھی حرام اُمور میں شمار کیا ہے۔

                مگر سیدنا اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاوردیگر نے جمہورعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیسے نقل کیا ہے کہ یہ گناہ صغیرہ ہے۔

تنبیہ2:

                حدیثِ پاک میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت بطورِ مثال پیش کی گئی ہے، اسی لئے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان کے استعمال کے دیگر طریقوں کو بھی اس حکم کے ساتھ ملا دیا ہے اور سونے چاندی کے برتنوں کو جمع کرنا بھی اس کے ساتھ ملحق کر دیا ہے۔ لہذا یہ بھی حرام ہے کیونکہ انہیں جمع کرنا ان کے استعمال کی طرف لے جاتا ہے جیسے کھیل کود کے آلات کو جمع کرنا۔

 وہ برتن جن کے استعمال کی رخصت ہے:

            اِنَآئٌ (یعنی برتن)  سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عرف میں اس کام میں استعمال ہو جس کے لئے اسے بنایا گیا ہو، لہذا اس میں سرمہ ڈالنے والی سلائی، سرمہ دانی، خلال کرنے اورکان سے میل نکالنے والی سلائی وغیرہ بھی شامل ہے، البتہ اگر کسی کی آنکھ میں تکلیف ہو اور اسے عادل طبیب کہے کہ سونے یا چاندی کی سلائی سے سرمہ ڈالنا اس تکلیف کے لئے مفید ہے تو اس کے لئے ضرورت کی بناء پر اسے استعمال کرنا جائزہے۔

                 استعمال کی حرمت کے لئے برتن کا خالص سونے یا چاندی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر تانبے کے برتن پر سونے یا چاندی کا پانی اس طرح چڑھایا جائے کہ وہ اس کو چھپا دے، لیکن جب اسے آگ پر رکھا جائے تب اس کا اثر ظاہر ہو تو اس کا استعمال بھی حرام ہے، ([1])

  کیونکہ اس صورت میں وہ سونے چاندی کے برتنوں کے قائم مقام ہو گا۔

                اس کے حرام ہونے کی علت سونا، چاندی اور غرور و تکبر ہے، اسی لئے اگر سونے کے برتن پر تانبے کا پانی چڑھایا جائے یہاں تک کہ وہ تانبا اس پورے برتن کو گھیر لے تو اس کا استعمال جائز ہے، اگرچہ آگ پر رکھنے سے اس کا اثر ظاہر نہ ہو جیسا کہ اگر سونے کے برتن کو زنگ لگ گیا اور زنگ نے پورے برتن کو گھیر لیا تو اس کااستعمال جائز ہے۔کیونکہ اس صورت میں ایک علت نہ پائی گئی اور وہ غرور وتکبرہے۔

                قیمتی و نفیس برتنوں کا استعمال جائز ہے مثلاً یاقوت اور موتیوں کے برتن کیونکہ ان میں سونا چاندی نہیں اور اس میں تکبر کی وجود پر نظر نہیں کی جائے گی کیونکہ حرمت کے لئے صرف تکبر کافی نہیں ، اس لئے کہ یاقوت اور موتیوں کی پہچان صرف خواص کو ہوتی ہے، لہٰذا ان کے استعمال سے فقراء کی دل شکنی کا بھی اندیشہ نہیں کیونکہ جب وہ ایسے برتنوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی غالب اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی جبکہ سونے اور چاندی کے برتن کسی سے مخفی نہیں ہوتے لہٰذا اگر ان کا استعمال جائز ہوتا تو یہ ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا۔

 تنبیہ3:

                گذشتہ اشیاء کی حرمت کے معاملے میں مرد و عورت اور دیگر مُکلَّفین و غیرمُکلَّفین  (یعنی مسلمان ،کفار اور نابالغ)  میں کوئی فرق

نہیں یہاں تک کہ عورت پر اپنے بچے کو چاندی کی نسوار کی ڈبیا میں پانی پلانا بھی حرام ہے اورچاندی کاچھوٹا شگوفہ عرفاً زینت کی وجہ سے بیان کردہ اشیاء کے استعمال کی حرمت سے خارج ہے پس یہ کراہت کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ نبی اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برتن پر شگوفہ ہوتا تھا۔

                 شگوفہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے برتن کے سوراخ بند کئے جاتے ہیں جیسے وہ دھاگا جس کے ذریعے اس کا ٹوٹا ہوا حصہ باندھا جاتا ہے پھر اسے زینت کے لئے استعمال کیا جانے لگا اسی طرح شگوفے کا استعمال ضرورتاً جائز ہے لیکن اگر یہ بڑا

ہو تو مکروہ ہے۔

                میزاب رحمت سے گرنے والا پانی منہ یا ہاتھ پر مل کر استعمال کرناحرام نہیں کیونکہ عرف میں اس پانی کے ایسے استعمال کوحرام شمار نہیں کیا جاتا، نہ ہی سونے چاندی سے مزین ایسی چھت کے نیچے بیٹھنا حرام ہے جس سے سونا یا چاندی ظاہر نہ ہوتا ہو۔ ([2] )

سونے اور چاندی کے برتن کو استعمال کرنے کا حیلہ:

                اس کا طریقہ یہ ہے کہ سونے یا چاندی کے برتن میں جو چیز ہو اس کو بائیں ہاتھ پر انڈیل لیں یاپہلے کسی دوسرے برتن میں نکال لیں اس کے بعد دائیں ہاتھ سے اس چیز کو استعمال میں لایا جائے تو چونکہ اس طریقہ سے براہِ راست اس سونے چاندی کے برتن کا استعمال کرنا ثابت نہیں ہوتا لہذا عرف کا اعتبار کرتے ہوئے ایسا کرنا ممنوع بھی نہ ہو گا۔ اس حیلے سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ یہ اس حرمت کو روک دیتی ہے جو براہِ راست اس برتن کو استعما ل کرنے کی وجہ سے لازم آتی ہے۔

 

 



[1] ۔۔۔۔ احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک: ’’ٹو ٹے ہوئے برتن کو سونے یا چاندی کے تار سے جوڑنا جائزہے جبکہ اس جگہ سے استعمال نہ کیا جائے۔‘‘

(بہار شریعت،ج۲،حصہ ۱۶،ص۳۵)

[2] ۔۔۔۔ احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک: ’’مکان کو ریشم،چاندی اورسونے سے آراستہ کرنامثلاً دیواروں ، دروازوں پر ریشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرینہ سے سونے چاندی کے ظروف وآلات رکھنا جس سے مقصود محض نمائش و آرائش ہو تو کراہت ہے اور اگر تکبُّر وتفاخر سے ایسا کرتا ہے تو ناجائز ہے غالباً کراہت کی وجہ یہ ہو گی کہ ایسی چیزیں اگرچہ ابتدائًً تکبرسے نہ ہوں مگربالآخران سے تکبرپیداہوجایاکرتاہے۔‘‘ (بہار شریعت،ج۲،حصہ ۱۶،ص۴۳)



Total Pages: 320

Go To