Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

الکبیر،الحدیث: ۱۱۵۰۹،ج۱۱،ص۱۶۵)

{36}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب آپس میں محبت رکھنے والے دوبندے باہم ملاقات کرتے ہیں اورنبی کریم ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)  پر درودِ پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے گناہ معا ف کر دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘   (مسند ابی یعلٰی الموصلی،مسند انس بن مالک،الحدیث: ۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر61:                                                

دِل کاسخت ہوجانا

یعنی دل اتنا سخت ہو جائے کہ وہ کسی مجبور انسان کو کھانا تک کھلانے سے رُک جائے۔

{1}…امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے رحمدل لوگوں سے بھلائی طلب کرو، ان کے قریب رہا کرو اور سنگدل لوگوں سے بھلائی نہ مانگو کیونکہ ان پر لعنت اُترتی ہے۔اے علی!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے بھلائی کو پیدا فرمایا تو اس کے اہل  (یعنی افراد)  کو بھی پیدا فرمایا، پھر بھلائی کو ان کا محبوب کر دیا اور اس پر عمل کرنا انہیں محبوب بنا دیا نیز انہیں اس کی طلب میں یوں لگا دیا جیسے وہ پانی کو قحط زدہ زمین کی طرف پھیر دیتا ہے کہ اس پانی کے ذریعے وہاں والوں کو جِلا بخشے اور بے شک جو لوگ دنیا میں بھلائی والے ہوں گے وہی آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے۔ ‘‘   (المستدرک،کتاب الرقاق،باب اشقی الاشقیاء من اجمتعالخ،الحدیث:  ۷۹۷۸،ج۵،ص۴۵۸)

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے رحمدل لوگوں سے اپنی مرادیں مانگو، ان کے قریب رہا کرو کیونکہ میری رحمت انہیں میں ہے اور سنگدل لوگوں سے مرادیں نہ مانگو کیونکہ وہ میری ناراضگی کے منتظر ہیں ۔ ‘‘    (کنزالعمال،کتاب الزکاۃ،قسم الاقوال ،الحدیث:  ۱۶۸۰۲،ج۶،ص۲۲۰ ’’ الفضل  ‘‘ بدلہ ’’  الحوائج ‘‘ )

تنبیہ:

                اس کا کبیرہ گناہوں میں شمار ہونا دونوں حدیثوں میں صراحتًابیان کیا گیا ہے کیونکہ لعنت اور ناراضگی سخت وعید ہونے کی بناء پر کبیرہ گناہ کی علامتوں میں سے ہیں لیکن اس سنگدلی کو اس کیفیت پر محمول کرنا چاہئے جسے ہم نے عنوان میں ذکر کیا ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت یا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہیں پایا۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر63,62:                     

کبیرہ گناہ پر راضی ہونا

یا اس میں تعاون کرنا

                ان دونوں گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کا تذکرہ اس بحث میں آئے گا جہاں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اَمْر بِالْمَعْرُوْف اور نَہی عَنِ الْمُنْکَرترک کرنے کو کبیرہ کہا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر64:            

بدکاری وفحش گوئی کا عادی ہو جانا

یعنی کسی کا اس طرح اِن کا عادی ہو جانا کہ لوگ اس کے شرسے بچنے کے لئے اس سے ڈرنے لگیں ۔

{1}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔ ‘‘   (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب مدارۃ من یتقی فحشہ،الحدیث: ۶۵۹۶،ص۱۱۳)

{2}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حیا ء ایمان کاحصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا ہے جبکہ بے حیائی ظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جانے والا ہے۔ ‘‘

  (جامع الترمذی ، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الحیاء ،الحدیث:  ۲۰۰۹،ص۱۸۵۳)

{3}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک فحش گوئی اور بد اخلاقی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور لوگوں میں سب سے اچھا اسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۲۰۹۹۷،ج۷،ص۴۳۱)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر65:                                            

درہم ودینارتوڑنا

                 ( چونکہ دینارسونے اور درھم چاندی کے ہوتے تھے اور لوگ بلا ضرورت انہیں توڑ کر اپنے استعمال میں لے آتے لہٰذا ) بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کیا اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان سے استدلال کیا :

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ (۴۸)   (پ۱۹، النمل: ۴۸ )

 



Total Pages: 320

Go To