$header_html

Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

داخلہ اورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سیدنا جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کا اس کے لئے بارباررحمت سے دوری اور بربادی کی دعا کرنااورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایسے شخص کے لئے ذلت، اہانت اور بخل کے الفاظ استعمال کرنا بلکہ اسے سب سے بڑا بخیل کہنا وغیرہ یہ تمام سخت وعیدیں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذکر کے وقت درودِپاک نہ پڑھنے کے گناہِ کبیرہ ہونے کا تقاضا کرتی ہیں ۔

                مگر یہ اسی صورت پر صادق آتا ہے جس کا قائل مذاہب اربعہ میں سے ایک گروہ ہے کہ جب بھی نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ِخیر ہو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک پڑھنا واجب ہے، ان احادیثِ مبارکہ میں بھی صراحتًا یہی بیان کیا گیا ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ اس سے پہلے منعقد اجماع کے خلاف ہے کہ نماز کے علاوہ مطلقًا درودِ پاک پڑھنا واجب نہیں ، لہٰذا وجوب کے قول کی صورت میں یہ کہنا ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذکرِ خیر کے وقت درودِ پاک ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

                جمہورعلماء رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اس کا واجب نہ ہونا ان صحیح احادیث کی موجودگی میں اشکال پیدا کرتا ہے، مگر اسے ایسی صورت پر محمول کرنے سے یہ اشکال دور ہو جاتا ہے جس سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بے تعظیمی ظاہر ہوتی ہو مثلا ًکسی حرام کھیل میں مشغول ہونے کی وجہ سے درودِ پاک نہ پڑھنا ہی وہ اجتماعی صورت ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حق کی رعایت نہ کرنا پایا جاتا ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حق کو ہلکا جاننے کی وجہ سے اس صورت کو کبیرہ گناہ قرار دینا بعید نہیں اور اس وقت یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کلی طورپردرودِپاک واجب نہ ہونے کے بارے میں ان احادیثِ مبارکہ میں اور ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اقوال میں کوئی تعارض نہیں ،یہ بات خوب ذہن نشین کر لیں کیونکہ یہ نہایت اہم ہے اور میں نے کسی کواس بات کی تنبیہ یا اس کی جانب ہلکا سا اشارہ کرتے ہوئے بھی نہیں پایا۔

نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرودپاک پڑھنے کے فضائل

                میں نے درود وسلام کے بارے میں وارد تمام روایات اور ان کے متعلقات کو اپنی کتاب ’’ اَلدُّرُّالْمَنْضُوْدُ فِیْ فَضَآئِلِ الصّلٰوۃِ وَالسَّلَامِ عَلٰی صَاحِبِ الْمَقَامِ الْمَحْمُوْدِ ‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔

{12}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر10 رحمتیں نازل فرمائے گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ ،باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ  علیہ و سلَّم الخ،الحدیث: ۹۱۲،ص۷۴۳)

{13}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کے سامنے میرا ذکر ہو اسے چاہئے کہ ضرور مجھ پر درودِ پاک پڑھے۔مزیدارشاد فرمایا :  ’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر 10رحمتیں نازل فرمائے گا۔ ‘‘         (مسند ابی یعلی الموصلی، مسند انس بن مالک، الحدیث: ۳۹۸۹،ج۳،ص۳۷۲)      

{14}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر10رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے 10گناہ مٹا دے گا اور اس کے 10درجات بلند فرمائے گا۔ ‘‘

 (السنن الکبری للامام نسائی، کتاب صفۃ الصلوۃ ، باب ۸۹،الحدیث: ۱۲۲۰،ج۱،ص۳۸۵)

{15}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر10رحمتیں نازل فرمائے گا اور جو مجھ پر 10مرتبہ درودِ پاک بھیجے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر 100رحمتیں نازل فرمائے گا اور جو مجھ پر 100مرتبہ درودِ پاک بھیجے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دے گا کہ یہ بندہ نفاق اور دوزخ کی آگ سے بری ہے اور قیامت کے دن اسے شہداء کے ساتھ ٹھہرائے گا۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد،کتاب الادعیۃ،فی الصلوۃ علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمالخ،الحدیث: ۱۷۲۹۸،ج۱۰،ص۲۵۳)

{16}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھ سے عرض کی ،کیا میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خوشخبری نہ سناؤں ؟ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک پڑھے گا میں اس پر رحمت نازل فرماؤں گا اور جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل فرماؤں گا۔ ‘‘  تو مَیں یہ سن کر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو گیا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمدبن حنبل،حدیث عبدالرحمن بن عوف الزھری،الحدیث: ۶۴ / ۱۶۶۲،ج۱،ص۴۰۶ / ۴۰۷)

{17}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے میری اُمت کے بارے میں مجھ پر جو انعام فرمایا میں اس کے شکرانہ میں سجدہ ریز ہو گیا، وہ انعام یہ ہے کہ میرا جو اُمتی مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ‘‘     (مسند ابی یعلی الموصلی،مسند انس عبدالرحمن بن عوف،الحدیث: ۸۵۵،ج۱،ص۳۵۴)  

                ابن ابی عاصم نے یہ الفاظ زائد کئے ہیں کہ  ’’ اس کے 10گناہ مٹا دے گا، اس کے 10درجات بلند فرمائے گااور یہ درودِ پاک پڑھنا اس کے لئے 10غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا۔ ‘‘

{18}…سیِّدُ المبلّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میرا جو اُمتی اخلاص کے ساتھ مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر 10رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے 10درجات بلند فرمائے گا، اس کے لئے 10نیکیاں لکھے گا اور اس کے 10گناہ مٹا دے گا۔ ‘‘   (السنن الکبرٰی للنسائی،کتاب عمل الیوم والیلۃ،باب ثواب الصلاۃعلی النبی ،الحدیث: ۹۸۹۲ / ۵،ج۶،ص۲۱)

{19}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تم مؤذن کو اذان کہتے سنو تو اسی طرح کہو  (یعنی اذان کا جواب دو)  پھر مجھ پر درودِ پاک بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک بھیجے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر 10رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو، وسیلہ جنت میں ایک جگہ کا نام ہے اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں سے ایک ہی بندے کے شایانِ شان ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں ، لہٰذا جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کے لئے میری شفاعت ثابت ہو جائے گی (یعنی اسے میری شفاعت ضرورملے گی ) ۔ ‘‘

 (سنن النسائی،کتاب الآذان ،باب الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمالخ،الحدیث:

$footer_html