Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

روایت ہے۔

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ کبھی بے سوچے سمجھے ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ اس کے سبب جہنم میں مشرق ومغرب کے مابین فاصلے سے بھی زیادہ دور جا پڑتا ہے۔ ‘‘                    (صحیح مسلم، کتاب الزھد ، باب حفظ اللسان، الحدیث:  ۸۲۔۷۴۸۱،ص۱۱۹۵)

{2}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی کوئی بات کہتا ہے اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ بات اسے کہاں تک پہنچا دے گی، مگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت تک اس کے لئے اپنی رضا لکھ دیتا ہے اور آدمی اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ناراضگی کا ایسا کلمہ بولتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کلمہ اسے کہاں پہنچا دے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے قیامت تک کے لئے اپنی ناراضگی لکھ دیتاہے۔ ‘‘   (المسندللامام احمدبن حنبل، الحدیث:  ۱۵۸۵۲،ج۵،ص۳۷۵)

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ بات بادشاہوں اور امراء کے سامنے اس کلام کی طرح ہے جس سے یا تو عام بھلائی یا برائی حاصل ہوتی ہے۔

                اسی طرح کسی سنت کی مذمت یا بدعت کو رائج کرنے، حق کو باطل کرنے یا باطل کو حق ثابت کرنے، (ناحق)  خون بہانے یا شرمگاہ یا مال کو حلال ٹھہرانے، کسی کی بے عزتی کرنے، قطع رحمی کرنے یا مسلمانوں سے غداری کرنے یا میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کے لئے بولے جانے والے کلمات بھی اسی قبیل سے ہیں ۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر59:                            

مُحسِن کا احسان جھٹلانا

                بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے، مگر چونکہ یہ بعید ہے لہٰذا اس سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا انکار مراد لینا متعین ہو گیا کیونکہ وہی حقیقی مُحسِن ہے اور اسے ایسے محسن کے احسان جھٹلانے پر محمول کرنا بھی ممکن ہے جس کے حقوق کی رعایت کرنا واجب ہے جیسے شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا اور نسائی شریف کی حدیثِ مبارکہ سے اس پر استدلال ہوتا ہے

{1}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس عورت پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنے شوہر کا شکر ادا نہیں کرتی حالانکہ وہ اپنے شوہر سے بے نیاز بھی نہیں ۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب النکاح ، باب لاینظراللہ  الی امراۃ الخ،الحدیث:  ۲۸۲۵،ج۲،ص۵۴۸)

                شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں کے کثرت سے جہنم میں جانے کا سبب ان کے اپنے شوہروں کی نعمتوں سے انکار کو قرار دیا۔

{2}…اورارشاد فرمایا :  ’’ اگر شوہر اپنی کسی بیوی سے ساری عمر حسنِ سلوک سے پیش آئے پھر وہ شوہر میں کوئی عیب دیکھ لے تب بھی یہی کہتی ہے میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی۔ ‘‘

                بلاشبہ ان دونوں ا حادیث میں جو وعید بیان ہوئی وہ بہت ہی سخت ہے، لہٰذا شوہر کے احسان کو جھٹلانے کا کبیرہ گناہ ہونا ممکن ہے اور بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے احسان فراموشی کو مطلق رکھنے پر اس حدیثِ مبارکہ سے استدلال کیاہے کہ،

{3}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکرگزار نہیں ہو سکتا۔ ‘‘              (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی شکر المعروف، الحدیث:  ۴۸۱۱،ص۱۵۷۷)

شکریہ ادا کرنے کا طریقہ:

        شکریہ کسی چیز کا بدلہ دے کر یا تعریف یا دعا کر کے ادا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ترمذی شریف کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ،

{4}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جسے کوئی چیز عطا کی گئی اگر وہ استطاعت رکھے تو اس کا بدلہ دے، اگر استطاعت نہ ہو تو اس کی تعریف کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی۔ ‘‘          (جامع الترمذی،ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی المتشبعالخ،الحدیث: ۲۰۳۴،ص۱۸۵۵)

                مگر ان کا یہ استدلال ان کا مؤ ید نہیں بلکہ اسے ہماری بیان کردہ تفصیل ہی پر محمول کیا جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر: 60:           

نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاذ کرِمبارک

    سُن کر درودِ پاک نہ پڑھنا

{1}…حضرت سیدنا کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ منبر انور کے قریب آجاؤ۔ ‘‘  تو ہم منبر شریف کے قریب حاضر ہو گئے، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘ جب دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘  اور جب تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘  پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آج ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایسی بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی :  ’’ جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی وہ  (اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے)  دور ہو۔ ‘‘  تو میں نے کہا ’’ آمین ‘‘  جب میں نے دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی :  ’’ جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہوا اور اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود نہ پڑھا وہ بھی  ( رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  سے)  دور ہو۔ ‘‘ تو میں نے کہا ’’ آمین ‘‘  پھر جب میں نے تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی :  ’’ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھا پے میں پایا پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا تو وہ بھی  (اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے)  دور ہو۔ ‘‘  تو میں نے کہا ’’ آمین۔ ‘‘  

 (المستدرک، کتاب البروالصلۃ ، باب لعن اللہ  العاق لوالدیہالخ،الحدیث: ۷۳۳۸،ج۵،ص۲۱۳)

{2}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منبر ِانور پرقدم مبارک رنجہ فرمایا تو پہلے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت ارشاد فرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘  پھر جب دوسرے زینے کواپنے قدموں سے نوازا



Total Pages: 320

Go To