Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:  ’’ آدمی زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ (بنانے والا)  تو میں ہوں اور اس کے دن،رات میرے ہی قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لاتسبواالدھر،الحدیث: ۶۱۸۱،ص۵۲۱)

{2}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے کہ مَیں ہی اس (یعنی زمانہ ) کے دن،رات پھیرتا ہوں اور جب میں چاہتاہوں ان دونوں کو روک دیتا ہوں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب ا لالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث:  ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)

{3}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کوئی زمانے کوگالی نہ دے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی زمانہ  (بنانے والا)  ہے۔ ‘‘   (المرجع السابق، الحدیث:  ۵۸۶۷،ص۱۰۷۷)

{4}…حضور نبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ انگور کی بیل کو کَرْم نہ کہو   ([1])   اور نہ ہی یہ کہو کہ زمانے کا برا ہو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی زمانہ  (بنانے والا)  ہے۔ ‘‘    (صحیح البخاری،کتاب الادب، باب لاتسبوالدھر،الحدیث: ۶۱۸۲،ص۵۲۱)

{5}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ  ’’ انسان یہ کہہ کر مجھے ایذاء دیتا ہے :  ’’ اے زمانے ! تیرا برا ہو۔ ‘‘   لہٰذا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہا کرے کیونکہ میں ہی زمانہ  (بنانے والا)  ہوں اس کے دن رات میں ہی پھیرتا ہوں ۔ ‘‘  (صحیح مسلم، کتاب الالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث:  ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)

{6}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تم میں سے کوئی شخص زمانے کوبرا نہ کہا کرے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی زمانہ  (بنانے والا)  ہے۔ ‘‘   (المرجع السابق، الحدیث:  ۵۸۶۵)

{7}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:  ’’  میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا تو اس نے مجھے قرض نہ دیا اور میرابندہ بے خبری میں مجھے گالی دیتا ہے وہ کہتا ہے:   ’’ ہائے زمانہ!  ہائے زمانہ!   ‘‘ حالانکہ زمانہ (بنانے والا)  تو مَیں ہوں ۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرہ ،الحدیث:  ۷۹۹۴،ج۳،ص۱۶۱)

{8}…نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ زمانہ کو برا نہ کہا کرو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :   ’’ میں زمانہ (بنانے والا)  ہوں اس کے دن اور رات کو میں ہی تازہ کرتا ہوں اور میں ہی انہیں بوسیدہ کرتا ہوں اور میں ہی ایک بادشاہ کے بعد دوسرا بادشاہ لاتا ہوں ۔ ‘‘   (شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، فصل فی المزاح ، الحدیث:  ۵۲۳۷،ج۴،ص۳۱۶)

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہری مفہوم کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور خصوصًا اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے :  ’’ میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے زمانہ کو گالی دینے کو اپنی برائی قرار دیا یعنی ارشاد فرمایا:   ’’  زمانے کو برا کہنا دراصل اللہ  عَزَّ وَجَلَّکو برا کہنا ہے اور یہ کفر ہے اور جو چیز کفر کی طرف لے جانے والی ہو اس کا ادنیٰ مرتبہ گناہِ کبیرہ ہوتا ہے، مگر ہمارے شافعی ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا کلام اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ صرف مکروہ ہے نہ کہ حرام چہ جائیکہ کبیرہ گناہ ہو، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :  ’’ جوزمانے کو برا کہتے وقت زمانہ مراد لیتا ہے تو اس کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں اور جو اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے کفر میں کوئی کلام نہیں اور اگر وہ کوئی ارادہ کئے بغیر زمانہ کو برا کہتا ہے تو یہی صورت محلِ شک ہے کیونکہ اس میں کفر اور غیرکفر دونوں کا احتمال ہے ، ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا ظاہری کلام اس بارے میں بھی کراہیت ہی کا ہے کیونکہ زمانے کو برا کہنے سے جو بات فوراً سمجھی جاتی ہے وہ زمانہ ہی ہے اور اس لفظ کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّپراطلاق  کرنا جوازی ہے، اسی وجہ سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس حدیثِ مبارکہ کا یہ معنی بتایا ہے کہ عربوں پر جب کوئی آفت نازل ہوتی یا مصیبت آتی تو وہ یہ اعتقاد کرتے ہوئے زمانے کو برا کہتے :  ’’ انہیں یہ مصیبت زمانے کی وجہ سے پہنچی ہے۔ ‘‘  جیسا کہ وہ ستاروں سے بارش مانگتے اور کہتے :  ’’ ہمیں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش حاصل ہوئی۔ ‘‘  اور یہی اعتقاد رکھتے :  ’’ اس کے فاعل وہی ستارے ہیں ۔ ‘‘  اور یہ اعتقاد فاعلِ حقیقی پر لعنت کرنے کی طرح ہے، اور چونکہ ہر چیز کا فاعل اورخالق اللہ  عَزَّ وَجَلَّہی ہے اس لئے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا۔

                پھرمیں نے بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو یہ کہتے دیکھا :  ’’ نازل ہونے والی آفت میں زمانے کی تاثیر کا اعتقاد رکھ کر زمانے کو برا کہنا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  اور پیچھے جو بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسا اعتقا د کفرہے حالانکہ اس میں کوئی کلام نہیں اس بناء پر یہ بات محلِ نظر ہے۔

                علامہ ابن داؤد نے محدثین کی اس روایت کا انکار کیا ہے کہ جس میں اَنَا الدَّھْرُکے الفا ظ  (یعنی’ ’را ‘‘  پرپیش کے ساتھ)  مروی ہیں ، وہ کہتے ہیں :  ’’ اگر ایسا ہوتا تو دَھْر،اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ناموں میں سے ایک نام ہوتا۔ ‘‘   لہٰذا وہ جو روایت بیان کرتے ہیں اس میں اَنَا الدَّھْرَ (یعنی ’’  را ‘‘  پر زبر)  ہے اور اس کا معنی یہ ہے :  ’’ میں ہی زمانے کے دن رات کو بدلتا ہوں ۔ ‘‘  اس صورت میں الدھر،اقلب کی ظرف ہے، بعض دیگر افراد نے بھی ان کی پیروی کی اور را کی زبر کو راجح قرار دیا، مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ روایت کہ  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّہی دہرہے۔ ‘‘  ان کے گمان کو باطل کر رہی ہے، اسی لئے جمہورکا مؤقف یہی ہے کہ را پر پیش ہے اور ابن داؤد کے گمان سے ہمارے مؤقِّف پر یہ اعتراض لازم نہیں آتا کہ دَھْراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ناموں میں سے ایک نام ہونا چاہئے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پردَھْرکا لفظ جوازاً بولا جاتا ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمان عالیشان میں مؤثرکو اثرکی تعظیم اوراس کی برائی سے روکنے میں شدت پیدا کرتے ہوئے عین اثربنا دیا ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر58 :  

لاپرواہی میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ناراضگی کی بات کہنا

                بعض متاخرین کے خیال کے مطابق اسے گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے اوراس میں پائے جانے والے مفاسد عظیمہ اور ظاہری نقصان کی بناء پر یہ بعید بھی نہیں ، اس کی دلیل بخاری ومسلم شریف کی یہ



[1] ۔۔۔۔ حکیم الا ُمت مفتی احمدیارخ



Total Pages: 320

Go To