Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنز الایمان : اس کے ساتھی نے اس سے الٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیاکیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا۔ لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ  ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں ۔ اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ  ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ  کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال واولاد میں کم دیکھتا تھا۔ تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفیدزمین)  ہو کر رہ جائے۔

{۵}

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا (۴۱) وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا (۴۲)               (پ۱۵، الکھف: ۴۱۔۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان : یا اس کا پانی زمین میں د ھنس جائے پھر تو اسے ہر گز تلاش نہ کر سکے۔ اور اس کے پھل گھیر لئے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں  (اوندھے منہ )  پر گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے اے کاش میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔

{۶}

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ (۴۳) هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّؕ-هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ (۴۴) وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا (۴۵)   (پ۱۵،الکھف: ۴۳تا۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ  کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا۔ یہاں کھلتا ہے کہ اختیار سچے اللہ  کا ہے اس کاثواب سب سے بہتراور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا۔ اوران کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتاراتو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا کہ سوکھی گھاس ہو گیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ  ہر چیز پر قابو والا ہے۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م کے عظیم المرتبت ہونے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوان کی رعایت پر راغب کرنے کے لئے یہ فرمایا تھا، اسی لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفقراء کو عزت سے نوازتے اور اہلِ صفہ کی خاص عزت افزائی فرماتے۔

                اہلِ صفہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہجرت کرنے والے وہ مہاجر فقراء تھے جو مسجد نبوی شریف کے چبوترے میں رہائش پذیر تھے، ہر مہاجرآکر ان کے ساتھ شا مل ہوجاتا یہا ں تک کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔ یہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م سخت تنگدستی کے باوجود بہت صابر تھے، مگر انہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ انعامات کے مشاہدے نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان کے دلوں سے اغیار کے ہر تعلق کو مٹا دیا تھا اور  انہیں نیکیوں میں سبقت اور فضیلت والے احوال ومقامات کی راہ دکھا دی تھی، اسی وجہ سے یہ حضرات اس بات کے حقدار ہو گئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ انہیں اپنے در سے دور نہ کرے اور اپنے محبوب بندوں کے سامنے ان کی مدح کا اعلان کرے کیونکہ مساجد ان کا ٹھکانا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کا مطلوب اورمولیٰ، بھوک ان کی غذا، رات میں جب لوگ سو جائیں تو شب بیدا ری کرنا ان کی ترکاری  (یعنی سالن)  اور فقر وفاقہ ان کا شعار اورغربت وحیا ان کی پونجی تھی، ان کا فقر وہ عام فقر نہ تھا جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا مطلق محتا ج ہونا ہے کیونکہ یہ تو ہر مخلوق کی صفت ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان میں بھی یہی فقر مراد ہے :

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-  (پ۲۲، فاطر: ۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان :  اے لوگو! تم سب اللہ  کے محتاج۔

                بلکہ ان کا فقر وہ خاص فقر تھا جو اولیاء اللہ  اور مقربینِ بارگاۂ اَیزدِی کا شعار ہے اوروہ یہ ہے کہ دل کا غیر کے تعلق سے خالی ہونا اور تمام حرکات وسکنات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے مشاہدے سے نفع اٹھانا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّہمیں ان کی محبت کے حقائق سے سرفراز فرما کر ان کے گروہ میں اٹھائے۔ ‘‘  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح کی ہے اور یہ اس سخت تر وعید سے بالکل ظاہر ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی محاربت یعنی جنگ کو صرف سود کھانے اور اولیاء کرام سے عداوت رکھنے کے معاملے میں ذکر فرمایا ہے اور جس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ محاربت فرمائے وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا بلکہ ضروری ہے کہ اس کی موت کفر پر ہو (اَلْعِیَاذُبِاللّٰہ)  اللہ  عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے فضل وکرم سے اس گناہ سے عا فیت عطا فرمائے۔ ‘‘

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                میں نے علامہ زرکشی کو دیکھا کہ انہوں نے الخادم میں مذکورہ حدیثِ پاک ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :  ’’ اس شدید وعید میں غور کرنے کے بعد اس سے ملی ہوئی سود کھانے پر وارد وعید پر بھی غور کر لو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-  (پ۳، البقرۃ: ۲۷۹)

ترجمۂ کنز الایمان : پھراگرایسا نہ کروتویقین کرلواللہ  اور اللہ  کے رسول سے لڑائی کا۔

                احناف کے ’’ فتاوی بدیعی ‘‘  میں ہے :  ’’ جس نے کسی عالم کے حقوق کو ہلکا جانا (بطورِعلم)  اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اس کے اس عمل نے گویا اسے مرتد کر دیا۔ ‘‘  

                امام حافظ ابن عساکررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اے میرے بھائی !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّہم دونوں کو توفیق بخشے اور بھلائی کے راستے پر چلائے، جان لے کہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے گوشت زہر آلود ہیں اور ان کی عزت دری (یعنی توہین) کے معاملہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی عادت معلوم ہے کہ جو علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو ملامت کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے موت سے پہلے ہی مردہ دلی میں مبتلا کر دے گا:

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳)   (پ۱۸، النور: ۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان : توڈریں وہ جورسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پردرد ناک عذاب پڑے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر57:                 

گردشِ اَیَّام کے سبب زمانے کو برا کہنا

 



Total Pages: 320

Go To