Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

نور کے منبر ہوں گے اور انبیاء وشہداء کرام بھی ان پر رشک کریں گے۔ ‘‘             (جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی الحب فی اللہ  ،الحدیث: ۲۳۹۰،ص۱۸۹۲)

{14}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا کہ  ’’ میرے لئے آپس میں محبت کرنے والوں ، میرے لئے آپس میں تعلق رکھنے والوں ، میرے لئے ایک دوسرے سے ملنے والوں ،میری راہ میں خرچ کرنے والوں اور میرے لئے آ پس میں دوستی کرنے والوں کے لئے میری محبت ثابت ہو گئی۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، الحدیث:  ۲۲۰۶۳،ج۸،ص۲۳۲)

{15}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے آپس میں محبت کرنے والے اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا، انبیاء ُ وشہدائِ کرام ان کے مرتبہ پر رشک کریں گے۔ ‘‘   (یعنی ان سے خو ش ہوں گے۔)                    (المرجع السابق، الحدیث:  ۲۲۸۴۶،ج۸،ص۴۲۱)

{16}…نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ مہمان بیٹھے ہوں گے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عرش کی دونوں جانبیں دا  ہنی ہی ہیں ، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، ان کے چہرے نوربار ہوں گے، وہ نہ تو انبیاء ہوں گے، نہ شہدا ء اور نہ ہی صدیقین ۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ کون لوگ ہوں گے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی عظمت کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے۔ ‘‘      (مجمع الزوائد، کتاب الزھد،باب المحابین فی اللہ  ،الحدیث:  ۱۷۹۹۹،ج۱۰،ص۴۹۱)

{17}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہدائ، بلکہ انبیاء وشہدا ء بھی ان پر رشک کریں گے۔ ‘‘  عرض کی گئی کہ ہمیں بتائیے:  ’’ وہ کون ہیں ؟تاکہ ہم ان سے محبت کرنے لگیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو رشتہ داری اور کسی تعلق کے بغیر صرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے نور کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہوں گے، ان کے چہرے نور کے ہوں گے، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، جب لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہ ہو گا اور جب لوگ غمزدہ ہوں گے تو انہیں کچھ غم نہ ہوگا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی :

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ (۶۲)   (پ۱۱، یونس: ۶۲)

ترجمۂ کنز الایمان : سن لوبے شک اللہ  کے ولیوں پرنہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔

 (صحیح ابن حبان، کتاب الصحۃ والمجالسۃ ،باب ذکر وصف المتحابین فی اللہ  الخ، الحدیث:  ۵۷۲،ج۱،ص۳۹۰)

{18}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن ایک ایسی قوم کو ضرور اٹھائے گا جن کے چہرے نورانی ہوں گے، وہ موتیوں کے منبروں پر ہوں گے، لوگ ان پر رشک کریں گے، وہ نہ تو انبیاء ہوں گے،نہ ہی شہدائ۔ ‘‘  تو ایک اعرابی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی   اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہمیں ان کے اوصاف بیان فرمائیے تا کہ ہم انہیں پہچان سکیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ وہ مختلف قبیلوں اور شہروں سے تعلق رکھتے ہوں گے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے آپس میں محبت کرتے ہوں گے،اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوں گے اوراُس کا ذکر کریں گے۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد، کتاب الاذکار،باب ماجاء فی مجالس الذکر ،الحدیث: ۱۶۷۷۰،ج۱۰،ص۷۷)

{19}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ وہ مختلف شہروں اور قبیلوں سے تعلق رکھتے ہوں گے، ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہو گی، وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے آپس میں محبت اور دوستی رکھتے ہوں گے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن نور کے منبر بچھا کر انہیں ان پر بٹھائے گا، ان کے چہرے نوربار اور کپڑے نورکے ہوں گے، قیامت کے دن لوگ گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے مگر وہ نہ گھبرائیں گے، وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اولیاء ہیں جن پر نہ تو کوئی خوف ہو گا، نہ ہی کچھ غم۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث:  ۲۲۹۶۹،ج۸،ص۴۵۰)

{20}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی :  ’’ قیامت کب قائم ہو گی؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے دریافت فرمایا :  ’’ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ ‘‘  تو اس نے عرض کی ! تیاری تو کچھ نہیں کی، مگر میں اللّٰہ اور اس کے رسول عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تم جس سے محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔ ‘‘ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں کسی چیز سے اتنی خوشی حاصل نہیں ہوئی جتنی خوشی شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان سے ہوئی :  ’’ تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔ ‘‘  حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں میں سیدعالم،نورمجسّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، حضرت سیدنا ابوبکر اور حضرت سیدنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے میں انہیں کے ساتھ ہوں گا۔ ‘‘  

  (صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب عمر بن خطابالخ، الحدیث:  ۳۶۸۸،ص۳۰۰)

{21}…ایک شخص نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر (تقوی وعمل میں )  اس کے برابر نہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہو گا۔ ‘‘      (المرجع السابق،کتاب الادب، باب علامۃ الحبِّ فی اللّٰہ ،الحدیث:  ۶۱۶۹،ص۵۲۰)

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر56:    

اولیاء اللہ  کو ایذاء دینا اور ان سے عداوت رکھنا

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

{۱}



Total Pages: 320

Go To