Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

  اورنیک لوگوں سے بغض رکھنا

{1}…امیرا لمؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تین باتیں بالکل حق ہیں :   (۱) جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے ان لوگوں کی طرح نہیں کرے گا جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں  (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّجس بندے کی ذمہ داری لے لیتاہے اسے غیرکے سپردنہیں کرتا اور  (۳) جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اس کا حشراسی کے ساتھ ہو گا۔ ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۶۴۵۰،ج۵،ص۱۹)

{2}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین باتوں پرمیں قسم اٹھاتا ہوں  (۱) جس کا اسلام میں حصہ ہو گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے ان لوگوں کی طرح نہ کرے گا جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور اسلام کے تین حصے ہیں روزہ، نماز اورزکوٰۃ  (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّدنیا میں جس بندے کی ذمہ داری لے لیتا ہے قیامت کے دن اسے غیر کے سپرد نہیں کرے گا اور  (۳) جو شخص جس قوم سے محبت کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے اُسی میں شامل کر دے گا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشہ،الحدیث:  ۲۵۱۷۵،ج۹،ص۴۷۸)

{3}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ شرک اندھیری رات میں چیونٹی کے کسی چٹان پر رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے اور اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ کسی چیز پر ظلم کو پسند کرے اور کسی چیز پر عدل سے بغض رکھے، اوردین کیاہے ؟یہی کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محبت کرنا اوراس کے لئے بغض رکھنا۔ ‘‘

 اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ  (پ ۳، ال عمران: ۳۱)

 ترجمۂ کنز الایمان : اے محبوب تم فرمادوکہ لوگواگرتم اللہ  کودوست رکھتے ہوتومیرے فرمانبردارہوجاؤاللہ  تمہیں دوست رکھے گا۔

 (المستدرک،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحصینالخ، الحدیث:  ۳۲۰۲،ج۳،ص۷)

{4}…حضورنبی کریم ،رء ُوف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کے علاوہ کسی سے دوستی نہ کرو اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔ ‘‘  (جامع الترمذی، ابواب الزہد،باب ماجاء فی صحبۃ المومن،  الحدیث:  ۲۳۹۵،ص۱۸۹۲)

تنبیہ:

                ان دونوں کو گذشتہ اور آئندہ آنے والی صحیح احادیث کے تقاضا کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔

{5}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ محبت کرے گا اگرچہ ان جیسے عمل نہ بھی کرے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن نضر، الحدیث: ۱۳۸۲۹،ج۴،ص۵۳۳،ملخصاً)

                اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بات تو لازم ہے کہ اس نے فاسق سے اس کے فسق کی وجہ سے محبت کی اور صالحین سے ان کی نیکی کی وجہ سے بغض رکھا، لہٰذا یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جس طرح فسق کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اس سے محبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، صالحین سے بغض رکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ ان بدکاروں سے محبت اورنیکوکاروں سے بغض رکھنا اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دینے پر دلالت کرتا ہے اور اسلام سے بغض رکھنا کفر ہے، لہٰذا مناسب بھی یہی ہے کہ اس کی طرف رسائی کے ذرائع بھی کبیرہ گناہ ہوں ۔

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے باہم محبت کرنے والوں کے متعلق احادیث کریمہ:

{6}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تین خصلتیں ایسی ہیں جس میں ہوں گی وہ ان کے سبب ایمان کی حلاوت پالے گا:   (۱) جس کے نزدیک اللہ  عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدوسروں سے زیادہ محبوب ہوں  (۲) جو کسی بندے سے محبت کرے اور اس کی محبت صرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہو اور  (۳) وہ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اسے کفرسے نکالنے کے بعد کفر میں لوٹنے کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘

  (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان خضال من اتصفالخ، الحدیث:  ۱۶۵،ص۶۸۸)

{7}…ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’  بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے کسی سے محبت کرے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے بغض رکھے۔ ‘‘                    (سنن النسائی، کتاب الایمان، وشرائعہ، با ب طعم الایمان، الحدیث: ۴۹۹۰،ص۲۴۰۹بدون ’’ المرئ ‘‘ )

{8}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا:  ’’ میرے جلال کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے کہاں ہیں ؟آج جبکہ میرے عرش کے سوا کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا۔ ‘‘  (صحیح مسلم، کتاب البر الخ، باب فضل الحب فی اللہ  تعالیٰ ، الحدیث:  ۶۵۴۸،ص۱۱۲۷)

{9}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک آدمی کے ایمان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرے، اس کی محبت کسی مال کے عطیہ کرنے کی وجہ سے نہ ہو تو یہی ایمان ہے۔ ‘‘                              (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۷۲۱۴،ج۵،ص۲۴۵)

{10}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب دو دوست اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتے ہیں تو ان میں سے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب البروالصلۃ،باب اذا احب احدکمالخ،الحدیث: ۷۴۰۳،ج۵،ص۲۳۹،احبہمابدلہ ’’ افضلہما ‘‘ )