Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ سرکار دوعالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے لغو کام سے کیوں نہ روکااس لئے کہ ہم نے  اس کی طرف یوں اشارہ کر دیا ہے کہ وہ واقع کے اعتبار سے لغو تھی مگر اس کے گمان میں لغو نہ تھی کیونکہ اس نے گمان کیا تھا کہ اس طرح اس پر بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی پس اس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے درمیان یہ بات متعارف تھی کہ اکٹھی تین طلاقیں دیناحرام نہیں وگرنہ نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے ایسا کرنے سے ضرور منع فرماتے ۔

                یہ سب بیان کرنے کا مقصد اصل میں احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا مکلف بنانا ہے، ان ساری چیزوں کو عقود اس وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے حکم کو حتمی اور پختہ قرار دیا ہے لہٰذا ان سے کسی بھی صورت میں چھٹکارا ممکن نہیں ۔ ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ ایسے عقود ہیں جو عام طور پر لوگوں کے درمیان طے پاتے رہتے ہیں ۔

        وہ روایات جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عہدوں کو پورا کرنا چاہئے اور انہیں پورا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے وہ درج ذیل ہیں :

{2}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس شخص میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک علامت پائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اور وہ خصلتیں یہ ہیں :   (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے  (۲) جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے  (۳) جب عہد کرے تو دھوکا دے اور  (۴) جب کسی سے جھگڑے تو گالی گلوچ بکے ۔ ‘‘   (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق،الحدیث:  ۳۴،ص۵)

{3}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن ہر خائن  (کی پہچان)  کے لئے ایک جھنڈا ہو گا، کہا جائے گا یہ فلاں کی خیانت ہے۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب تحریم الغدر، الحدیث: ۴۵۳۳،ص۹۸۶)

{4}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں قیامت کے دن تین افراد کامقابل ہوں گا:   (۱) وہ شخص جس کو میری خاطر کچھ دیا گیا ہو لیکن وہ اس میں خیانت کرے  (۲) وہ شخص جو کسی آزاد انسان کو بیچ دے اور پھر اس کی قیمت کھالے  (۳) وہ شخص جس نے کوئی مزدور اُجرت پر لیا اور پھر اس سے کام تو پورا لیا لیکن اس کی اُجرت اسے نہ دی۔ ‘‘                          (صحیح البخاری، کتاب البیوع،باب اثم من باع حراً،الحدیث:  ۲۲۲۷،ص۱۷۳)

{5}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت چھوڑدی وہ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس  (عذاب سے بچنے کی)  کوئی حجت نہ ہو گی، اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت کا پٹہ نہ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمینالخ،الحدیث:  ۴۷۹۳،ص۱۰۱۰)

تنبیہ:

                عہد شکنی کو کبیرہ گناہ شمار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو کئی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، البتہ ان میں سے بعض نے اس کو عہد شکنی اور بعض نے وعدہ خلافی کا نام دیا۔

سوال: دونوں اقوال یا تو آپس میں ایک جیسے ہوں گے یا پھر ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے، اس بناء پر ہر ایک کو کبیرہ شمار کرنا مشکل ہے کیونکہ شافعی مذہب میں وعدہ پورا کرنا مستحب ہے واجب نہیں ، جب کہ عہد پورا کرنے کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے  واجب قرار دیا اور وعدہ خلافی کو حرام قرار دیا، لہٰذا جو چیز مستحب ہو اس کی مخالفت کرنا تو جائز ہوتا ہے لیکن جو چیز واجب یا حرام ہو اس کی مخالفت کبھی تو کبیرہ ہوتی ہے اور کبھی صغیرہ، تو پھر مطلقاً وعدہ پورا نہ کرنے کو کیسے کبیرہ گناہ کہا جا سکتا ہے؟

جواب:  اگر تو وعدہ پورا نہ کرنے سے مراد یہ ہو کہ سرے سے پورا ہی نہ کیا جائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اور اس لحاظ سے اسے ایک الگ مستقل کبیرہ گناہ شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسے دوسرے کبیرہ گناہوں میں سے کسی کے ضمن میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

                وہ افراد جنہوں نے اسے عہدشکنی کا نام دیا ہے ان کے نزدیک نذر وغیرہ کو پورا کرنا واجب ہو گا اور اس کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ نذر کو پورا کرنا شرع نے واجب قرار دیا ہے اور اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج یا روزے کو ترک کر دینا بھی کبیرہ  گناہ ہے اس کا بیان (ان شاء اللہ  عَزَّ وَجَلَّ )  آئندہ آئے گا۔

                 وہ افراد جو کہتے ہیں کہ یہ وعدہ خلافی ہے تو ان کے اس قول کو کسی مخصوص چیز پر محمول کیا جائے گا کہ جو وضاحت کے بغیر معلوم نہ ہو سکتی ہو، مثلاً کوئی شخص ایک امام کی بیعت کرے پھر بغیر کسی وجہ کے اس کے خلاف لڑنے کی خاطر نکل کھڑا ہو تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔

{6}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ تین افراد ایسے ہیں جن سے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔ ‘‘ اس حدیث پاک میں آگے چل کر ارشاد فرمایا :  ’’  وہ شخص جو کسی امام کی بیعت دنیا کی خاطر کرے یعنی اگر وہ اسے اس کی خواہش کے مطابق دے تو اس سے وفا کرے اور اگر کچھ نہ دے تو بے وفائی کرے۔ ‘‘   (صحیح مسلم،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازارالخ،الحدیث:  ۲۹۷،ص۶۹۶)

                جبکہ بخاری شریف کی روا یت میں یہ الفاظ ہیں :  ’’ وہ شخص جس کو میری خاطر کچھ دیا گیا ہو لیکن وہ اس میں خیانت کرے ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب البیوع،باب اثم من باع حراً،الحدیث:  ۲۲۲۷،ص۱۷۳)

                اور مسلم شریف کی روا یت کے الفاظ یہ ہیں :  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت ترک کردی ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمینالخ،الحدیث:  ۴۷۹۳،ص۱۰۱۰)

{7}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو یہ پسند کرتا ہے کہ وہ جہنم سے دور ہو جائے اور جنت میں داخل ہوجائے تو اسے چاہئے کہ جنت کا مقصود بھی پورا کرے یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّاور قیامت کے دن پر ایمان لائے، اوراس پرلازم ہے کہ جومعاملہ اپنے لئے پسند کرتاہووہی دوسروں کے ساتھ کرے اورجو شخص ہاتھ پرہاتھ رکھ کردل  کی گہرائیوں سے کسی امام کی بیعت کرلے تو اب اسے چاہئے کہ بقدرِ استطاعت اس کی پیروی کرے اور اگر اس کے پاس اس کا کوئی مخالف آئے تو اس کی گردن تن سے جدا کر دے۔ ‘‘   (المرجع السابق،باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃالخ، الحدیث:  ۴۷۷۶،ص۱۰۰۹)

{8}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی حربی کو امان دی پھر اس کے ساتھ دھوکا کیا اور اسے قتل کر دیا تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر54 ،55:    

ظالموں اورفاسقوں سے محبت کرنا

 



Total Pages: 320

Go To