Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                تقدیر کے انکار کے گناہِ کبیرہ ہونے کی بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے صراحت کی ہے، اسی لئے اسے کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے اور میں نے جو احادیثِ مبارکہ اس باب میں بیان کی ہیں وہ اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر دلیل ہیں ، تقدیر کو جھٹلانا اگرچہ ترکِ سنت میں داخل ہے جو کہ بذاتِ خود ایک کبیرہ گناہ ہے مگر اس کی حرمت کے سخت ہونے اور اہل سنت اور دیگر فرقوں میں تقدیر کے مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف کی وجہ سے اسے علیحدہ ذکر کیا گیا کیونکہ افعال کے مخلوق ہونے کا مسئلہ علمِ کلام کے نہایت اہم مسائل میں سے ہے۔

                معتزلہ کے وہ دلائل جن کی بناء پر انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّپر افترأ باندھا اور سابقہ صریح آیات اور مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ماقبل میں بیان کردہ احادیث سے منہ موڑا ان میں سے ایک دلیل اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان ہے :

وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَؕ-قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا (۷۸) مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ  اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ-وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا (۷۹)   (پ ۵، النسآء: ۷۸۔ ۷۹)  

 ترجمہ کنزالایمان: اور انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو کہیں یہ اللہ  کی طرف سے ہے اور انہیں کو ئی برائی پہنچے تو کہیں یہ حضور کی طرف سے آئی تم فرما دو سب اللہ  کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ  کی طرف سے ہے اور جوبرائی پہنچے وہ تیر ی اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسو ل بھیجا اور اللہ  کافی ہے گواہ ۔

ابوعلی جبائی کا غلط استدلال:

                گمراہی میں معتزلہ کا امام ابو علی جبائی کہتاہے :  ’’ یہ بات تو ثابت ہے کہسَیِّئَۃٌکا لفظ کبھی مصیبت اور بخشش پر بولا جاتا ہے اور کبھی گناہ و معصیت پر، پھر یہ کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سَیِّئَۃٌکی اضافت پہلے اپنی جانب فرمائی پھر دوسری مرتبہ بندے کی طرف، لہٰذا ان دونوں میں تطبیق ضروری ہے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ جب پہلے معنی کے اعتبار سے سَیِّئَۃٌ  کا لفظ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف مضاف ہے تو دوسرے معنی کے اعتبار سے اسے بندے کی طرف مضاف کرنا واجب ہے تا کہ دو متصل آیتوں میں پیدا ہونے والا تناقض زائل ہو جائے۔ جبکہ ہمارے مخالفین نے اپنے آپ کو آیت میں تبدیلی کرنے پر آمادہ کر لیا اور فَمِنْ نَفْسِکَ کو اَفَمِنْ نَفْسِکَ پڑھا یعنی اس میں استفہام کا معنی پیدا کیا اور قرآن میں تبدیلی کر کے قرآن میں دو معنی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے رَوافِضکا طریقہ اختیار کیا۔

            اگر یہ کہا جائے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حَسَنَۃٌ کو اپنی طرف منسوب کیاجو کہ اطاعت ہے اورسَیِّئَۃٌ کو اپنی جانب منسوب نہ کیا، حالانکہ یہ دونوں تمہارے نزدیک بندے کے فعل ہیں  (تو اس کا جواب یہ ہے کہ ) حَسَنَۃٌیعنی نیکی اگرچہ بندے ہی کا فعل ہے مگر وہ اس تک اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فضل ہی سے پہنچتا ہے ،لہٰذا اس کی اضافت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف درست ہے جبکہ سَیِّئَۃٌ  کی اضافت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے برائی کی، نہ اس کا ارادہ فرمایا، نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی رغبت دلائی، لہٰذا مِنْ جَمِیْعِ الْوُجُوْہ اس کی نسبت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ختم ہو گئی۔ ‘‘

ابوعلی جبائی کا رد:

                ابوعلی جبائی کا کلام اس کی کم فہمی، تنگ نظری اور لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ دونوں مقامات پر سَیِّئَۃٌ اور حَسَنَۃٌسے بالترتیب اطاعت ومعصیت مراد نہیں بلکہ نعمت وآزمائش مراد ہیں اور یہ دونوں چیزیں بندوں کے افعال میں سے نہیں اور اَصَابَکَ کا لفظ ہماری اس بات پر دلیل ہے کیونکہ طاعت ومعصیت کے لئے اَصَابَنِیْ  (مجھے گناہ یا نیکی پہنچی)  نہیں بولا جاتا بلکہ اَصَبْتُہٗ  (یعنی میں نے گناہ یا نیکی کی)  کہا جاتا ہے، جبکہ نعمت وآزمائش کے لئے بولا جاتا ہے کہ مجھے نعمت پہنچی اور سیاقِ عبارت بھی اسی کی صراحت کرتا ہے، کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کا سببِ نزول یہ ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ منورہ میں تشریف لائے  تو منافقین اور یہودیوں نے کہا :  ’’ جب سے یہ شخص یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اس کے ساتھی آئے ہیں ، ہمیں اپنے پھلوں اور کھیتیوں میں مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔ ‘‘  اس طرح وہ نعمتوں کو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف منسوب کرتے تھے جبکہ آزمائش اور پریشانی کو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف منسوب کرتے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے انہیں ان کی فاسد باتوں کی خبر دی اور پھر اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ قُلْ کُلٌّمِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ۔ ‘‘

                پہلے افعال کا مصدرِ اصلی بیان فرمایا پھر ان کا سبب بتایا اور دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مخاطب کیا جبکہ مراد دیگر لوگ تھے اور ارشاد فرمایا کہ مَااَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ  یعنی تمہیں جو نعمت یعنی خوشی اور مدد وغیرہ ملی فَمِنَ اللّٰہِ  یعنی وہ محض اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے ملی ہے، کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّپر کسی کا کوئی حق نہیں وَمَااَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ یعنی تمہیں جو تنگدستی لاحق ہوئی وہ تمہارے نفس کی نافرمانی کی وجہ سے، حقیقتًایہ ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سے مگر نفس کے گناہ کے سبب اسے سزا دینے کے لئے ہے، جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ  (پ ۲۵، الشورٰی: ۳۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اورتمہیں جومصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جوتمہارے ہاتھوں نے کمایا۔

                حضرت سیدنا مجاہد کی حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م سے روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا نے اس آیتِ مبارکہ کو یوں پڑھا :  ’’  وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ- وَاَنَا کَتَبْتُھَا عَلَیْکَ ‘‘  یعنی تجھے جو مصیبت پہنچی وہ تیرے نفس کی وجہ سے ہے میں نے تو صرف اسے تیرے لئے لکھ دیا تھا۔

                حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ  عَزَّ وَجَلَّو علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  کا حکایت کردہ قول قرآن کریم میں بیا ن فرمایاگیا:

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِﭪ (۸۰)   (پ۱۹، الشعرآء: ۸۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اورجب میں بیمارہوں تووہی مجھے شفا دیتا ہے۔

                یعنی آپ علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  نے مرض کی اضافت اپنی طرف کی اور شفا کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف منسوب کیا اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے مرض کے خالق ہونے میں کوئی خرابی نہیں آتی بلکہ آپ علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  نے تو ادب کی بناء پر دونوں میں فرق کیا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف اچھی خصوصیت ہی منسوب کی جاتی ہے گھٹیا نہیں    ([1]) ۔لہٰذا یہ تو کہا جاتا ہے :  ’’ اے مخلوق کے خالق!  ‘‘  

جبکہ یہ نہیں کہاجاتاہے :  ’’ اے بندروں اور خنزیروں کے خالق!  ‘‘  یہ کہاجاتاہے :  ’’ اے زمین وآسماں کے مدبّر!  ‘‘  جبکہ یہ نہیں کہا جا تا :   ’’ اے جوؤں اورگبریلوں کے مدبّر!  ‘‘  اسی طرح حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  نے مرض کو اپنی طرف منسوب کیا اور شِفاء کی نسبت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی جانب فرمائی۔

 



[1] ۔۔۔۔ صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’بہار شریعت‘‘ میں فرماتے ہیں :’’  بُرا کا م کر کے تقدیر کی طرف نسبت کر نااور مشیّت الٰہی کے حوالہ کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ ’’جو اچھا کام کرے اسے منجانب اللہ  کہے اور جو بُرائی سرزد ہو اس کو شامت نفس تصور کرے ۔‘‘       (بہار شریعت،حصہ ۱،ص۶)



Total Pages: 320

Go To