Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی قَد ْرِیَہ کے بارے میں کچھ احادیث آئی ہیں جن کومعتزلہ پرمحمول کیا جا سکتا ہے اور اہلِسنت ان گمراہ اور بدعتی لوگوں کے اس قول سے بری ہیں کہ ’’ اہل سنت ہی قَد ْرِیَہ ہیں ۔ ‘‘

{67}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ، لہٰذا اگر وہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب،الحدیث:  ۵۵۸۸،ج۲،ص۳۸۹)

{68}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ، لہٰذا اگروہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو اور وہ دجال کا گروہ ہیں اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّان لوگوں کا حشر دجال کے ساتھ فرمائے گا۔ ‘‘

 (جامع الاحادیث، قسم الاقوال، الحدیث:  ۱۷۲۶۹،ج۵،ص۷۳)

{69}…رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عنقریب میری اُمت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ ‘‘      (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ  بن عمر،الحدیث: ۵۶۴۳،ج۲،ص۳۹۹)

مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہ کی مذمت:

{70}… حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں وہ  مُرْجِئَہ اور قَد ْرِیَہ ہیں ۔ ‘‘                                                                                                     (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۶۰۶۵،ج۴،ص۳۰۵)

{71}… حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں قیامت کے دن میری شفاعت حاصل نہ ہو گی وہ مُرْجِئَہ اور قَد ْرِیَہ ہیں ۔ ‘‘                                     (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۵۸۱۷،ج۴،ص۲۳۱،بدون ’’ یوم القیامۃ ‘‘ )

{72}… حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں جو میرے حوض پر نہ آسکیں گے اور نہ ہی جنت میں داخل ہوں گے وہ مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہہیں ۔ ‘‘                                                                            (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۴۲۰۴،ج۳،ص۱۶۶)

{73}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ میں چاہتا ہوں کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگونہ کیا کرو۔ ‘‘  ([1])                                      (تاریخ بغداد،من ذکر اسم محمدبن الحسن،الحدیث: ۶۰۸،ج۲،ص۱۸۵)

{74}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ میں چاہتا ہوں کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگونہ کیا کرو اورآخری زمانے میں میری اُمت کے برے لوگ ہی تقدیرکے بارے میں کلام کیا کریں گے۔ ‘‘

 (الکامل فی ضعفاء الرجال ، عبدالرحمن بن القطامی بصری، الرقم ۱۷۴ / ۱۱۴۱،ج۵،ص۵۰۵)

{75}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قَدْرِیَہ پر 70انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے لعنت کی گئی ۔ ‘‘                                                   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۷۱۶۲،ج۵،ص۲۳۰)

{76}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تقدیر کے منکروں کے پاس نہ بیٹھا کرو اور نہ ہی ان کے ساتھ کلام کی ابتدا کرو۔ ‘‘          (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث:  ۴۷۱۰،ص۱۵۶۹)

{77}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تقدیر کے بارے میں  کلام کرنے سے بچتے رہو کیونکہ یہ نصرانیت کا حصہ ہے۔ ‘‘               (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۱۱۶۸۰،ج۱۱،ص۲۰۹)

  {78}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قَدْرِیَہ اس اُمت کے مجوسی ہیں جب یہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کو نہ جاؤ اورجب مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث:  ۴۶۹۱،ص۱۵۶۷)

{79}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے اپنے بعد اپنی اُمت پر دو خصلتوں کا خوف ہے:   (۱) تقدیر کو جھٹلانے اور  (۲) ستاروں کی تصدیق کرنے کا۔ ‘‘



Total Pages: 320

Go To